021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کاانتخابات میں حصہ لینے کاحکم
..حکومت امارت اور سیاستدارالاسلام اور دار الحرب اور ذمی کے احکام و مسائل

سوال

موجودہ دورمیں کوئی عورت پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے؟اوراگرصرف خواتین کی مخصوص نشستوں پرپارٹی کی طرف نامزدگی ہوجس کے لئے باقاعدہ مہم نہ چلانی پڑتی ہو تواس صورت میں کیاحکم ہے؟مفصل جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔

o

حضرت حکیم الامت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حکومت کی تین قسمیں ہیں: ایک قسم وہ جوتام بھی ہو،عام بھی ہو۔تام سے مراد ہے کہ حاکم بانفرادہ خودمختارہو یعنی اس کی حکومت شخصی ہو اوراس کے حکم کے لئے کسی اورحاکم کی ضرورت نہ ہو،گواس کاحاکم ہونااس پرموقوف ہو۔ عام کامطلب ہے کہ اس کی محکوم کوئی محدود اورقلیل جماعت نہ ہو۔ دوسری قسم وہ ہے جوتام تو ہو مگرعام نہ ہو۔ تیسری قسم وہ ہے جوعام ہومگرتام نہ ہو۔ پہلی قسم کی مثال یہ ہے کہ کسی عورت کی سلطنت یاریاست بطرزشخصی ہو۔ دوسری قسم کی مثال یہ ہےکہ عورت کسی مختصرجماعت کی منتظم بلاشرکت ہو۔ تیسری قسم کی مثال کسی عورت کی سلطنت جمہوری ہو،اس میں والی اورحاکم کی حیثیت رکن مشورہ کی ہوتی ہےاوروالی حقیقی مجموعہ مشیروں کاہے۔ آگے حضرت لکھتے ہیں: حدیث کے الفاظ میں غورکرنے سے معلوم ہوتاہے کہ مراد حدیث میں پہلی قسم ہے۔۔۔۔۔۔۔ایسی ریاستیں جوآج کل زیرفرماں عورتوں کے ہیں،اس حدیث میں داخل نہیں،اس لئے اگراس کے محکومین کومختصر قراردیاجائے تب تووہ قسم ثانی ہے اوراگراس جماعت کومختصرقرارنہ دیاجائے جیساظاہربھی ہے تب بھی وہ درحقیقت جمہوری ہیں،یاتوظاہرابھی جہاں پارلیمنٹ کاوجودمشاہدہے اوریاصرف باطنا جہاں پارلیمنٹ تونہیں ہے،لیکن اکثراحکام میں کسی حاکم بالاسے جوصاحب سلطنت یانائب سلطنت ہومنظوری لیناپڑتی ہے پس اس طوروہ قسم ثالث ہیں۔(امداد الفتاوی104/5) اس تفصیل سے معلوم ہواکہ جمہوری طرزکی ایسی ریاست جہاں اختیارکسی ایک کے پاس نہ ہو،اورکوئی بھی حکم بغیراجتماعی مشورہ کی نافذنہ کیاجاسکتاہوتوایسی حکومت میں عورت کےرکن کی حیثیت سے شامل ہونے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے،البتہ جمہوری حکومت میں کوئی ایسامنصب یاعہدہ جس میں فرد واحدکومکمل انتظامی امورکااختیارحاصل ہو جیسے پاکستان میں وزیراعظم کاعہدہ ہے جوملک کی حکومت اورانتظامیہ کاخودمختار سربراہ کی حیثیت رکھتاہے،اپنی کابینہ کی تشکیل میں آزادوخودمختارہے اورتمام شعبوں اوروزارتوں کی کارکردگی کاذمہ دارہے،وہ اپنی کابینہ سے مشورہ کرتاہے،لیکن کابینہ کے کسی مشورہ کاپابندنہیں توایسے منصب کے امیدوار عورت نہیں بن سکتی ،کیونکہ حدیث میں اس پرشدیدوعیدآئی ہے۔ دوسری بات جس میں توجہ اورغورکی ضرورت ہے کہ اب اکثرممالک میں یہ سوچ تیزی سے پھیل رہی ہے کہ عورتوں کی حاضری کو سیاست میں یقینی بنانے کے لئے عورتوں کے لئے کچھ سیٹیں مقرر اورمختص کی جاتی ہیں اوریہ مخصوص تعداد میں سیٹیں رکھنا اکثرممالک میں قانون کادرجہ بن چکاہے توایسی صورت میں اگرمسلمان خواتین کواس کی اجازت نہ دی جائے تودیگراقوام کی خواتین ان سیٹوں پرمنتخب ہوکر مسلمانوں کی اجتماعی مفادات کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں،اس لئے اگران مخصوص حالات میں مسلمانوں کے وسیع تردینی وملی مفادات کی خاطرعورتوں کوانتخابات میں درج ذیل شرائط کے ساتھ حصہ بننے کی اجازت دی جانی چاہیے: (1) پردہ کامکمل انتظام کرے۔ (2) اشتہارات میں اپنی تصویردینے سے گریزکرے۔ (3)مردوں سے غیرضروی اختلاط سے بچنے کامکمل اہتمام کرے۔

حوالہ جات

۔
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔