021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت عدت وفات کہاں گذارے
..طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی میرے بھانجے سید انور شاہ فاضل دارالعلوم کراچی کے نکاح میں تھی ،مورخہ 20جولائ 2017 کو ان کا انتقال ہوگیا ۔ میری بیٹی کی کوئی اولاد نہیں ، ساس سسر کا بھی پہلے انتقال ہوچکا ہے ، گھر میں صرف شوہر کے بھائی اور ان کی اولاد ہیں ،ان کے علاوہ میری بیٹی کا کوئی محرم موجود نہیں ۔ اب میں کراچی آیا ہوں سوال یہ ہے کہ میری بیٹی عدت کہاں گذارے گی ؟ کراچی شوہر کے گھر میں یا اپنے ساتھ گاؤں لیجا سکتا ہوں وہیں عدت کے بقیہ ایام گذارے ۔

o

معتدہ کےذمہ شوہر کے رہائشی مکان میں عدت گذارنا واجب ہے ،اگر تنہائی کی وجہ سے جان ،مال یا عزت پر خطرہ ہو یا اکیلی ہونے کی وجہ سے سخت وحشت ہوتی ہو تو دوسرے کسی قریبی مکان میں عدت گذار سکتی ہے ۔ لہذا صورت مسؤلہ میں اگر واقعی ان کے ساتھ کوئی محرم موجود نہیں ہے جس سے ان کو عدت کے دوران سخت مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے اور کراچی میں دوسرا کوئی قریبی رشتہ دار لڑکی کا بھائی وغیرہ نہ ہو تو آپ اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ سوات لیجا سکتے ہیں ، البتہ وہاں جانے کے بعد اس کی پابندی رہے کہ عدت پوری ہونے تک گھر ہی میں رہے ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 536) (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه،
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔