021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عیب کی وجہ سے مبیع واپس کرنا
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کو ختم کرنے کے مسائل

سوال

میں نے اپنے بھائی سے بارہ لاکھ روپے(1200000)ایک جاپانی گاڑی خریدی تھی،جس کے کاغذات بھائی کے پاس ہی تھے ،اس نے میرے حوالے نہیں کیے تھے۔خریدنے کے بعد میں نے گاڑی میں کچھ کام کروایا مطلب کچھ اضافی پارٹس لگوائےاس دوران بھائی سے گاڑی کے کاغذات خراب ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے میرے لیے گاڑی کو آگے بیچنا مشکل ہو گیا ہےاور اس کی قیمت میں بھی فرق پڑ رہا ہے۔ برائے مہربانی آپ شریعت کی رو سے بتائیں کہ کیامیں اپنے بھائی کو اب گاڑی واپس کر سکتا ہوں؟ جب کہ میں گاڑی میں کام بھی کروایا ہے اور کاغذات بھی خراب ہو گئے ہیں؟

o

صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ نے گاڑی کی مرمت کروا کراس میں کچھ ایسے اجزاء(پارٹس)کا اضافہ کر دیا ہےجس کی وجہ سے آپ اس گاڑی کو واپس نہیں کر سکتے،البتہ آپ کے بھائی سے جو گاڑی کے کاغذات خراب ہوئے ہیں اس کی وجہ سے گاڑی کی قیمت میں جو کمی آئی ہے وہ آپ لے سکتے ہیں آپ کا بھائی اسے پورا کرنے کا ذمہ دار ہے۔بھائی پر لازم ہے کہ وہ آپ کو اتنی رقم ادا کرے ورنہ وہ سخت گناہ گار ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامۃالحصکفی رحمہ اللہ تعالی:(حدثعيبآخرعندالمشتري) بغيرفعلالبائع،فلوبهبعدالقبضرجعبحصتهمنالثمنووجبالأرشوأماقبلهفلهأخذهأوردهبكلالثمنمطلقا. قال العلامۃابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:قوله(فلوبه) أيبفعلالبائعومثلهالأجنبي،وقولهبعدالقبضيغنيعنهقولالمصنفعندالمشتريلكنهصرحبهليقابلهبقوله: وأماقبلهفافهم (قولهرجعبحصته) أيحصةالعيبالأولوامتنعالردبحر (وقولهووجبالأرش) أيأرشالعيبالحادثبفعلالبائع،فحينئذيرجععلىالبائعبشيئين: الأولحصةالعيبالأولمنالثمنوالثانيأرشالعيبالثانيطولوكانالعيبالثانيبفعلأجنبيرجعبالأرشعليه (الدرالمختاروحاشيةابنعابدين:5/ 16) وفی الفتاوىالهندية:وإذاحدثعندالمشتريعيببآفةسماويةأوغيرهماثماطلععلىعيبكانعندالبائعفلهأنيرجعبنقصانالعيبوليسلهأنيردالمبيعإلاأنيرضىالبائعأنيأخذهبعيبهالحادثعندالمشتريفلهذلك،اللهمإلاأنيمتنعأخذهإياهلحقالشرعكذافيفتحالقديروكيفيةالرجوعبنقصانالعيبأنيقومالمبيعولاعيببهويقوموبهذلكالعيبفإنكانتفاوتمابينالقيمتينالنصففالمشترييرجععلىالبائعبنصفالثمن. (3/ 83) (المادة 345) لوحدثفيالمبيععيبعندالمشتريثمظهرفيهعيبقديم ; فليسللمشتريأنيردهبالعيبالقديمبللهالمطالبةبنقصانالثمنفقط , مثلا: لواشترىثوبقماشثمبعدأنقطعهوفصلهبرودااطلععلىعيبقديمفيهفبماأنقطعهوتفصيلهعيبحادثليسلهردهعلىالبائعبالعيبالقديمبليرجععليهبنقصانالثمنفقط. (المادة 346) : نقصانالثمنيصيرمعلومابإخبارأهلالخبرةالخالينعنالغرضوذلكبأنيقومذلكالثوبسالماثميقوممعيبافماكانبينالقيمتينمنالتفاوتينسبإلىالثمنالمسمىوعلىمقتضىتلكالنسبةيرجعالمشتريعلىالبائعبالنقصان (مجلةالأحكامالعدلية:ص: 67)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔