03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیمیائی طریقے سے صاف کیے گئے (انڈسٹری کامستعمل ،سیوریج اور خلائی شٹل کے)پانی کا حکم(ریسائکلنگrecycling)
60604پاکی کے مسائلپانی کے مسائل

سوال

درج ذیل ری سائیکل شدہ پانی کے متعلق شرعی احکامات مطلوب ہیں:

  1. انڈسٹری کا مستعمل پانی:

اس میں مختلف کیمیائی اجزاء استعمال ہوتے ہیں، جن میں سے بعض زہریلے بھی ہوتے ہیں۔بعض ایسی بھی انڈسٹریز ہوتی ہیں، جن میںمستعمل پانی میں زہریلے اجزاء تو نہیں ہوتے، البتہ ان میں انڈسٹریل گندگی جيسے فرش دھونے اور مشينيوں كی دهلائی وغیرہ کی آلودگی شامل ہوتی ہے، نیز بعض اوقات ان میں ناپاک اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں، لیکن یہ اجزاء بہت کم مقدار میں ہوتے ہیں، کیمیائی طریقے سے اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اس پانی کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کو استعمال کرنا جائز ہے؟

  1. سیورج کا پانی:

یہ ایسا مستعمل پانی ہے جس میں انسانی فضلہ بھی شامل ہوتا ہے، یا سادہ الفاظ میں گٹروں کا استعمال شدہ پانی، جس میں برتن اور کپڑے وغیرہ دھونے کے ساتھ ساتھ باتھ روم اور ٹوائلٹ کاا ستعمال شدہ پانی اور غلاظت بھی شامل ہوتی ہے۔جدید دور میں ایسی مشینیں اور فلٹرز آچکے ہیں جو ان تمام قسم کے پانیوں کو بالکل ایسے صاف کر دیتے ہیں کہ ان کا معیار پینے کے عام پانی کے مطابق ہوجاتا ہے، ایسے ری سائیکل شدہ پانی کا حکم کیاہے؟

  1. خلائی شٹل کا پانی:

خلائی شٹل جو کہ خلابازوں کو خلا میں لے کرجاتی ہے، اس میں پانی کی بہت مناسب مقدار ساتھ بھیجی جاتی ہے، لیکن اگر کبھی خلابازوں کو خلا میں زیادہ دن گزارنے پڑ جائیں تو پانی بھیجنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوتی اور نہ ہیخلا میں پانی دستیاب ہوتا ہے۔اگراضافی پانی بھیجا جائےتو ایک لیٹر پانی پر دس لاکھ ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور اس کو خلائی شٹل کے بغیر نہیں بھیج سکتے، اس مسئلہ کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ خلائی شٹل میں ایک ایسا مشینی یونٹ لگا دیاجاتا ہے، جس میں خلا باز اپنا پیشاب یا استعمال شدہ پانی ڈالتے رہتے ہیں، وہ مشینی یونٹ مختلف فلٹرز اور کیمیائی تعاملات کے ذریعہ اس استعمال شدہ پانی کو پھر سے بعینہ عام صاف پانی کیطرح بنا دیتا ہے۔واضح رہے کہ اس عمل میں نہ ہی صاف اور پاک پانی کی ملاوٹ کی جاتی ہے اور نہ ہی پانی کے جاری کرنے کا عمل پایا جاتا ہے۔ لہذا ایسے پانی کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوالات كے جوابات سے پہلے بطور تمہید چند باتیں ملاحظہ فرمائیں:

1۔کیمیائی عمل کے ذریعہ  پانی صاف کرنے کا طریقۂ کار

ایک فیکٹری (Liberty Mills Limited, SITE Inddustrial Area, Karachi) کے ساتھ لگے ہوئے  ناپاک پانی کو ریسائیکل کرنے والی ایک کمپنی (Abamet Environmental Technologies Pakistan) کے پلانٹ  (Wastewater Treatment Plant) کا باقاعدہ مشاہدہ کیا گیا اور اس کے انجینئر جناب منصور صاحب سے  تفصیلی گفتگو ہوئی، جس کے نتیجہ میں  جو معلومات موصول ہوئیں   ان کا حاصل  یہ ہے:

فیکٹری میں پاک پانی (Process wastewater) میں ناپاک پانی (Wastewater from Urinator, Sewage, Washbasin, Shower) کا تناسب تقریباً  دو فیصد (2%) یا  اس سے کم ہوتا ہے ،  جبکہ بقیہ اٹھانوے فیصد (98%) پانی پاک ہوتا ہے ، کیونکہ تقریباً اٹھانوے فیصد (98%)پانی فیکٹری   میں استعمال ہو کر مختلف مراحل سے گزر کر آرہا ہوتا ہے ، اگرچہ  اس کا رنگ وغیرہ تبدیل ہو چکا ہوتا ہے، لیکن عموماً شرعی  نقطۂ نظر سے  یہ پانی پاک ہوتا ہے۔ اور بقیہ  دو فیصد (2%) پانی ناپاک ہوتا ہے ، اس تمام پانی کے مجموعے کو  پاک اور صاف کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزاراجاتا ہے:

مرحلہ نمبر۱:  Preliminary Treatment

اس مرحلے میں دونوں قسم کے پانیوں کا مجموعہ ایک  جالی سے گزرتا ہے جس کی وجہ سے پانی میں موجود بڑی اشیاء جیسے کاغذ، لکڑی، کپڑوں   اور پلاسٹک وغیرہ  کے ٹکڑے نکل جاتےہیں ۔

مرحلہ نمبر۲: Chemical Treatment

اس مرحلہ میں  پانی میں مختلف قسم کے کے کیمیکلز ڈالے جاتے ہیں،  تاکہ   پانی میں پھیلی ہوئی آلودگی کو ختم کیا جا سکے۔اس مرحلہ میں پانی کی رنگت  قدرے صاف ہو جاتی ہے۔

In this Chemical Treatment, Various Chemicals (Coagulants – Alum, Lime, FeCl3/Fe2SO4 and Anionic Polymers) are added/dosed in the wastewater to remove chemically separable pollution/impurities by precipitation. This step may also remove / reduce color from the wastewater.

مرحلہ نمبر۳:  Primary Clarification

یہاں پانی ایک  چھوٹے  تالاب  میں جمع ہو کر  بڑے تالاب میں جاتا ہے، اس مرحلہ میں پانی میں موجود  باریک اشیاء  اور  ذرات نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور تقریباً تیس سے ساٹھ فیصد تک آلودگی ختم ہو جاتی ہے۔

The chemically precipitated flocs are then come into this Primary Claficiation Tank where heavier precipates/particals settle down and are removed from the wastewater and at this stage pollution/impurities removal is achieved approximately between 30% - 60%.  

مرحلہ نمبر۴: Biological Treatment 

 یہاں پانی ایک بڑے تالاب میں جمع ہوتا ہے ، اس تالاب  کی پیمائش ایک بڑے حوض  (جس کی مقدار چالیس ہاتھ مربع یعنی  مجموعی مقدار۹ء۲۰ میٹر ہو ) سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں پانی میں بہت چھوٹے چھوٹے کیڑے(Bugs/Bacteria) ڈالے جاتے ہیں، جو پانی میں موجود آلودگی کو ختم (Decompose) کرتے ہیں۔

The wastewater from Chemical Sedimentation/Primary Clarification is received into Biological Aeration Tank. In this Aeration Tank, Biomass (bacetia) are grown which decompose/breakdown the remaining pollution by fermentation and other biological activities.

مرحلہ نمبر۵: Secondary Clarification

   یہاں یہ بیکٹیریا نیچے بیٹھ جاتے ہیں، ان میں سے ستر فیصد بیکٹیریا کو واپس پچھلےبڑے تالاب میں بھیج دیاجاتا ہے اور بقیہ تیس فیصد کوختم کرنے کے لیے ‘’Sludge Treatment Plant’’  میں بھیج دیاجاتا ہے۔

The Biomass or Biological Sludge is then settles down in this step Seconary Clarifier and a certain percentage is send back to the Aeration Tank for keeping the Biomass concentration in the Aeration Tank and remaining/excess Biomass is removed by pumps and sent to the Sludge Holding Tank where the sludge is compressed by dewatering machine for easily disposal to disposal facility.       

مرحلہ نمبر۶:  Disinfection

اس مرحلے تک بعض کیڑے (بیکٹیریا)جو پانی میں باقی بچ جاتے ہیں ان کو کیمیکل کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے۔یہاں پہنچ کر  پانی سے نجاست کا اثر تقریباً ختم ہو جاتا ہے اور  پانی کے دو وصف بُو اور ذائقہ قدرتی پانی کی طرح ہو جاتے ہیں، البتہ  پانی کی  رنگت  میں کچھ میلاپن باقی  ہوتا ہے۔

   Disinfection is an Optional Step, by opting this step, the bacteria or other living organisms are killed and the treated wastewater is almost free from any bacteria/living organisms.

مرحلہ نمبر۷: Return Water to Waterways

   اس مرحلہ میں پانی   بالکل صاف ہو چکا ہوتاہے اور یہ پانی دیکھنے میں قدرتی پانی کی طرح ہوتا ہے، البتہ اس پانی کو پینے کے لیے استعمال نہیں کیا  جا سکتا،  پینے کے قابل بنانے کے لیے اس  کو  مزید مراحل سے گزارنا پڑتا ہے اور اس میں  مِنرلز"minerals" ڈالے جاتے ہیں، تاکہ  یہ پانی  غذایئت کے اعتبار سے بھی قدرتی پانی کی طرح ہو جائے، کیونکہ ریسائیکل  شدہ پانی  میں غذائیت  تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

Till this step the treated wastewater is so far clean for Disposal to Environment/Municipal Drain. This water is suitable for Floor Washing, Gardening or some other purpose. But for Recycling/Reuse in Process, further treatment is required which is called Recycling Plant which consists of Filtration+Ultrafiltration+Reverse Osmosis Plant. After this Recycling Stage the Color, Taste, Odor all are same as of Drinking Water/Mineral Water and the water is suitable for Process/Recycling and drinking (by adding some minerals in it).

واضح رہے کہ پلانٹ کے مشاہدہ کے نتیجہ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ تمام مراحل میں پانی مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف رواں دواں اور جاری رہتا ہے اور ہر مرحلہ میں کیے جانے والے کیمیائی عمل سے گزرنے کے بعد اگلے مرحلہ میں جا رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ جب آخری مرحلہ میں پہنچتا ہے تو قدرتی پانی کی سی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے، اور پانی میں نجاست کا کوئی اثرظاہر نہیں ہوتا، يہاں تک کہ ریسائیکل شدہ پانی اور قدرتی پانی  دونوں رنگ، بُو اور ذائقہ کے اعتبار سے ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں، منسلکہ کاغذات میں تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔

2۔ مذاہب ِ اربعہ کی روشنی میں  ناپاک پانی کی تطہیر کا طریقہ

پانی میں اصل طہارت ہے ۔نجاست اس کو عارض ہوتی ہے۔چنانچہ  ایک حدیث   شریف میں   حضور ﷺ نے فرمایا: (الماء طهور، لا ينجسه شئی) یعنی  پانی پاک ہے، اس کو کوئی شئی ناپاک نہیں کر سکتی۔([1])اس حدیث  سے معلوم ہوا کہ  پانی  کی اصل  صفت پاکی ہے، البتہ بعض اوقات اس کو نجاست عارض ہو جاتی ہے، اس نجاست کے اثر کو دور کرنے کے بعد پانی کی صفت اصلیہ دوبارہ  واپس لوٹ آتی ہے  اور پانی پاک ہو جاتا ہے،  چنانچہ علامہ عبد الرحمن بغدادی رحمہ اللہ مالکیہ کے مشہور متن”إرشاد السالك (/18)”میں  فرماتے ہیں:

وإذا مات بري ذونفس سائلة في بئر، فإن تغير وجب نزحه حتى يزول التغير، فإن زال بنفسه فالظاهر عوده إلى أصله.

ترجمہ:جب کنویں میں  خشکی میں رہنے والا کوئی ذی روح جس میں بہنے والا خون ہو ،مر جائے۔تو اگر (پانی )تبدیل ہو جائے تو اس متغیر شدہ پانی کو نکال دیا جائے یہاں تک کہ تغیر ختم ہو جائے۔اگر یہ تغیر خود بخود ختم ہو جائے تو ظاہر یہ ہے کہ پانی اپنی اصلی حالت(طہارت) کی طرف لوٹ آئے گا۔

اس لئے مذاہبِ اربعہ کے  فقہا ئے کرام رحمہم اللہ تعالی نے پانی کے ناپاک ہونے کی جو علت بیان فرمائی ہے وہ  اس میں کسی نجس چیز کا ملنا ہے،اسی لیے تقریباً چاروں مذاہب کے فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالی کا اس پر اتفاق ہے کہ پانی نجس نہیں ہوتا، بلکہ متنجس ہوتا ہے،یعنی اس کی نجاست ذاتی نہیں ہوتی، بلکہ نجاست کی وجہ سےيہ ناپاک ہوتا  ہے،لہذا اگرایسے پانی سے نجاست  کا اثر ختم  کر دیا جائے، جس کامعیار فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالی نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ  اس کا رنگ ،بو اورذائقہ پاک پانی کی طرح ہو جائے تو پانی پاک ہو جائےگا۔

باقی جہاں تک ناپاک پانی کوپاک کرنے کے طریقہ کا تعلق ہے  تو مذاہبِ اربعہ کی روشنی میں اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:

مذہبِ حنفی:

  حنفیہ  کے نزدیک پانی کی تین قسمیں ہیں:

اوّل: پہلی قسم یہ کہ پانی قلیل ہو، جس کی حد فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کے راجح قول کے مطابق یہ ہے کہ اس کی مقدار بڑے حوض (جس کی پیمائش  چالیس مربع ہاتھ یعنی جس کا مجموعی رقبہ ۲۲۵ فٹ  = ۹ء۲۰ میٹرہو، بحوالہ احسن الفتاوی  ج:۲ص:۴۵) میں موجود پانی کی مقدار سے کم ہو۔اس پانی کا حکم یہ ہے کہ اس کے ناپاک ہونے کے لیے نجاست کا اثر ظاہر ہونا ضروری نہیں، بلکہ نجاست کےوقوع کا یقین ہونا کافی ہے۔

دوم: دوسری قسم یہ کہ پانی کثیر ہو، یعنی اس کی مقدار بڑے حوض(جس کا مجموعی رقبہ ۲۲۵ فٹ   ہو) میں موجود پانی کی مقدار کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ ایسے پانی کا ناپاک ہونا نجاست کا اثر ظاہر ہونے پر موقوف ہے، لہذا جب تک پانی میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو، یعنی پانی کے اوصافِ ثلثہ(رنگ، بُو اور ذائقہ) میں کوئی وصف نہ بدلے اس وقت تک پانی پاک شمار ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 18) دار الفكر، بيروت:

وعن أبي يوسف رحمه الله أن الغدير العظيم كالجاري لا يتنجس إلا بالتغير من غير فصل هكذا في فتح القدير۔

سوم: تيسری قسم یہ کہ پانی جاری ہو، خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر۔  پانی کے جاری ہونے کی حد میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے فرمایا جو پانی بھوسہ اور پتوں وغیرہ کو بہا کر لےجائے وہ جاری ہے، جبکہ راجح قول یہ ہے کہ جس پانی کو لوگ جاری ہونا سمجھیں اس پر جاری ہونے کا حکم لگے گا۔ اس کا حکم بھی کثیر پانی کی طرح ہے، یعنی جب تک  اوصافِ ثلاثہ(رنگ، بُو اور ذائقہ) میں سے کوئی وصف نہ بدلے  اس وقت پاک سمجھا جائے گا، اگرچہ وہ پانی قلیل ہی ہو، چنانچہ عبارات ملاحظہ فرمائیں:

الفتاوى الهندية (1/ 16) دار الفكر، بيروت:

الأول: الماء الجاري وهو ما يذهب بتبنه كذا في الكنز والخلاصة وهذا هو الحد الذي ليس في دركه حرج هكذا في شرح الوقاية وقيل ما يعده الناس جاريا وهو الأصح كذا في التبيين وفي النصاب والفتوى في الماء الجاري انه لا يتنجس ما لم يتغير طعمه أو لونه أو ريحه من النجاسة كذا في المضمرات۔

بدائع الصنائع (1/ 87)، دار الكتاب العربي، بیروت:

ومنها تطهير الحوض الصغير إذا تنجس واختلف المشايخ فيه  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  قال الفقيه أبو جعفر الهندواني إذا دخل فيه الماء الطاهر وخرج بعضه يحكم بطهارته بعد أن لا تستبين فيه النجاسة لأنه صار ماء جاريا ولم يستيقن ببقاء النجس فيه وبه أخذ الفقيه أبو الليث۔

المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة (1/ 98)

في الحوض الصغير  إن كان يدخل فيه الماء من جانب ويخرج من جانب يكون هكذا لأن هذا ماء جار، والماء الجاري يجوز التوضؤ به وعليه الفتوى.

باقی جاری پانی کے پاک ہونے کی کئی وجوہ ہیں: ایک یہ کہ احادیث ِمبارکہ میں جاری پانی میں نجاست موجود ہونے کے باوجود اس کو پاک کہا گیا ہے، چنانچہ بیرِ بضاعة  (جس میں ناپاک کپڑے اور دیگر نجس چیزیں بھی ڈالی جاتی تھیں) کے  پانی كےبارے میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز نجس نہیں کر سکتی۔[2]

دوسری وجہ یہ کہ جاری پانی میں ایک جگہ نجاست ٹھہرتی نہیں، بلکہ پانی کے ساتھ بہتی چلی جاتی ہے، لہذا جب ایک جگہ نجاست گِرے گی تو وہ فوراً وہاں سے بہہ کر دوسری جگہ چلی جائے گی،چنانچہ صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

الهداية شرح البداية (1/ 36)، مكتبة رحمانية، لاهور:

والماء الجاري إذا وقعت فيه نجاسة جاز الوضوء منه إذا لم ير لها أثر لأنها لا تستقر مع جريان الماء والأثر هو الرائحة أو الطعم أو اللون والجاري مالا يتكرر استعماله۔

قال الشیخ اللکھنوی تحت هذه العبارة: أي إذا سال الماء منها إلى النهر فإذا أخذه ثانيا لا يكون  فيه شيئ من الماء الأول۔

تيسری وجہ یہ کہ چونکہ جاری پانی میں نجاست کو ایک جگہ قرار نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سےکسی بھی جگہ کے بارے میں  یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں نجاست موجود ہے، اس لیے ہر جگہ نجاست کی موجودگی میں شک پیدا ہو جاتا ہے اور شک کی وجہ سے پانی پر ناپاکی کا حکم نہیں لگتا۔چنانچہ علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حاشية ابن عابدين (1/ 195) ایچ ایم سعید:

(قوله: المختار طهارة المتنجس بمجرد جريانه)أي بأن يدخل من جانب ويخرج من أخر حال دخوله وإن قل الخارج ،بحر۔قال ابن الشحنة لأنه صار جاريا حقيقة وبخروج بعضه وقع الشك في بقاء النجاسة فلا  تبقى مع الشك اهـ

مذکورہ بالا تینوں قسم کا پانی جب ناپاک ہو جائے تو اس کو پاک کرنے ميں درج ذيل تفصيل ہے:

1۔قلیل پانی کو پاك کرنے کا طریقہ:

  ماء قليل يعنی وه پانی جس  کی مقدار بڑے حوض ميں موجود پانی کی مقدار  سے کم ہو، اس  کو پاک کرنے کے تین طریقے ہیں:

اوّل:ناپاک پانی میں پاک پانی   ڈال کر اس کو جاری کر دیا جائے  تو پانی پاک ہو جائے گا اور اس کی  دو وجہیں بیان کی گئی ہیں: ایک یہ کہ  وہ پانی جاری ہو گیا۔دوسری یہ کہ پاک پانی کی ملاوٹ ہونے کی وجہ سے شک پیدا ہو گیا کہ کون سے حصے میں نجاست موجود ہے؟

دوم : ناپاک پانی میں پاک پانی کا اس قدر اضافہ کر دیا جائےکہ پانی کی مقدار   بڑے حوض کے بقدر ہو جائے، اس كے پاك ہونے کی وجہ بھی در اصل یہی ہے کہ یہ کثیر ہونے کی وجہ سے جاری پانی کی طرح ہو گیا۔

سوم:ناپاک پانی زمین میں جذب ہو کر دوسری جگہ سے نکل آئے اور اس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو ۔

2۔کثیر پانی کو پاك کرنے کا طریقہ:

ماء کثیر یعنی وہ پانی جس  کی مقدار بڑے حوض کے برابر یا اس سے زیادہ  ہو اس میں نجاست ملنے  کی وجہ سے پانی کا کوئی وصف تبدیل ہو جائے تو اس کی تطہیر کے دو طریقے ہیں :

اول: ناپاک پانی زمین میں جذب ہو کر دوسری جگہ سے نکل آئے اور اس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو ۔

دوم: ناپاک پانی میں  پاک پانی  کا اس قدر اضافہ کر دیا جائے کہ  ناپاک پانی کا رنگ ،بُو اور ذائقہ  تبدیل ہو کر پاک پانی کی طرح ہو جائے تو نجاست کی وجہ سے واقع شدہ تبدیلی کے زائل ہونے کی بناء پر پانی پاک شمار ہوگا، چنانچہ "المحیط البرہانی" کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

                                                           المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة (1/ 83)

ولا يحكم بتنجسه لوقوع النجاسة فيه ما لم يتغير طعمه أو لونه أو ريحه، وبعدما تغير أحد هذه الأوصاف وحكم بنجاسته لا يحكم بطهارته ما لم يزل ذلك التغير بأن يزاد عليه ماء طاهر حتى يزيل ذلك التغير، وهذا لأن إزالة عين النجاسة عن الماء غير ممكن، فيقام زوال ذلك التغير الذي حكم بالنجاسة لأجله مقام زوال عين النجاسة.

مزید عبارات حوالہ جات (۱تا۵)  میں ملاحظہ فرمائیں۔

3۔جاری پانی كو پاک کرنے کا طریقہ:

ايسا پانی جو جاری ہو، خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر۔اس کو پاک کرنے بھی وہی دو طریقے ہیں جوکثیر پانی کو پاک کرنے کی بحث میں گزر چکے ہیں۔

مذکورہ بالا طریقوں پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جاری پانی اور  کثیر پانی کے پاک ہونے کا دارومدار فقہائے احناف رحمہم اللہ کے ہاں اثرِ نجاست یعنی اس تغیر کے زائل کرنے پر ہے جو اس میں نجاست ملنے سے پیدا ہوا ہو، چنانچہ ایسی صورت میں پانی  میں نجاست کا جوہر باقی ہونے کے باوجود   لوگوں کی سہولت اور دفعِ حرج کے پیشِ نظر  اسے شرعا ًپاک شمارکرلیا گیا ہے،  جیسا کہ" المحیط البرہانی" کی درج ذیل عبارت  میں موجود ہے :

المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة (1/ 90):

يجب أن يعلم أن الماء الراكد إذا كان كثيراً فهو بمنزلة الماء الجاري لا يتنجس جميعه بوقوع النجاسة في طرف منه إلا أن يتغير لونه أو طعمه أو ريحه. على هذا اتفق العلماء وبه أخذ عامة المشايخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الماء النجس يطهر بالاختلاط بالماء الطاهر، ألا ترى أن الماء الراكد في النهر إذا تنجس فنزل من أعلاه ماء طاهر وأجراه وسيّله فلا يطهر، وإنما يطهر باختلاط بالماء الطاهر، وبورود الماء الطاهر عليه فكذا هنا ما بقي من الماء طاهراً وارداً على ما تنجس توسعة الأمر على الناس.

البتہ قلیل پانی كو پاك كرنے كے مذكوره طريقوں سے يہ معلوم ہوتا  ہے کہ ایسے پانی کے پاک ہونے کے لیے اس کا جاری ہونا یا جاری پانی کے حکم میں ہونا ضروری ہے،  لیکن فقہائےکرام  رحمہم اللہ کی عبارات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ اس میں بھی اصل علت جاری ہونا نہیں، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق صرف ناپاک پانی کا جاری ہونا اس کے پاک ہونے کی علت نہیں، بلکہ ناپاک اور پاک دونوں کے مجموعہ کے جاری ہونے سے ضرورت کی بناء پر پاک ہونے کا حکم لگایا گیا ہے، ورنہ اگر صرف ناپاک پانی کو بہادیا جائے تو حنفیہ میں سے کسی بھی فقیہ کے نزدیک پانی پاک نہیں ہوتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ  ایسے پانی کے حوالے سے بھی  صرف جاری ہونے کو علتِ تطہیر نہیں قرار دیاجا سکتا، بلکہ اصل علت نجاست کے اثر کا زائل  ہونا ہے۔

اس كی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حنفیہ کی کتب میں پانی کے علاوہ دیگر مائع چیزوں کے حوالے سے بعض نظائر ایسی ملتی ہیں جن میں قلیل و کثیر کا فرق کیے بغیر مطلقا ًنجاست کا اثر ختم کر دینے کو پاکی کا حکم لگانے کے لیے کافی قرار دیا گیا،چنانچہ نظائر ملاحظہ فرمائیں:

  • ۔اگر دودھ یا شہد میں کوئی ناپاک چیز گر جائے تو اس میں  تین مرتبہ    دودھ یا  شہد کی مقدار کے برابر پانی ڈال کر اس طرح جوش دیا جائے کہ   صرف   اصل دودھ یا شہد  کی مقدار  باقی رہ جائے تو  وہ پاک ہو جائے گا۔

۲۔ اگر مائع گھی  میں چوہا گر جائےاور  مر جائے تو  اُسے کسی ایسے برتن میں ڈال دیا  جائے کہ جس میں پانی ڈال کر گھی کو  پانی سے  الگ کیا جا سکتا ہو  تو تین مرتبہ یہ  عمل دہرانے سے گھی پاک ہو جائے گا اور فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے:"وهذا لأن تطهير السمن بالماء ممكن"۔یعنی گھی کی پاکی بغیر کسی اور مزیلِ نجاست کے صرف   پانی کے ذریعے ممکن ہے۔ اور یہی مفتیٰ بہ قول ہے، (دیکھیے عبارات:17تا 19)

مذکورہ بالا نظائر میں یہ بات مشترک ہے کہ ناپاک گھی، دودھ اور شہد سے صرف ناپاکی کا اثر ختم کیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر اس کو پاک کہا گیا ہے۔

مذکورہ بالا بحث و دلائل سے یہ نتیجہ نکلتا ہےکہ اگر ناپاک پانی سے کسی  کیمیائی عمل کے ذریعہ ناپاک اجزاء کا اثر ختم کر دیا جائے، جیسے ریسائیکلنگ کا عمل ہوتا ہے اور اس کا رنگ ،بو اور ذائقہ قدرتی پانی کی طرح ہو جائے تو ضرورت  اور لوگوں کی سہولت کی بناء پر اس کو بھی پاک شمار کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔باقی حنفی فقہائے کرامؒ  کی عبارات میں بالخصوص پانی سے متعلق   نجاست کا اثر زائل کرنےکے باوجود پاکی  کا حکم   نہ  لگانے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس زمانے میں ایسے  طریقے موجودنہیں تھے  کہ جن کے ذریعےنجاست کا اثر مکمل طور پر دور کیا جا سکتا ہو۔

مذہبِ مالکی:

فقہائے  مالکیہ  رحمہم اللہ کے نزدیک بھی پانی کی تطہیر کا  یہی طریقہ ہے۔البتہ ان کی کتب میں  پانی کے کم یا زیادہ ہونے کی تفصیل مذکورنہیں، کیونکہ ان کے نزدیک جب تک پانی کے اوصاف میں سے کوئی وصف نہ بدلے پانی پاک رہتا ہے،خواہ پانی کم ہو یا زیادہ۔ (دیکھیے عبارت:5،6) نیز مالکیہ کی بعض کتب میں ایک تیسرا طریقہ یہ بھی ملتا ہے کہ ناپاک پانی میں خشک یا گیلی مٹی ڈالنے سے اگر تغیر زائل ہو جائے تو بھی پانی پاک ہوجائے گا، جیسا کہ’’حاشيۃ الدسوقی على الشرح الكبير‘‘(۱/ ۱۷۴)میں مذکور ہے:

فإنه إذا حلت فيه نجاسة وغيرته يمكن تطهيره بصبّ ماء مطلق عليه قليل أو كثير حتى  يزول التغير أو بصب تراب أو طين فيه حتى يزول التغير۔

ترجمہ: جب پانی میں نجاست واقع ہو جائے اور اس کے اوصاف کو تبدیل کر دے تو اس کو پاک پانی (کم ہو یا زیادہ)  ڈالنے یا خشک یا گیلی مٹی ڈالنے کے ذریعہ پاک کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ پانی میں واقع شدہ تبدیلی زائل ہو جائے۔                   البتہ مٹی کے ذریعہ پانی کو پاک کرنے میں فقہائے مالکیہؒ کا اختلاف ہے، بعض نے استحسان کی بنیاد پر پاکی کا حکم لگایا، جبکہ دیگر بعض حضرات نے ناپاک رہنے کو راجح قرار دیا ہے، بعض حضرات نے فرمایا کہ اگر مٹی کا رنگ، بُو اور  ذائقہ پانی میں ظاہر نہ ہو تو پاک،  ورنہ دونوں وجوہ کا احتمال ہوگا اور اس صورت میں بعض نے استصحابِ حال کی بناء پر ناپاکی کا قول اختیار کیا ہے، عبارت ملاحظہ فرمائیں:

مواهب الجليل لشرح مختصر الخليل (1/ 118):

أن الماء إذا تغير بالنجاسة ثم زال تغيره فلا يخلو إما أن يكون بمكاثرة ماء مطلق خالطه أم لا فالأول طهور باتفاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وأما إن زال تغيره بإلقاء تراب فيه أو طين فقال في الطراز إن

لم يظهر فيه لون الطين ولا ريحه ولا طعمه وجب أن يطهر لزوال التغير وإن ظهر أحد أوصاف الملقى فالأمر محتمل ولم يجزم فيه بشيء قال ابن الإمام والأظهر النجاسة عملا بالاستصحاب.

بہرحال اگرچہ مذکورہ صورت میں اختلاف ہے، لیکن ضرورت کی بناء پر بعض حضرات کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

مذہبِ شافعی:

حضراتِ  شوافع رحمہم اللہ کے نزدیک پانی کی تین قسمیں ہیں، جن کی تفصیل  یہ ہے:

  1. دو قلوں كی مقدار سے زياده پانی:

اگر پانی دو قلے (ایسےمٹکے جو پانچ ،چھ مشکیزوں کے برابر ہوں، آج کے حساب سے ان کی مقدارتقریباً 204ليٹر بنتی ہے) ہو  اور ان میں نجاست کی وجہ سے تغیر پیدا ہو جائے  تواس کی پاکی کے  درج ذیل چارطریقے ہیں:

 اول:  ناپاک پانی  میں پاک پانی ڈال کر اس کا تغیر ختم کر دیا جائے ۔

دوم  : پانی کو اپنی حالت پر چھوڑا جائے، یہاں تک کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا تغیر خود بخود زائل ہو جائے۔

سوم  : نجاست گرنے کی جگہ سے اتنا پانی باہر نکال دیا جائے کہ جس سے تغیر زائل ہو جائے اور بقیہ پانی دو قلوں کی مقدار کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔

 چہارم:پانی  میں مٹی یا چونا ڈال کر اس کےتغیر کو ختم کر دیا جائے۔عبارت ملاحظہ فرمائیں:

المجموع شرح المهذب (1/ 132) :

إذا زال تغير الماء النجس وهو أكثر من قلتين نظر ان زال باضافة ماء آخر إليه طهر بلا خلاف سواء كان الماء المضاف طاهرا أو نجسا قليلا أو كثيرا وسواء صب الماء عليه أو نبع عليه وان زال بنفسه أي بأن لم يحدث فيه شيئا بل زال تغيره بطلوع الشمس أو الريح أو مرور الزمان طهر أيضا على المذهب وبه قطع الجمهور۔

چوتھے طریقہ  میں اگرچہ فقہائے  شافعیہ  رحمہم اللہ  کے دو قول ہیں اور دونوں کو اصح کہا گیا ہے، جیسا کہ " المجموع شرح المہذّب" میں مذکور ہے، لیکن علامہ شیرازی رحمہ اللہ (المتوفى : 476ھ) نے " المہذّب " میں ’’حرملہ‘‘ (يہ مشہور محدث اور فقیہ امام ابو عبدالله حرملہ بن یحی، المتوفى:244ھ کی کتاب ہے، اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کے اقوالِ فقہیہ اور ان کا مذہب ذکر کیا گیا ہے، مصنف کے نام کی وجہ سے کتاب کا نام حرملہ رکھا گیا ہے) کے حوالہ سے پاک ہونےکو اصح کہا ہے، لہذا ضرورت کے پیشِ نظر اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، عبارت ملاحظہ فرمائیں:

المهذب (1/ 6) للشيرازي (المتوفى : 476 هـ)

فصل في كيفية تطهير الماء النجس  إذا أراد تطهير الماء النجس نظرت فإن كانت نجاسته بالتغير وهو أكثر من قلتين طهر بأن يزول التغير بنفسه أو بأن يضاف إليه ماء آخر أو بأن يؤخذ بعضه لأن النجاسة بالتغير وقد زال وإن طرح فيه تراب أو جص فزال التغير ففيه قولان قال في الأم لا يطهر كما لا يطهر إذا طرح فيه كافور أو مسك فزالت رائحة النجاسة  وقال في حرملة يطهر وهو الأصح لأن التغير قد زال فصار كما لو زال بنفسه أو بماء آخر۔

  1. دو قلوں كی مقدار کے برابر پانی:

اگر ناپاک پانی دو قلوں(204ليٹر)  كی مقدار كے برابرہو توشافعیہ  رحمہم اللہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا طریقوں سے  یہ پانی بھی پاک ہو جائے گا۔البتہ پانی نکالنےکی صورت میں  پانی پاک نہیں ہوگا، کیونکہ بقیہ پانی دو قلوں سےکم بچ جائے گا،  عبارت ملاحظہ فرمائیں:

المجموع شرح المهذب (1/ 135) :

(وان كان قلتين طهر بجميع ما ذكرناه الا بأخذ بعضه فانه لا يطهر لانه ينقص عن قلتين وفيه نجاسة)

یہ عبارت در اصل علامہ شیرازی رحمہ اللہ نے" المہذب" میں ذکر فرمائی ہے، اسی کو علامہ نووی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ان دونوں کا حضرات یہی موقف ہے۔

  1. دو قلوں كی مقدار سے کم پانی:

اگرپانی دو قلوں سے کم ہو تو اس کو پاک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس میں پاک پانی کا اضافہ کیا جائے، پھر اس  میں دو قول ہیں: ايك يہ كہ اتنا پانی ملايا جائے كہ مجموعی مقدار دو قلوں كی حد تك پہنچ جائے، اس صورت میں بالاتفاق پانی پاک ہو جائے گا۔ دوسرا يہ كہ پانی  کی مجموعی مقدار دو قلوں  کی حد تک  نہ پہنچے، اس میں شافعیہ کے دو قول ہیں، علامہ شيرازی اور نووی رحمہما اللہ نے پانی کے پاک ہونے کو اصح قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ذکر فرمائی ہے کہ جب پاک پانی نجس پانی میں ڈالا جائے گا تو پانی خود بخود پاک ہو جائے گا،  جیسا کہ نجس کپڑے پر پانی بہانےسے  کپڑا  ہو جاتا ہے۔دیکھیے عبارات:

  المجموع شرح المهذب (1/ 135)

 (وان كانت نجاسته بالقلة بان يكون دون القلتين طهربان ينضاف إليه ماء حتى يبلغ قلتين ويطهر بالمكاثرة وان لم يبلغ قلتين كالارض النجسة إذا طرح عليها ماء حتى غمر النجاسة: ومن اصحابنا من قال لا يطهر لانه دون القلتين وفيه نجاسة: والاول أصح: لان الماء انما ينجس بالنجاسة إذا وردت عليه: وههنا ورد الماء على النجاسة فلم ينجس: إذ لو نجس لم يطهر الثوب إذا صب عليه الماء)

المهذب (1/ 6):

وإن كانت نجاسته بالقلة بأن يكون دون القلتين طهر بأن يضاف إليه ماء آخر حتى يبلغ قلتين ويطهر  بالمكاثرة من غير أن يبلغ قلتين كالأرض النجسة إذا طرح عليها ماء حتى غمر النجاسة  ومن أصحابنا من قال لا يطهر لأنه دون القلتين وفيه نجاسة والأول أصح۔

مذہبِ حنبلی:

حضراتِ حنابلہ رحمہم اللہ کے نزدیک بھی شافعیہ کی طرح پانی کی مذکورہ بالا تین قسمیں ہیں،  البتہ پاک کرنے کی ترتیب میں کچھ فرق ہے، وہ یہ کہ فقہائے حنابلہ رحمہم اللہ نے تینوں قسموں کے میں سے ہر قسم کے نجس پانی کی دو دو صورتیں بيان كی ہیں: اول یہ کہ نجاست کی وجہ سے پانی متغیر ہو چکا ہو، یعنی اس کا رنگ، بو اور ذائقہ میں سے کوئی وصف بدل چکا ہو۔دوسر ایہ کہ پانی متغیر نہ ہوا ہو، بلکہ اپنی حالت پر ہو۔ باقی ان کو پاک کرنے میں درج ذیل تفصیل ہے:

دو قلوں كی مقدارسےکم پانی:

اگر پانی کی مقدار  دو قلوں(204ليٹر)   سے کم ہوتو اس کو پاک کرنے کے درج ذیل دو طریقے ہیں: 

اول: اگر پانی میں تغیر آ چکا ہو تو پاک پانی کے دو قلے ملائے جائیں۔

ثانی: اگر پانی متغیر نہ ہوا تو صرف پاک پانی ملانے سے نجس پانی پاک شمار ہوگا، اگرچہ اس کی مقدار دوقلوں سے کم ہو۔

دو قلوں كی مقدارکے برابر پانی:

اگر پانی کی مقدار  دو قلوں کے برابر ہو تو اس کی دو صورتیں ہوں گی، ایک یہ کہ نجاست کی وجہ سے پانی متغیر نہ ہوا ہو، اس صورت میں پاک کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اس میں پاک پانی کا اضافہ کر دیا جائے۔ دوسری صورت یہ کہ پانی متغیر ہو چکا ہو تو اس کو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں:

اول:اس میں پاک پانی اتنی مقدار میں ملا دیا جائے کہ پانی کا تغیر زائل ہو جائے۔

ثانی:پانی کو اپنی حالت پر چھوڑا جائے، یہاں تک کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا تغیر خود بخود زائل ہو جائے۔

3۔ دو قلوں كی مقدارسے زياده پانی:

اگر پانی کی مقدار  دو  قلوں سے زیادہ ہو تو اس کو پاك كرنے كے بھی  وہی دو طریقے ہیں جو نمبر۲ میں گزر چکے ہیں، البتہ اس میں ایک اور طریقہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر پانی متغیر ہو چکا ہو تو نجاست گرنے کی جگہ سے اتنا پانی باہر نکال دیا جائے کہ جس سے تغیر زائل ہو جائے اور بقیہ پانی دو قلوں کی مقدار کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اسی طرح حنابلہ کی بعض کتب میں یہ بھی مذکور ہےنجس پانی میں  مٹی یا کوئی اور مائع چیز ملا کر پانی کا تغیر زائل کر دیا جائے تو اس میں دو قول ہیں: ایک یہ کہ پانی پاک ہو جائے گا۔ دوسرا یہ کہ پانی پاک نہیں ہوگا۔ عبارت ملاحظہ فرمائیں:

الكافي في فقه ابن حنبل (1/ 28)

وهو في ثلاثة أقسام : الأول: ما دون القلتين فتطهيره بالمكاثرة بقلتين طاهرتين إما أن ينبع فيه أو يصب عليه وسواء كان متغيرا فزال تغيره أو غير متغير فبقي بحاله۔  الثاني: قدر قلتين فتطهيره بالمكاثرة المذكورة أو بزوال تغيره بمكثه ۔ الثالث: الزائد عن قلتين فتطهيره بهذين الأمرين أو بنزح يزيل تغيره ويبقى بعده قلتان ولا يعتبر صب الماء دفعة واحدة لأن ذلك يشق لكن يصبه على حسب ما أمكنه من المتابعة إما أن يجريه من ساقية أو يصبه دلوا فدلوا وإن كوثر بماء دون القلتين أو طرح فيه تراب أو غير ماء لم يطهره لأن ذلك لا يدفع النجاسة عن نفسه فلم يطهره الماء كما لو طرح فيه مسك ويتخرج أن يطهره لأنه تغير الماء فأشبه ما لو زال بنفسه ولأن علة التنجيس في الماء الكثير التغير فإذا زالت زال حكمها كما لو زال تغيير المتغير بالطاهرات ۔ فأما ما دون القلتين فلا يطهر بزوال التغير لأن العلة فيه المخالطة لا التغير۔

المغني في فقه الإمام أحمد بن حنبل الشيباني (1/ 56)لعبد الله بن قدامة:

فصل: في تطهير الماء النجس، وهو ثلاثة أقسام: أحدها ما دون القلتين، فتطهيره بالمكاثرة بقلتين طاهرتين، إما أن يصب فيه، أو ينبع فيه، فيزول بهما تغيره إن كان متغيرا، وإن لم يكن متغيرا طهر بمجرد المكاثرة؛ لأن القلتين لا تحمل الخبث، ولا تنجس إلا بالتغير، ولذلك لو ورد عليها ماء نجس لم ينجسها ما لم تتغير به، فكذلك إذا كانت واردة، ومن ضرورة الحكم بطهارتهما طهارة ما اختلطتا به.القسم الثاني: أن يكون و فق القلتين، فلا يخلو من أن يكون غير متغير بالنجاسة، فيطهر بالمكاثرة المذكورة لا غير، الثاني أن يكون متغيرا فيطهر بأحد أمرين؛ بالمكاثرة المذكورة إذا أزالت التغير، أو بتركه حتى يزول تغيره بطول مكثه. القسم الثالث: الزائد عن القلتين، فله حالان، أحدهما، أن يكون نجسا بغير التغير، فلا طريق إلى تطهيره بغير المكاثرة، الثاني أن يكون متغيرا بالنجاسة، فتطهيره بأحد أمور ثلاثة؛ المكاثرة، أو زوال تغيره بمكثه، أو أن ينزح منه ما يزول به التغير، ويبقى بعد ذلك قلتان فصاعدا۔

تفصیل کے لیے حضراتِ شافعیہ اور حنابلہ کی مزید عبارات:(۸ تا ۱۶) ملاحظہ فرمائیں۔

مذاہبِ اربعہ کی عبارات کا خلاصہ:

پیچھے ذکرکردہ مذاہبِ اربعہ کی عبارات سے درج ذیل امور معلوم ہوئے:

  1. اگر ناپاک پانی زمین میں جذب ہو کر دوسری جگہ سے صاف شفاف(جس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو) حالت میں نکل آئے تو اس کے پاک ہونے میں سب فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم کا اتفاق ہے۔

  2. حنفیہ کے نزدیک ناپاک پانی میں پاک پانی کی ملاوٹ کرنے کے بعد اگر اس کو جاری کر دیا جائے یا جاری پانی کے قائم مقام (کثیر پانی کے بقدر) ہوجائے تو پانی پاک ہو جائے گا، بشرطیکہ اس میں  نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو۔

  3. فقہائے مالکیہؒ کے نزدیک ناپاک پانی ( کم ہو یا زیادہ) میں پاک پانی ملانے یا خشک یا گیلی مٹی ڈالنے سے تغیرزائل ہو جائے تو وہ پاک ہو جائے گا،  البتہ مٹی کے ذریعے پاک ہونے میں مالکی فقہائے کرام ؒ  کے درمیان اختلاف ہے۔

  4. فقہائے شافعیہ اور حنابلہ رحمہم اللہ كے نزديك اگر پانی دو بڑے مٹکوں (204ليٹر) کے برابر یا اس   سے زیادہ ہوتو اس میں  پاک  پانی ملانےسے تغیر زائل ہو جانے یا  خودبخود تغیر زائل ہوجانے یا مٹی یا چونا  ڈال کر تغیر زائل کرنے سے  وہ پاک ہو جائے گا، اور اگر پانی دو قلوں سے کم ہو تو صرف پاک پانی ملانے سے پانی پاک ہو گا، پھر اس کی دوصورتیں ہیں: ايك يہ كہ اتنا پانی ملايا جائے كہ مجموعی مقدار دو قلوں كی حد تك پہنچ جائے، اس صورت میں بالاتفاق پانی پاک ہو جائے گا۔ دوسرا يہ كہ پانی  کی مجموعی مقدار دو قلوں  کی حد تک  نہ پہنچے، اس میں شافعیہ کے دو قول ہیں، علامہ شيرازی اور نووی رحمہما اللہ نے پانی کے پاک ہونے کو اصح کہا ہے۔

  5.  شافعيہ کی طرح فقہائےحنابلہ رحمہم اللہ کے نزدیک بھی اگر  پانی دو بڑے مٹکوں (204ليٹر) کے برابر یا اس   سے زیادہ ہوتو اس میں  پاک  پانی ملانےسے تغیر زائل ہو جانے یا  خودبخود تغیر زائل ہوجانے یا مٹی یا چونا  ڈال کر تغیر زائل کرنے سے  وہ پاک ہو جائے گا، اگرچہ چونا اور مٹی کے ذریعہ پاک کرنے کی صورت میں  ان حضرات کے درمیان بھی ترجیح کا اختلاف ہے۔اور اگر دوبڑے مٹکوں سے کم ہوتو اس صورت میں مٹی وغیرہ سے پانی پاک نہیں ہوگا، نیز پانی ملانے کی صورت میں اتنا پانی ملانا ضروری ہے کہ   پانی کا مجموعہ دو بڑے مٹکوں کی مقدار  تک پہنچ جائے۔

  6. اس پر سب فقہائے کرام ؒ کا اتفاق ہے کہ اگر قلیل ناپاک پانی میں پاک پانی کی اتنی مقدار ڈال دی جائے کہ وہ کثیر پانی(حنفیہ کے ہاں بڑے حوض کے برابر اور شافعیہ و حنابلہ کے نزدیک 204لیٹرہو) کے حکم میں آ جائے تو وہ پانی ضرورت کی بناء پر پاک شمار ہوگا، اگرچہ اس میں ناپاکی کے اجزاء باقی ہوں گے۔

مذاہبِ اربعہ  کی مذکورہ تفصیل اور اس کے خلاصے سے جو نتائج نکلتے ہیں ان کا حاصل درج ذیل ہے:

  1. ماء کثیر (علیٰ الاختلاف فی  تفسیرالکثیر) کو پاک کرنے کے سلسلے میں بالاتفاق اثرِ نجاست کو ختم کر دینا کافی ہے،  ناپاکی کےذرات  کو مكمل طورپر الگ کرنا ضروری نہیں۔

  2. ماء قلیل میں پاك پانی ملاکر کثیر بنا لینے کی صورت میں اگر اثرِ نجاست ختم ہو  جائے تو بالاتفاق پاکی کا حکم لگے گا۔

  3. مالکیہ ، شافعیہ اور حنابلہ  کی بعض عبارات کے مطابق مٹی یا چونا ڈالنے سے اگر تغیر زائل ہو جائے تو پانی پاک ہو جاتا ہے،البتہ شافعیہ کے نزدیک قلیل پانی پاک نہیں ہو گا۔

  4. قلیل و کثیر پانی میں فرق کیے بغیر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگر پانی کا  تغیر زائل ہوجائے تو شافعیہ و حنابلہ  کے نزدیک وہ  پاک ہو جاتا ہے۔

سوالات کے جوابات

اس تمہید کے بعد سوالات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں:

  1. انڈسٹری کا مستعمل پانی:

مذکورہ پانی سےاگر زہر اور ناپاکی کے اجزاء جدا کر لیے جائیں، یہاں تک کہیہ پانی،قدرتی پانی کی طرح ہو جائے اور صحت کےلیے بھی مضر نہ ہو تو اس کو استعمال کرنا جائز ہے، باقی چونکہ یہ پانی بڑی مقدار میں ہے، اس لیےقلیل مقدار میں نجاست سے وہ ناپاک نہیں ہوتا، جیسا کہ تمہیدنمبر(۲) میں تفصیل گزرچکی ہے۔

  1. سیورج کا پانی:

ہماری معلومات کی حد تک آج کل جو کمپنیاں انڈسٹری اور سیورج وغیرہ کا پانی صاف کرتی ہیں ان کے طریقۂ کار میں پاک اورناپاک پانی دونوں کی اکٹھے صفائی (Recyling) کی جاتی ہے، جس میں عام طور پر پاک پانی کی مقدار زیادہ ا ور ناپاک پانی کی مقدار کم ہوتی ہے، جیسا کہ تمہیدنمبر(۱) میں گزر چکا ہے۔ اور کیمیائی عمل کے دوران  ان دونوں قسم  کے پانی کے مجموعہ میں جاری کرنے کا عمل بھی پایا جاتا ہے۔ جوکہ حنفیہ کے نزدیک ناپاک پانی کو پاک کرنے کی ایک طریقہ ہے، بشرطیکہ اس میں نجاست کا اثر باقی نہ ہو، لہذا کیمیائی عمل سے گزرنے کے بعد اگر پانی کا رنگ، بُو اور ذائقہ قدرتی پانی کی طرح ہو جاتا ہےتو اس صورت میں یہ پانی پاک شمار ہوگا، کیونکہ پیچھے  ذکرکردہ فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم  کی عبارات کی روشنی میں پانی کے ناپاک ہونے کی اصل علت اس میں نجاست کا شامل ہونا تھا، جب نجاست کا اثر ختم کر دیا گیا تو پانی پاک ہو گیا۔

  1. خلائی شٹل کا پانی:

خلائی شٹل کے مشینی یونٹ کا (پانی جس میں پیشاب اور استعمال شدہ پانی دونوں شامل ہوں) اور پانی صاف کرنے کے وہ پلانٹ جن میں پاک پانی استعمال کیے بغیر صرف ناپاک پانی کی ہی ریسائیکلنگ کی جاتی ہے، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، تو ان میں چونکہ صرف کیمیکل ڈال کر پانی سے صرف نجاست کا اثر زائل کیا جاتا ہے، لہذا فقہائے حنفیہؒ کی تصریحات کے مطابق اس صورت میں اس پانی پر پاکی کا حکم لگانا مشکل ہے، کیونکہ اس میں غیر استعمال شدہ قدرتی پانی شامل کرکے جاری کرنے کا عمل نہیں پایا جاتا۔

جہاں تک حنفیہ کے علاوہ دیگر مذاہب کا تعلق ہے تو مذاہبِثلاثہ کے فقہاء کرام رحمہم اللہ کے نزدیکمٹی ڈال کر اگر ناپاک پانی کا تغیر ختمہو جائے تو وہ پاک ہو جائے گا، نیزشافعیہ کی بعض کتب میں ناپاک پانی کے تغیر کوزائل کرنے کے لئے مٹی کے ساتھ چونےکاذکربھی ملتا ہے ۔لہذا ان حضرات کے نزدیک کیمیائی عمل سے گزرنے کے بعد جب پانی کے اوصافِ ثلثہ(رنگ، بُو اور ذائقہ) قدرتی پانی کی طرح ہو جائیں تو پانی پاک ہو جائے گا، خواہ اس میں پانی کے بہنے کا عمل پایا جائے یا نہ۔

 "ابحاث  ھیئۃ کبار العلماء" کی کمیٹی نے  ایسے پانی  کےتغیر کےختم ہونے اور اس کے اوصافِ ثلثہ  قدرتی پانی  کی طرح ہونے کی صورت میں ائمہ ثلاثہ کے قول کو لیتے ہوئے  پانی کے پاک ہونے  کا حکم لگایا ہےاور اس میں پانی کے جاری ہونے  یا پاک پانی ملانے کی کوئی شرط ذکر نہیں کی، چنانچہ عبارت ملاحظہ  فرمائیں:

أبحاث هيئة كبار العلماء (6 /214):

أن الماء الكثير المتغير بنجاسة يطهر إذا زال تغيره بصب ماء طهور فيه باتفاق، أو بطول مكث، أو تأثير الشمس، ومرور الرياح عليه، أو برمي تراب ونحوه فيه على الراجح عند الفقهاء؛ لزوال الحكم بزوال علته. وعلى هذا: فإذا كانت مياه المجاري المتنجسة وهي بلا شك كثيرة تتخلص بالطرق الفنية الحديثة مما طرأ عليها من النجاسات، فإنه يمكن حينئذ أن يحكم بطهارتها لزوال علة تنجسها، وهي تغير لونها أو طعمها أو ريحها بالنجاسة، والحكم يدور مع علته وجودا وعدما وبذلك تعود هذه المياه إلى أصلها، وهو الطهورية ويجوز استعماله في الشرب ونحوه وفي إزالة الأحداث والأخباث وتحصل بها الطهارة من الأحداث والأخباث، إلا إذا كانت هناك أضرار صحية تنشأ عن استعمالها فيمتنع استعمالها فيما ذكر محافظة على النفس، وتفاديا للضرر، لا لنجاستها، ولكن لو استعملها في إزالة الأحداث أو الأخباث صحت الطهارة.

اسی طرح  رابطۃ العالم الاسلامی کے ذیلی ادارے ’’مجمع الفقہ الإسلامی‘‘ نے بھی اسی بنیاد پر  کیمیائی طریقوں سے صفائی  کے ماہرین کی

طرف مراجعت کے بعد ایسے پانی   میں نجاست کا رنگ ،بُو اور ذائقہ باقی نہ رہنے کی شرط پر پاکی کا حکم لگایا ہے، چنانچہ عبارت ملاحظہ فرمائیں:

مجلة المجمع الفقه الإسلامي لرابطة العالم الإسلامي(۱۱):

"أن ماء المجاري إذا نقي بالطرق المذكورة أو ما يماثلها، ولم يبق للنجاسة أثر في طعمه، ولا في لونه، ولا في ريحه: صار طهورًا يجوز رفع الحدث وإزالة النجاسة به، بناء على القاعدة الفقهية التي تقرر: أن الماء الكثير، الذي وقعت فيه نجاسة يطهر بزوال هذه النجاسة منه، إذا لم يبق لها أثر فيه.

الغرض صورتِ مسٔولہ میں اگر کیمیکل وغیرہ کے ذریعہ یا  کسی اور  طریقہ سے  ممکنہ حد تک نجاست کو پانی سے الگ کر نے کے بعدنجاست کی وجہ سے پانی میں جو تغیر آچکا تھا وہ زائل ہو جائے اور اس کا رنگ ،بو اورذائقہ پاک پانی کی طرح ہو جائے تو  ان فقہاء   کرام رحمہم اللہ کے قول پر یہ پانی پاک ہے جن کے نزدیک مٹی یا چونا وغیرہ ڈال کر پانی  کوپاک کیا جا سکتا ہے ،اور اس سے پاکی حاصل کرنااور دوسرے مقاصد مثلاً فیکٹری وغیرہ کے لئے استعمال کرنا جائز ہے البتہ اس مسلک پر بھی اگرقدرتی  پاک پانی موجود ہو  تو اس پانی کوپاکی حاصل کرنے کے لیے استعمال  کرنے سے پرہیز کرناچاہیے،کیونکہ احتیاط اسی میں ہے۔

لیکن جب تک کوئی ناقابلِ تحمل مشکل نہ ہو تو  اپنےمذہب کی صریح اور صحیح روایات کو چھوڑا نہیں جا سکتا، لہذا  کیمیائی عمل کے آخری مرحلہ کے بعد  ریسائیکل شدہ پانی  کے ساتھ صاف  اور پاک پانی ملا کر جاری کرنے کا مرحلہ بڑھا دیا جائے، تاکہ حنفیہ کی تصریحات کے مطابق  بھی پانی پاک ہو جائے، ورنہ حنفیہ کے لیے یہی حکم ہوگا کہ وہ ایسے پانی کو استعمال نہ کریں۔

واضح رہے کہ مذکورہ بالا حکم اس صورت میں ہے جب خلائی شٹل کا پانی نجاست اور استعمال شدہ پانی دونوں سے مرکب ہو، لیکن اگر صرف پیشاب کو ریسائیکل کیا جائے تو اس کو ریسائیکل کرنے  کے بعد بھی پاک قرار نہیں دیا جا سکتا، چنانچہ علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 38) دار الفكر-بيروت:

 ولا شك أن العرق المستقطر من الخمر هو عين الخمر تتصاعد مع الدخان وتقطر من الطابق بحيث لا يبقى منها إلا أجزاؤها الترابية ولذا يفعل القليل منه في الإسكار أضعاف ما يفعله كثير الخمر، بخلاف المتصاعد من أرض الحمام ونحوه فإنه ماء أصله طاهر خالط نجاسة مع احتمال أن المتصاعد نفس الماء الطاهر. ويمكن أن يكون هذا وجه الاستحسان في طهارته، وعلى كل فلا ضرورة إلى استعمال العرق الصاعد من نفس الخمر النجسة العين ولا يطهر بذلك، وإلا لزم طهارة البول، ونحوه إذا استقطر في إناء ولا يقول به عاقل.

اسی طرح مالکیہ کے مشہور فقیہہ ابو عبداللہ حطّاب ؒ فرماتے ہیں:

مواهب الجليل لشرح مختصر الخليل (1/ 120):

قال ابن ناجي في شرح المدونة: وظاهر المذهب نجاسته ولو زالت رائحته وبه الفتوى والخلاف في البول المنقطع الرائحة وبول المريض الذي لا يستقر الماء في جوفه غريب فاعلمه انتهى. والقول بطهارة البول بعيد جدا

البتہ خلائی شٹل میں اگر ریسائیکل شدہ پانی کے علاوہ قدرتی پانی موجود نہ ہو اور پانی استعمال نہ کرنے کی صورت میں جان ضائع ہونے کا خطرہ ہوتو ضرورت کے پیشِ نظر حنفیہ کے مذہب پر بھی  اس پانی کو  پینے کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، کیونکہ شریعت کی طرف سے جان بچانے کے لیے بقدرِ ضرورت حرام چیز کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ 

ایک شبہہ:

کیمیاوی طریقے سے صاف کیے گئے مذکورہ پانی (جس کو پاک پانی کی ملاوٹ کیے بغیرصاف کیاگیاہو ) سے طہارت حاصل کرنے میں یہ شبہہ ہو سکتا ہے کہ  ناپاك پانی سے نجاستِ حقیقیہ  (جسم والی نجاست )کو تو  ختم کیا جا سکتا ہے ،جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ۔لیکن نجاستِ حکمیہ(جس کا جسم نہیں ہوتا ، بلکہ شریعت کی طرف سے ناپاکی کا حکم لگ جاتا ہے )جیسے کسی شخص نے پاک پانی سے وضو کیا تو وہ پانی مستعمل ہو گیا  اور مستعمل پانی کا  اکثر فقہاء کرام رحمہم اللہ کے نزدیک حکم یہ ہے کہ یہ پانی طاہر(پاک) تو ہے ،مطہر(پاک کرنے والا) نہیں ،یعنی خود تو پاک ہے لیکن کسی دوسری شئی کو پاک نہیں کر سکتا ،لہذا ایسا پانی جس میں نجاست حکمیہ ہو، اس کو پاک نہیں کیا جا سکتا، لہذا ایسی صورت میں مستعمل پانی کا تغیر زائل ہونے کے بعد بھی اس  سے وضو اور غسل وغیرہ جائز نہیں ہونا چاہیے ۔

جواب:

اس کا  ایک جواب یہ ہے کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے نجس پانی  کو پاک کرنے کی بحث میں  یہ تفصیل ذکر نہیں کی،بلکہ مطلقا نجس پانی کے تغیر کے زائل  ہونے کو پاکی کی علت قرار دیا ہے  اور فقہاء کرام کے ہاں یہ اصول ہے  کہ  جب  کسی شئی کو مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے فرد کامل مراد ہوتا ہے ۔ چنانچہ  اصولِ فقہ کا قاعدہ مشہور ہے:‘‘أن المطلق ينصرف إلى الفرد الكامل’’یعنی  مطلق فرد کامل کی طرف لوٹتاہے ۔اور پاکی کا فردِ کامل یہ ہے کہ پانی نجاست حکمیہ اور نجاست حقیقیہ  دونوں سے  پاک ہو۔اس کی ایک نظیر یہ ہے کہ اگر ناپاک یا مستعمل پانی زمین میں جذب ہونے کے بعد دوبارہ نکالا جائے تو اس سے سب فقہائے کرامؒ کے نزدیک وضو اور غسل وغیرہ کرنا جائز ہے۔

دوسراجواب یہ ہے کہ مستعمل پانی  کے حکم میں  فقہاء کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے اگرچہ اکثر فقہاء کرام ؒ  نےاس پانی کو طاہر  غیر مطہر(جو کسی شئی کو پاک نہ کر سکے ) قرار دیا ہے ،لیکن مالکیہ کی بعض عبارات  میں مستعمل  پانی   پر صرف کراہت کا حکم لگایا گیا ہے۔نیز  علامہ  شہاب الدین أحمدبن إدريس قرافی ؒ نے  ابن القاسم ؒ کے حوالہ سے نقل کیاہے کہ اگر  اس کے علاوہ پانی موجود نہ ہو تو مستعمل پانی  سے وضو کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ علامہ قرافی ؒ  الذخيرة (۱/۱۷۴) میں فرماتے ہیں:

       "الأول الماء المستعمل في الحدث إذا لم يكن على الأعضاء نجاسة، ولا وسخ قال مالك رحمه الله في الكتاب: لا يتوضأ بماء توضئ به مرة، قال ابن القاسم: إن لم يجد غيره توضأ".

نیز  علامہ خرشی ؒ نے شیخ احمد زرقانی ؒ کےحوالہ سے عدمِ کراہت کا قول بھی نقل کیا ہےاور ان کی طرف سےکراہت کی وجوہ کےجوابات بھی نقل کیے ہیں (دیکھئے عبارت نمبر:20) لہذا  ایسے پانی  سے طہارت حاصل کی جاسکتی  ہے ، البتہ بہتر یہ ہے کہ احتیاط کے پیشِ نظر نماز وغیرہ کے لیے  غیر ریسائیکل شدہ قدرتی پانی استعمال کیا جائے،  مزید عبارات: (21 تا 25)ملاحظہ فرمائیں۔

ریسائیکل شدہ پانی کو پینے کا حکم:

پیچھے ذکرکردہ   تمام تفصیل ریسائیکل شدہ پانی کے خارجی استعمال سے متعلق تھی،  جہاں تک ایسے پانی کو پینے کا تعلق ہے تو اس میں ایک اور چیز کو بھی مدِنظر رکھنا ضروری ہے، وہ یہ کہ شریعت نے استقذار اور استخباث  کی بنیاد پر بہت سی چیزوں کو حرام اور مکروہ قرار دیا ہے، جیسے حشرات الارض وغیرہ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ناپاک پانی کو  ریسائیکل کرنے کے بعد استخباث کی علت بھی ختم ہو جاتی ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر  ریسا ئیکلنگ کے عمل  سے پہلے اکثر پانی ناپاک ہو اور اس میں نجاست کا اثر واضح اور ظاہر ہو تو اس صورت میں ریسائیکلنگ کے بعد بھی پانی میں استقذار باقی رہے گا اور علتِ استقذار اور استخباث کی بناء پر اس کا پینا مکروہ تحریمی ہوگا۔کیونکہ عام طور پر فطرتِ سلیمہ رکھنے والوں کو ایسے پانی سے کراہت محسوس ہوتی ہے، اسی لیے مجمع الفقہ الاسلامی نے ایسے پانی کو ریسائیکلنگ کے بعد بھی علتِ استخباث کی بناء پر پینے کی اجازت نہیں دی۔ دیکھیے عبارت:

مجلة المجمع الفقهي الإسلامي لرابطة العالم الإسلامي(19):

فتحصل أن مياه المجاري قبل التنقية معلة بأمور:

 1۔الفضلات النجسة بالطعم واللون والرائحة.

2۔فضلات الأمراض المعدية، وكثافة الدواء والجراثيم (البكتيريا).

3۔علة الاستخباث والاستقذار، لما تتحول إليه باعتبار أصلها، ولما يتولد عنها في      ذات المجاري، من الدواب والحشرات المستقذرة طبعًا وشرعًا. ولذا صار النظر بعد التنقية في مدى زوال تلكم العلل، وعليه: فإن استحالتها من النجاسة- بزوال طعمها ولونها وريحها- لا يعني ذلك زوال ما فيها من العلل والجراثيم الضارة. والجهات الزراعية توالي الإعلام بعدم سقي ما يؤكل نتاجه من الخضار، بدون طبخ، فكيف بشربها مباشرة؟ ومن مقاصد الإسلام: المحافظة على الأجسام ولذا لا يورد ممرض على مصح، والمنع لاستصلاح الأبدان واجب، كالمنع لاستصلاح الأديان. ولو زالت هذه العلل، لبقيت علة الاستخباث والاستقذار. وأن الخلاف الجاري بين متقدمي العلماء، في التحول من نجس إلى طاهر، هو في قضايا أعيان، وعلى سبيل القطع، لم يفرعوا حكم التحول على ما هو موجود حاليًّا في المجاري، من ذلك الزخم الهائل من النجاسات، والقاذورات، وفضلات المصحات، والمستشفيات، وحال المسلمين لم تصل بهم إلى هذا الحد من الاضطرار، لتنقية الرجيع، للتطهر به، وشربه، ولا عبرة بتسويغه في البلاد الكافرة، لفساد طبائعهم بالكفر، وهناك البديل، بتنقية مياه البحار۔

تاہم اگرریسائیکلنگ سے پہلے  نجاست مغلوب درجے ميں ہو، جس كا اثر ظاہر نہ ہو  اور اکثر پانی پاک ہو، جیسے عام طور پر فیکٹریوں میں ہوتا ہے تو  ایسا پانی  ریسائیکل  ہوجانے کے بعد پاک ہونے کے ساتھ ساتھ کراہت تنزیہی کے ساتھ داخلی استعمال میں لانا بھی جائز ہوگا، مکروہ تنزیہی کا حکم اس لیے ہوگا، کیونکہ اس میں علتِ استخباث کم پائی جاتی ہے، جس کی بناء پر حکم میں بھی تخفیف آ جائے گی۔

یہ بھی واضح رہے کہ مذکورہ بالا دونوں حکم اس صورت میں ہیں  جب پینے والے کو علم ہو کہ یہ ریسائیکل شدہ پانی ہے، اگر اس کو علم نہ ہو اور وہ اس کو قدرتی پانی سمجھ کر استعمال کرے تو استصحابِ حال (اصلی حالت پر قیاس کرنا) کی بناء پر اس کے لیے اس کا  پینا بلاشبہہ جائز ہوگا،  کیونکہ پانی میں اصل پاک ہونا ہے۔اسی طرح اگر قدرتی صاف پانی موجود نہ ہوتو حالتِ اضطرار میں اس کا پینا بلا کراہت جائز ہو گا، خواہ اس میں ناپاک پانی کی آمیزش کم ہو یا زیادہ۔

 


) سنن أبي داود (رقم الحديث:66) بتحقيق شعيب الأرنؤوط، دار الرسالة العالمية۔

[2] اس حدیث کا حوالہ پیچھے صفحہ نمبر۴ پرگزر چکا ہے۔

حوالہ جات

1. الفتاوى الهندية (1/ 18):

الماء الجاري بعد ما تغير أحد أوصافه وحكم بنجاسته لا يحكم بطهارته ما لم يزل ذلك التغير بأن يرد عليه ماء طاهر حتى يزيل ذلك التغير كذا في المحيط.

2.الموسوعة الفقهية الكويتية (29/ 102):

ذهب الحنفية والمالكية إلى أن تطهير المياه النجسة يكون بصب الماء عليها ومكاثرتها حتى يزول التغير  ولو زال التغير بنفسه ، أو بنزح بعضه ،، فعند المالكية قولان ، قيل: إن الماء يعود طهورا، وقيل : باستمرار نجاسته وهذا هو الأرجح .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔كما يطهر الماء النجس عند المالكية لوزال تغيره بإضافة طاهر،وبإلقاء طين أوتراب إن زال أثرهما،أي لم يوجد شيء من أوصافهما في ما ألقيا فيه،أما إن وجد فلا يطهر،لاحتمال بقاءالنجاسة مع بقاء أثرما.

3. البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 1 / ص 465) :

البعد بين البالوعة والبئر المانع من وصول النجاسة إلى البئر خمسة أذرع في رواية أبي سليمان وسبعة في رواية أبي حفص وقال الحلواني: المعتبر الطعم أو اللون أو الريح ، فإن لم يتغير جاز وإلا فلا ، ولو كان عشرة أذرع قال في الخلاصة : وفتاوى قاضي خان والتعويل عليه وصححه في المحيط.

4. رد المحتار  (ج 2 / ص 47، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ) :

وفي الخزانة إناءان ماء أحدهما طاهر والآخر نجس فصبا من مكان عال فاختلطا في الهواء ثم نزلا طهر كله ، ولو أجرى ماء الإناءين في الأرض صار بمنزلة ماء جار اهـ ونحوه في الخلاصة

5الإشراف على نكت مسائل الخلاف (1/ 181) القاضي أبو محمد عبد الوهاب بن علي بن نصر البغدادي المالكي (422هـ)

الماء النجس: مسألة: لا ينجس الماء إلا بتغير أحد صفاته من نجس يخالطه قليلاً كان أو كثيراً.

6. مواهب الجليل لشرح مختصر الخليل (1/ 11)أبوعبدالله محمد بن محمد(المتوفى :954هـ)

أن الماء إذا تغير بالنجاسة ثم زال تغيره فلا يخلو إما أن يكون بمكاثرة ماء مطلق خالطه أم لا فالأول طهور باتفاق.

7. المجموع شرح المهذب (1/ 133):

(وان طرح فيه تراب أو جص فزال التغير ففيه قولان: قال في الام لا يطهر كما لا يطهر إذا طرح فيه كافور أو مسك فزالت رائحة النجاسة وقال في حرملة يطهر وهو الاصح لان التغير قد زال فصار بنفسه أو بماء آخر ويفارق الكافور والمسك لان هناك يجوز ان تكون الرائحة باقية وانما لم تطهر لغلبة رائحة الكافور والمسك)

8. الموسوعة الفقهية الكويتية (29/ 103):

وذهب الشافعية والحنابلة إلى أن الماء إن بلغ قلتين فإنه لا ينجس إلا إذا غيرته النجاسة، لقول النبي صلى الله عليه وسلم: إذا بلغ الماء قلتين لم يحمل الخبث  وقوله صلى الله عليه وسلم : إن الماء لا ينجسه شيء إلا ما غلب على ريحه وطعمه ولونه وتطهيره حينئذ يكون بزوال التغير، سواء زال التغير بنفسه : كأنزال بطول المكث ، أو بإضافة ماء إليه.

9. الحاوي في فقه الشافعي (1/ 303):أبوالحسن علي بن محمد البغدادي،الشهير   بالماوردي (المتوفى : 450هـ) :

أن ورود النجاسة على الماء يوجب تنجيسه لحديث المستيقظ من النوم. والفرق الثاني: من طريق المعنى : أن الضرورة داعية إلى تطهير الماء لوروده على الماء ، لأنه لو صار نجسا لما أمكن تطهير نجاسته عن المحل لأن الماء نجس بوروده على ذلك المحل فحكم بطهارته ، وليست الضرورة داعية إلى تطهير الماء بورود النجاسة عليه فحكم بتنجيسه، وأما الجواب عن استدلالهم بأن النجاسة تسلب الماء بما خالفها من الطهارة والتطهير، فهو أن التطهير صفة متعدية فجاز أن تزول عن الماء ، والطهارة صفة لازمة فجاز أن لا تزول عن الماء ، لأن المتعدي مفارق واللازم مقيم.

10. الشرح الممتع على زاد المستقنع لمحمد العثيمين- (ج 1 / ص 38) :

قد ذكر ثلاث طُرق في تطهير الماء النَّجس: إحداها: أن يضيف إِليه طَهوراً كثيراً غير تراب ونحوه، واشترط المؤلفُ أن يكون المضافُ كثيراً؛ لأنَّنا لو أضفنا قليلاً تنجَّس بملاقاة الماء النَّجس. مثاله: عندنا إِناءٌ فيه ماء نجس مقداره نصف قُلَّة، وهذا الإِناء كبير يأخذ أكثر من قُلَّتين، فإِذا أردنا أن نطهِّره نأتي بقُلَّتين ثم نفرغ القُلَّتين على نصف القُلَّة، فنكون قد أضفنا إِليه ماء كثيرا، فيكون طَهُورا إِذا زال تغيّره، فإِن أضفنا إِليه قُلَّة واحدة؛ وزال التغيُّر فإنَّه لا يكون طَهُورا.

11. الشرح الكبير لابن قدامة (1/30):

تطهير الماء النجس ينقسم ثلاثة أقسام: (أحدها) أن يكون الماء النجس دون القلتين فتطهيره المكاثرة بقلتين طاهرتين اما أن ينبع فيه أو يصب فيه أو يجري إليها من ساقية أو نحو ذلك فيزول بهما تغيره ان كان متغيرا فيطهر وان لم يكن متغيرا طهر بمجرد المكاثرة لان القلتين تدفع النجاسة عن نفسها وعما اتصل بها ولا تنجس الا بالتغير إذا وردت عليها النجاسة فكذلك إذا كانت واردة - ومن ضرورة الحكم بطهارتهما طهارة ما اختلط بهما (القسم الثاني) أن يكون قلتين فان لميكن متغيرا بالنجاسة فتطهيره بالمكاثرة المذكورة وان كان متغيرا بها فتطهيره بالمكاثرة المذكورة إذا أزالت التغير وبزوال تغيره بنفسه لان علة التنجيس زالت وهي التغير۔

12. المبدع شرح المقنع (1/ 29): للشیخ إبراهيم بن محمد بن عبدالله بن مفلح، (المتوفى : 884هـ) :

 بيان تطهير الماء النجس وهو ينقسم ثلاثة أقسام:بيان تطهير الماء النجس، وهو، ينقسم ثلاثة أقسام، أحدها: أن يكون الماء النجس دون قلتين، فتطهيره بالمكاثرة حسب الإمكان، زاد في «الرعاية» عرفاً، واعتبر الأزجي و السامري الاتصال فيه بقلتين طهوريتين، إما أن يصب فيه أو يجري إليه من ساقية، أو نحو ذلك، فيزول بهما تغيره إن كان متغيراً. وإن كان غير متغير، طهر بمجرد المكاثرة، لأن القلتين تدفع النجاسة عن نفسها، وعما اتصل بها، ولاينجس إلا بالتغيير. وفهم منه أن النجس القليل لايطهر بزوال تغيره بنفسه،لأنه علة نجاسته الملاقاة، لاالتغيير. الثاني: أن يكون قلتين. فإن كان غير متغير بالنجاسة، فتطهيره بالمكاثرة. أو متغيراً بها فتطهيره بالمكاثرة إذا زال التغير، وبزوال تغيره بنفسه، لأن علة التنجيس زالت، كالخمرة إذا انقلبت بنفسها خلاً. وقال ابن عقيل: لاتطهر، بناء على أن النجاسة لاتطهر بالاستحالة. الثالث: الزائد على القلتين، فإن كان غير متغير، فتطهيره بالمكاثرة فقط، وإن كان متغيراً فتطهيره بالأمرين السابقين، وبالثالث: وهو أن ينزح منه حتى يزول التغير، ويبقى بعد النزح قلتان.

 13.  التهذيب المقنع في إختصار الشرح الممتع (1/ 11):

قوله: "فإن أضيف إلى الماء النجس طهوركثير غير تراب ونحوه, أو زال تغير النجس الكثير بنفسه, أو نزح منه فبقي بعده كثير غير متغير طهر ", هذه هي الطريقة الثالثة لتطهير الماء النجس، وهي أن ينزح منه حتى يبقى بعد النزح طهور كثير.( وهذا هو المذهب في تطهير ما زاد عن القلتين). والصحيح: أنه إذا زال تغير الماء النجس بأي طريق كان فإنه يكون طهورا؛ لأن الحكم متى ثبت لعلة زال بزوالها.

14. الشرح الممتع على زاد المستقنع (1/ 58) للشیخ محمدبن صالح بن محمد العثيمين:

والصحيح: أنه إِذا زال تغيُّر الماء النَّجس بأي طريق كان فإنه يكون طَهُورا؛ لأن الحكم متى ثبت لعِلَّة زال بزوالها. وأيُّ فرق بين أن يكون كثيراً، أو يسيرا، فالعلَّة واحدة، متى زالت النَّجاسة فإنه يكون طَهُورا وهذا أيضا أيسر فهما وعملا.

15العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 9) :

 ( سئل ) في فأرة وقعت في سمن مائع وماتت فيه فإذا وضع في إناء مخروق السفل وصب عليه الماء ثم أخذ عنه الماء من أسفله ثلاث مرات؟ أو صب عليه الماء فطفا فرفع ثلاث مرات فهل يطهر بكل من هذين الصنيعين ؟ ( الجواب ): نعم يطهر كما في طهارة الخيرية وهكذا روي عن أبي يوسف وعليه الفتوى كما في المجمع والبزازية وخزانة المفتي وغيرها وبه جزم في الظهيرية وصرح به في البحر.

16. المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة: (1/ 255) :

في «فتاوى أبي الليث» رحمه الله: إذا غمس الرجل يده في سمن نجس، ثم غسل اليد في الماء الجاري بغير حرض، وأثر السمن باق على يده، طهرت به، لأن نجاسة السمن باعتبار المجاور، وقد زال المجاور عنه، فيبقى على يده سمن طاهر، وهذا لأن تطهير السمن بالماء ممكن.

17مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (1 /160):

والسمن والدهن المتنجس يطهر بصب الماء عليه ورفعه عن ثلاثا والغسل يصب عليه الماء ويغليه حتى يعود كما كان ثلاثا.

مستعمل پانی سے متعلق حوالہ جات

18. شرح خليل للخرشي (1/ 326):

والحاصل أن صور استعمال الماء المستعمل ست عشرة صورة؛ لأن استعماله أولا إما في حدث وإما في حكم خبث وإما في طهارة مسنونة أو مستحبة وإما في غسل إناء ونحوه وكل واحدة من هذه إذا استعمل ثانيا فلا بد أن يستعمل في أحدها فالمستعمل في حدث أو حكم خبث يكره استعماله في أحد هذين وصوره أربع وكذا يكره استعماله في الطهارة المسنونة والمستحبة وهاتان صورتان كما يفيده ما رجح في تعليل الكراهة من أنه مختلف في طهوريته ولا يكره في غسل كالإناء وهاتان صورتان أيضا والمستعمل في الطهارة المسنونة والمستحبة يكره استعماله في رفع الحدث وحكم الخبث وكذا في الطهارة المسنونة والمستحبة على أحد الترددين في المسائل الثلاثة لا في غير ذلك والمستعمل في غسل كالإناء لا يكره استعماله في شيء انتهى المراد منه.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( قوله أو خبث ) على أحد القولين والقول الثاني لا يكره ؛ لأن إزالة النجاسة معقولة المعنى وفي كلام صاحب الإرشاد إشارة إليه لاقتصاره على ذكر الوضوء فيفيد قوته ، وإن كان كلام عب يفيد خلافه حيث يقول بعد قوله في حدث وكذا في إزالة حكم خبث فيما يظهر خلافا لاستظهار الشيخ أحمد الزرقاني عدم كراهته ((قوله وعللت الكراهة بعلل إلخ ) فمن جملة ما علل به أنه أديت به عبادة ووجه ضعفه أنه يلزم مثله في التراب وأن السلف لم يستعملوه ووجه ضعفه أن لا يلزم من عدم الوجدان عدم الوجود وأنه ماء ذنوب ووجه ضعفه أن الذنوب معنى من المعاني هذا ما في ك والكراهة كما فيه خاصة بالعبادات دون العادات خلاف قوله ويسير كآنية وضوء وما عطف عليه، فإن الكراهة عامة في العبادات والعادات ا هـ . واستظهر ح أنه لا إعادة على من استعمل هذا المستعمل مع وجود غيره وقال ولا تقتضي الكراهة الإعادة في الوقت بل الإعادة في الوقت تقتضيها.

19. الإنصاف (1/ 40):علاءالدين أبوالحسن علي بن سليمان المرداوي الدمشقي (المتوفى : 885هـ) :

والرواية الثانية: أنه طهور قال في مجمع البحرين: سمعت شيخنا يعني صاحب الشرح يميل إلى طهورية الماء المستعمل ورجحها ابن عقيل في مفرداته وصححها ابن رزين: واختارها أبو البقاء والشيخ تقي الدين وابن عبدوس في تذكرته وصاحب الفائق.قلت: وهو أقوى في النظر.

20. شرح زاد المستقنع للشنقيطي (4/ 8):محمد بن محمد المختار الشنقيطي المالكي:

مسْتعمل في رفع الحدث ومستعمل في : طهارة مشْروعة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فللعلماء في هذا الماء ثلاثة أقوال: القول الأول: الماء طهورٌ، وهو مذهب الظاهرية، ورواية عن مالك ، وقول للشافعي ورواية عن أحمد رحمة الله على الجميع. بمعنى: أن الماء باق على أصله، ولو توضأ به مائة شخص، فما دام أنه لم يتغير فهو ماء طهور كأنه نزل من السماء. القول الثاني: أن الماء إذا كان يسيراً فهو طاهر وليس بطهور، وعليه مذهب الحنابلة ومذهب الشافعية وهو رواية عن مالك ، وأيضاً رواية عن الإمام أبي حنيفة رحمة الله على الجميع، وبناءً على ذلك يقولون: هذا الماء لا تتوضأ به ولا تغتسل، لكنه ليس بنجس، فلو وقع على ثوبك أو وقع على بدنك أو وقع على سجادتك التي تصلي عليها لم ينجسها. القول الثالث وهو أشدها: أن الماء إذا توضأ به أحد حكم بنجاسته ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دليل من قال: بطهوريته، ما ثبت في الصحيحين عن النبي صلى الله عليه وسلم: (الماء طهور لا ينجسه شيء )، قالوا: نص النبي صلى الله عليه وسلم على أن الماء لا يتأثر بشيء إلا ما غير اللون أو الطعم أو الرائحة، وهذا مجمع عليه، وهذا لم يتغير لونه ولا طعمه ولا ريحه فهو باقٍ على الطهوريۃ.

21. شرح زاد المستقنع للشنقيطي (4/ 8):محمد بن محمد المختار الشنقيطي:

والصحيح من هذه الأقوال أنه طهور، وليس بنجس ولا طاهر، أي: لا يحكم بكونه نزل إلى مرتبة الطاهر. أما دليل الرجحان: أولاً: صحة ما ذكره أصحاب هذا القول. ثانيا: أن القاعدة: الأصل بقاء ما كان على ما كان، فالأصل أنه طهور، ونحن شككنا في سلب الطهورية فنبقى على الأصل. ثالثاً: استدلال أصحاب القول الثاني بأن نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الاغتسال في الماء الدائم علته كونه يسلب الطهورية مردود، فإن العلة يحتمل أن تكون خوف تغير الماء وسلبه الطهورية.

22. دروس عمدة الفقه للشنقيطي (1/ 112):

قلنا إن الصحيح أن الماء المستعمل في رفع الحدث لا يسلبه الطهورية. أولاً : لقوله-عليه الصلاة والسلام- : (( إن الماء طهور لا ينجسه شيء )) ، فإذا توضأت بهذا الماء أو اغتسلت به لرفع

حدث أصغر أو أكبر فإنه باقي على أصله ؛ لأن النبي-- صلى الله عليه وسلم -- قال : (( إن الماء طهور لا ينجسه شيء) .

23. حاشية الدسوقي على الشرح الكبير (1/113):

المستعمل في حدث أو في حكم خبث يكره استعماله في رفع الحدث لا في إزالة الخبث، وصوره أربع وكذا يكره استعماله في الطهارة المسنونة والمستحبة وصوره أربع أيضا ولا يكره استعماله في غسل كالإناء وهاتان صورتان ، والمستعمل في الطهارة المسنونة والمستحبة يكره استعماله في رفع الحدث وحكم الخبث وكذا في الطهارة المسنونة والمستحبة على أحد.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشید، کراچی

05/ذوالحجہ 1438ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب / شہبازعلی صاحب