021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
باغات اور پھلوں کی بیع کی مخصوص صورت کا حکم
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر کوئی بندہ درختوں پہ پھل لگنے سے پہلے باغ کو فروخت کر دے اس شرط کے ساتھ کے کسی بھی قدرتی آفت آنے پر نقصان ہونے پر دونوں فریق مشترکہ برداشت کریں گے ،اس طرح کے خرید و فروخت میں جو باغ لیتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پہلےباغ بیچ دے تاکہ ہم باغ کی رکھوالی خود کریں ،آبپاشی ،سپرے کھاد وغیرہ سب اپنی مرضی سے کریں تاکہ آنے والے فصل (پھل) کی دیکھ بھال کر سکیں ٹھیک طریقے سے ،کیونکہ کھاد ،سپرے ،پانی وغیرہ کو صحیح طریقے سے وقت پر ڈالنے سے درختوں پر پھل اچھے اور زیادہ ہوتے ہیں۔ کیا ایسے خرید و فروخت جائز ہے؟

o

شرعی طور پرکسی بھی چیز کی خرید و فروخت کا معاملہ منعقد ہونے کے لیے ،اُس چیز کابیع کے وقت موجود ہونا ضروری ہے۔اس اصول کی رو سے باغوں کے پھلوں کی خرید و فروخت کی کئی صورتیں بنتی ہیں ، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔ 1۔پہلی صورت یہ ہے کہ پھل ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع کی جائے،اس طرح پھلوں کی خرید وفروخت بالاتفاق جائز نہیں ہے۔اگر ایسی صورت میں بیع کی تو معدوم کی بیع ہونے کی وجہ سے بیع باطل ہوگی،بائع پر ثمن کا لوٹانا اور مشتری پر باغ کو واپس کرنا لازم ہوگا،رہی بات قدرتی آفات کی وجہ سے نقصان ہونے کی تو نقصان بائع کا ہوگا نہ کہ مشتری کا۔ "لان بیعھا [الثمار]قبل الظھور لا یصح اتفاقاً " (بحر،ج:۵،ص:۵۰۲) وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع والثمر قبل ظهوره. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505) 2۔دوسری صورت یہ ہے کہ پھول ظاہر ہوگئے ہو ں اور پھولوں ہی کی بیع کی جائے ۔یہ صورت بالاتفاق جائز ہے۔ "وشرط المعقود علیہ ستۃ:کونہ موجوداً، مالاً متقوماً،مملوکاً فی نفسہ، وکون الملک للبائع فیما یبیعہ لنفسہ، وکونہ مقدور التسلیم." (حاشیۃ ابن عابدین،14/21،ط:دار الثقافۃ والتراث) "والحيلة في جوازه باتفاق المشايخ أن يبيع الكمثرى أول ما تخرج مع أوراق الشجر فيجوز فيها تبعا للأوراق كأنه ورق كله.قال: في الفتح: وقد رأيت رواية في نحو هذا عن محمد في بيع الورد على الأشجار فإن الورد متلا حق، وجوز البيع في الكل..." (حاشیۃ ابن عابدین، 4/555،ط:المکتبۃ الشاملۃ) 3۔تیسری صورت یہ ہے کہ پھلوں کی بیع ،پھل ظاہر ہونے کے بعد ایسے وقت میں کی جائے کہ پھلوں کا حجم ابھی مکمل نہ ہوا ہو اور خریدار کے قبضہ کے حوالے سے بیع کے وقت یہ بات طے ہو کہ خریدار پھلوں کو فوراً اتار لے گا ،یا خریدار کے قبضے کے حوالے سے عقد میں کوئی بات طے نہ کی جائے کہ خریدار کب قبضہ کرے گا ،یہ صورت بھی جائز ہے۔ "قال (ومن باع ثمرة بدا صلاحها أو لا صح) لأنه مال متقوم منتفع به في الحال أو في المال وقيل لا يجوز قبل أن يصير منتفعا به والأول أصح… (ويقطعها المشتري) تفريغا لملك البائع هذا إذا اشتراها مطلقا أو بشرط القطع." (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،ج:4،ص:12،طبعۃ:المکتبۃ الشاملۃ) 4۔چوتھی صورت یہ ہے کہ پھلوں کی بیع، پھل ظاہر ہونے کے بعدایسے وقت میں کی جائے کہ پھلوں کا حجم مکمل ہو چکا ہواور خریدار کے قبضے کے حوالے سے بیع کے وقت یہ بات طے ہو کہ پھل پکنے تک درخت پر لگے رہیں گے ،تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق یہ صورت بھی جائز ہے۔ "قال (وإن شرط تركها على النخل فسد) أي البيع؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد وهو شغل ملك الغير… وكذا إذا تناهى عظمها عندهما؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد، وقال محمد - رحمه الله - لا يفسد استحسنه للعادة، بخلاف ما إذا لم يتناه عظمها؛ لأنه شرط فيه الجزء المعدوم۔۔۔" (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،ج:4،ص:12،طبعۃ:المکتبۃ الشاملۃ) 5۔پانچویں صورت یہ ہے کہ پھلوں کی بیع ،پھل ظاہر ہونے کے بعدایسے وقت میں کی جائے کہ پھلوں کا حجم مکمل نہ ہوا ہواور خریدار کے قبضے کے حوالے سے بیع کے وقت یہ بات طے ہو کہ پھل پکنے تک پھل درخت پر لگے رہیں گے۔یہ صورت اصولی لحاظ سے ناجائز ہے،لیکن آج کل اس شرط فاسد کا عرف قائم ہونے کی وجہ سے اس کی اجازت ہے۔ "قال (وإن شرط تركها على النخل فسد) أي البيع؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد وهو شغل ملك الغير… وكذا إذا تناهى عظمها عندهما؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد، وقال محمد - رحمه الله - لا يفسد استحسنه للعادة، بخلاف ما إذا لم يتناه عظمها؛ لأنه شرط فيه الجزء المعدوم۔۔۔" (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،ج:4،ص:12،طبعۃ:المکتبۃ الشاملۃ) "(قوله: وأفتى الحلواني بالجواز) وزعم أنه مروي عن أصحابنا وكذا حكى عن الإمام الفضلي، وقال: استحسن فيه لتعامل الناس، وفي نزع الناس عن عادتهم حرج قال: في الفتح: وقد رأيت رواية في نحو هذا عن محمد في بيع الورد على الأشجار فإن الورد متلاحق، وجوز البيع في الكل...(قوله: لو الخارج أكثر) ذكر في البحر عن الفتح أن ما نقله شمس الأئمة عن الإمام الفضلي لم يقيده عنه بكون الموجود وقت العقد أكثر بل قال: عنه أجعل الموجود أصلا، وما يحدث بعد ذلك تبعا." (حاشیۃ ابن عابدین،ج:4 /555 ،ط:المکتبۃ الشاملۃ) 6۔چھٹی صورت یہ ہےکہ کا فی حد تک پھل ظاہر ہوچکے ہوں اور کچھ باقی ہوں اور ایسی صورت میں موجود اور غیر موجود سب پھلوں کی اس طرح بیع کی جائےکہ اصلاً تو موجود پھلوں کی بیع مقصود ہو مگر بیع میں غیر موجود پھلوں کو بھی داخل کرلیا جائے،اس صورت کا حکم یہ ہے کہ ضرورت کی وجہ سے اس طرح بیع کرنا جائز ہے،نیز اس صورت میں پھل پکنے تک درخت پر باقی رکھنے کی شرط بھی جائز ہے۔ "(قوله: وأفتى الحلواني بالجواز) وزعم أنه مروي عن أصحابنا وكذا حكى عن الإمام الفضلي، وقال: استحسن فيه لتعامل الناس، وفي نزع الناس عن عادتهم حرج قال: في الفتح: وقد رأيت رواية في نحو هذا عن محمد في بيع الورد على الأشجار فإن الورد متلاحق، وجوز البيع في الكل...(قوله: لو الخارج أكثر) ذكر في البحر عن الفتح أن ما نقله شمس الأئمة عن الإمام الفضلي لم يقيده عنه بكون الموجود وقت العقد أكثر بل قال: عنه أجعل الموجود أصلا، وما يحدث بعد ذلك تبعا." (حاشیۃ ابن عابدین،ج:4 /555 ،ط:المکتبۃ الشاملۃ)

حوالہ جات

.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔