021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجتماعی قربانی کی رقم میں بلا اجازت تصرف کرنا
..وکیل بنانے کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

اجتماعی قربانی کے منتظمین حضرات ایجنٹوں کے ذریعے مستحقین میں رقم تقسیم کرتے ہیں ، بعض اوقات وہ ایجنٹ اپنا کمیشن لے کر آگے دوسرے ایجنٹوں کو رقم حوالہ کرتے ہیںجس کا نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ جب مستحقین تک رقم پہنچتی ہے،تو وہ قربانی کیلئے ناکافی ہوتی ہے،جس کی وجہ سے مستحقین یا تو خود اپنی طرف سے رقم ملاکر جانور خرید لیتے ہیں،یا وہ رقم قربانی کے بجائے اپنے دیگر مصارف میں استعمال کرتے ہیں۔ اس اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والوں کی قربانی ادا ہوجائے گی یا نہیں؟

o

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہےتو ایسی صورت میں قربانی میں حصہ لینے والوں میں سے کسی حصہ دار کی قربانی کودرست قرار دینا بہت مشکل ہے ،کیونکہ اس میں درج ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ (1)منتظمین حصہ داروں کی اجازت کےبغیر قربانی کی رقم ایجنٹوں کو حوالہ کرتے ہیں۔ (2)ذکرکردہ وضاحت کےمطابق بعض اوقات مستحقین قربانی کی رقم دوسرے مصارف میں خرچ کرتے ہیں اور قربانی نہیں کرتے،لہذااِس بات کی تعیین کا کوئی راستہ نہیں ہے کہ کن حصہ داروں کی رقم قربانی کے بجائے دیگر مصارف میں خرچ ہوئی۔ (3)جس صورت میں مستحق لوگ حصہ داروں کی اجازت کے بغیر اپنی طرف سے رقم ملاکرقربانی کرتے ہیں اس صورت میں بھی رقم دھندگان کی طرف سے قربانی نہیں ہوگی۔ لہذامذکورہ بالاخرابیوں اور منتظمین کی بے احتیاطی کے سبب چونکہ اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والوں کی قربانی ضائع ہونا تقریباً یقینی ہے اس لیےاِس قسم کی اجتماعی قربانی میں حصہ لینے سے اجتناب کرنا لازم ہےاور اس صورتِ حال میں جو لوگ اس اجتماعی قربانی کیلئےرقم وصول کررہے ہیں یا اس میں کمیشن کھا رہے ہیں یا اس رقم سے قربانی نہیں کررہے،وہ سخت گناہ گار ہیں اور اُن کے ذمہ اس رقم کا ضمان لازم ہے۔

حوالہ جات

ولو اشترك ثمانية في سبع بقرات لم يجزهم؛ لأن كل بقرة بينهم على ثمانية أسهم فيكون لكل واحد منهم أنقص من السبع، وكذلك إذا كانوا عشرة أو أكثر فهو على هذا. (بدائع الصنائع :5/ 71) (ولو مات واحد منهم فذبحها الباقون بغير إذن الورثة لا تجزيهم) لأنه لم يقع بعضها قربة، وفيما تقدم وجد الإذن من الورثة فكان قربة. (العناية شرح الهداية:9/ 517) - الوكالة في الزواج والطلاق، والإجارة والرهن ونحوها من إدارة الأموال: يتقيد الوكيل في ذلك بما يقيده به الموكل، وليس له أن يتصرف بما فيه ضرر. 5 - هل للوكيل توكيل غيره؟ إذا كانت الوكالة خاصة أو مقيدة بأن يعمل الوكيل بنفسه، لم يجز له توكيل غيره فيما وكل فيه. وإن كانت الوكالة مطلقة أو عامة بأن قال له: اصنع ما شئت، جاز له توكيل الغير، ويكون هذا الغير وكيلاً مع الأول عن الموكل. هذا عند الحنفية (الفقه الإسلامي وأدلته:4/ 3006)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔