021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف زمین کو وقف کے مقصد کے علاوہ میں استعمال کرنا
..وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

ایک شخص کچھ اراضی کو ان شرائط کے ساتھ وقف کیا کہ ان اراضی میں صرف قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس اور دینی علوم کی تعلیم دی جائیگی"اور"اس وقف میں تعمیر ہونے والا ادارہ مسجد، مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں سے انتظامیہ کوئی فیس یا معاوضہ نہیں لےگی"۔اب انتظامیہ مسجد و مدرسے کے ساتھ ساتھ ان اراضی پر ایک اسلامک اسکول بھی بنانا چاہتی ہے۔ کیا انتظامیہ کے لیے اسلامک اسکول بنانا جائز ہے؟

o

جو جگہ واقف نے جس مقصد کے لئے وقف کی ہو اسے اسی مقصد میں استعمال کرنا شرعاً لازم اور واجب ہے ،لہٰذاصورتِ مسئولہ میں مذکورہ وقف اراضی کے کسی حصے پر باقاعدہ مستقل طور پر اسلامک اسکول بنانا جائز نہیں ہے کیونکہ سوال میں ذکر کردہ شرائط کے مطابق واقف نے مذکورہ اراضی کے وقف میں واضح طورپریہ بتایا ہے کہ" ان اراضی میں صرف قرآن وحدیث کی تعلیم وتدریس اور دینی علوم کی تعلیم دی جائےگی"اور"اس وقف میں تعمیر ہونے والا ادارہ مسجد، مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں سے انتظامیہ کوئی فیس یا معاوضہ نہیں لےگی" ان شرائط سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ واقف نےمذکورہ اراضی کو ایسے دینی مدرسے کے لئے وقف کیاہے جس میں اصالۃً قرآن وحدیث اور دیگر دینی علوم کی تعلیم وتدریس ہو اور تعلیم بلا معاوضہ ہو ،لہذامذکورہ وقف اراضی پرایسا اسلامک اسکول بناناجس میں اصالۃً قرآن و حدیث کی تعلیم نہ دی جاتی ہوتویہ واقف کی عائد کردہ شرائط کی خلاف ورزی ہےاس لئے مذکورہ زمین پرمستقل اسلامک اسکول بنانا شرعاًجائز نہیں، البتہ مدرسہ میں داخل ہونے والے طلباء جو اعلی دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتےہیں ان کی ابتدائی تعلیم کے لئے اگر ضمناً کوئی اسکول ابتدائی تعلیم کے لئےقائم کرلیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

وَقَدْ صَرَّحُوا بِأَنَّ شَرْطَ الْوَاقِفِ كَنَصِّ الشَّارِعِ فَأَشْبَهَ الْإِرْثَ فِي عَدَمِ قَبُولِهِ الْإِسْقَاطَ (الدر المختار :4 / 443) ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية:2 / 490) مطلب في استبدال الوقف وشروطه (قوله: وجاز شرط الاستبدال به إلخ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔