021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح نامہ میں شوہرکی طرف سے عورت کوتفویض طلاق کاحکم
..طلاق کے احکامکسی کو طلاق واقع کرنے کا حق دینے کا بیان

سوال

:کیافرماتے ہیں علماء کرام ان مسائل کے بارے میں جودرج ذیل ہیں: میں مسماۃ گلشن آراءدخترشمس الرحمان تربیلہ ڈیم غازی کی رہائشی ہوں۔ میرانکاح عبدالصبورولد روزم خان کے ساتھ 1999 ٫ میں ہوا،نکاح کے دوران شوہرنے مندرجہ ذیل شرائط پرکسی ایک شرط کی موجودگی کی صورت میں طلاق کاحق بیوی کوتفویض کردیاہے۔ ۱۔رہائش کی جگہ میں جبرکرنے کی صورت میں۔ ۲۔ناراضگی کی صورت میں تین ماہ والدین یااہل خاندان کے پاس گزارنے پر۔ ۳۔بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی صورت میں۔ میں نے عبدالصبورولد روزم خان کے ساتھ 9سال گزارے،جس سے میری تین بیٹیاں پیداہوئیں،ان 9 سالوں میں روزاول سے ہی عبدالصبورکارویہ میرے ساتھ ظالمانہ تھا،آئے دن جسمانی تشدد کرتاتھا،نان نفقہ اداء نہیں کرتاتھا،کوئی کام کاج نہیں کرتاتھا،جواس کاپسندیدہ مشغلہ تھا۔ چونکہ عبدالصبورکوئی کام کاج نہیں کرتاتھا،لہذاگھریلوحالات کے پیش نظر میں نے نوکری شروع کی چونکہ میں ایک گورنمنٹ ٹیچرہوں،میری تنخواہ بھی وہ جوئےمیں اڑادیتاتھا،روزروزکےجسمانی تشدد، بے عزتی،اورگھریلوحالات سے تنگ آکرعبدالصبورکاگھرچھوڑکراپنے والدین کے گھرآئی ہوں،پچھلے آٹھ سالوں سے اپنے ماں باپ کے گھربیٹھی ہوں،اورکسی صورت عبدالصبورولد روزم خان کے گھرجانے کوتیارنہیں۔ راہنمائی فرمائیں اب جبکہ عبدالصبورولد روزم خان کسی بھی صورت میں چھوڑنے پرراضی نہیں جبکہ گلشن آراء کسی بھی صورت میں واپسی پرراضی نہیں ہے۔ کیامندرجہ بالاشرائط کی صورت میں جبکہ نکاح نامہ میں طلاق کاحق عورت کوتفویض کردیاگیاہےتوگلشن آراء عبدالصبورسے جھٹکاراحاصل کرنے کے کے لئےاس حق کواستعمال کرکے طلاق لے سکتی ہے؟

o

بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں مندرجہ بالاشرائط میں سے کسی ایک شرط کے پائے جانے پربھی عورت کوتفویض طلاق حاصل ہوجائے گا،لیکن تفویض طلاق کے بعد طلاق واقع ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جیسے ہی عورت کومعلوم ہوکہ شرط کی خلاف ورزی ہوئی ہےوہ فوراطلاق کواختیارکرلے،اگرتھوڑی سی بھی تاخیر ہوئی توعورت کوطلاق کااختیار نہ ہوگا،البتہ مذکورہ شرائط میں سے کسی ایک شرط کی خلاف ورزی پراس نے طلاق کواسی مجلس میں اختیار نہ کیاتودوسری شرط کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کوطلاق کااختیار بہرحال ہوگا،اسی طرح تیسری شرط میں بھی۔ مذکورہ صورت میں اگرتینوں شرطوں کی خلاف ورزی ہوئی اورعورت نے کسی مجلس میں بھی طلاق کواختیار نہیں کیاتھاتو اب عورت اپنے اوپرطلاق واقع نہیں کرسکتی۔

حوالہ جات

"رد المحتار"11 / 219: باب تفويض الطلاق لما ذكر ما يوقعه بنفسه بنوعيه ذكر ما يوقعه غيره بإذنه ۔ وأنواعه ثلاثة : تفويض ، وتوكيل ، ورسالة وألفاظ التفويض ثلاثة : تخيير وأمر بيد ، ومشيئة ۔ ( قال لها اختاري أو أمرك بيدك ينوي ) تفويض ( الطلاق ) لأنها كناية فلا يعملان بلا نية ( أو طلقي نفسك فلها أن تطلق في مجلس علمها به ) مشافهة أو إخبارا ( وإن طال ) يوما أو أكثر ما لم يوقته ويمضي الوقت قبل علمها ( ما لم تقم ) لتبدل مجلسها حقيقة ( أو ) حكما بأن ( تعمل ما يقطعه ) مما يدل على الإعراض لأنه تمليك فيتوقف على قبول في المجلس۔ "فتح القدير"8 / 181: ( قوله : ولأنه تمليك الفعل منها والتمليكات تستدعي جوابا في المجلس ۔ "فتح القدير "8 / 218: وقدمنا ما في قوله يستدعي جوابا في المجلس ، فالصواب إسناد الاقتصار على المجلس إلى إجماع الصحابة حيث قالوا لها في المجلس ( قوله : ثم إن كانت تسمع ) أي تسمع لفظه بالتخيير ( اعتبر مجلسها ذلك ) أي مجلس سماعها ( وإن كانت لا تسمع فمجلس علمها ) على ما ذكرناه ( لأن هذا تمليك يفيد معنى التعليق ۔ "بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع"7 / 110: وأما التفويض المعلق بشرط فلا يخلو من أحد وجهين إما أن يكون مطلقا عن الوقت ، وإما أن يكون مؤقتا ، فإن كان مطلقا بأن قال : إذا قدم فلان فأمرك بيدك فقدم فلان فالأمر بيدها إذا علمت في مجلسها الذي يقدم فيه فلان ؛ لأن المعلق بشرط كالمنجز عند الشرط فيصير قائلا عند القدوم أمرك بيدك فإذا علمت بالقدوم كان لها الخيار في مجلس علمها۔ وإن موقتا بأن قال : إذا قدم فلان فأمرك بيدك يوما أو قال : اليوم الذي يقدم فيه فلان ، فإذا قدم فلها الخيار في ذلك الوقت كله إذا علمت بالقدوم غير أنه إذا ذكر اليوم منكرا يقع على يوم تام . بأن قال : إذا قدم فلان فأمرك بيدك يوما۔ وإن عرفه يقع على بقية اليوم الذي يقدم فيه ولا يبطل بالقيام عن المجلس ۔ وهل يبطل باختيارها زوجها ؟ فهو على ما ذكرنا من الاختلاف وليس لها أن تختار نفسها في الوقت كله إلا مرة واحدة لما بينا ، ولو لم تعلم بقدومه حتى مضى الوقت ثم علمت فلا خيار لها بهذا التفويض أبدا لما م ۔ "الفتاوى الهندية"9 / 10: التفويض المعلق بشرط إما أن يكون مطلقا عن الوقت وإما أن يكون موقتا فإن كان مطلقا بأن قال إذا قدم فلان فأمرك بيدك فقدم فلان فأمرها بيدها إذا علمت في مجلسها الذي قدم فيه وإن كان موقتا بأن قال إذا قدم فلان فأمرك بيدك يوما أو قال اليوم الذي يقدم فيه فإذا قدم فلها الخيار في ذلك الوقت كله إذا علمت بالقدوم غير أنه إذا ذكر اليوم منكرا يقع على يوم تام وإن عرفه يقع على بقية اليوم الذي يقدم فيه ولا يبطل بالقيام عن المجلس وليس لها أن تختار نفسها في الوقت كله إلا مرة واحدة ولو لم تعلم بقدومه حتى مضى الوقت ثم علمت فلا خيار لها بهذا التفويض أبدا هكذا في البدائع ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔