021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خودکشی کرنےکرنےوالےکی نمازِجنازہ کاحکم
..جنازے کےمسائلجنازے کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب ایک مسئلہ کےبارے میں جانناچاہتاہوں وہ یہ ہے کہ والدصاحب نےچھوٹےبھائی کارشتہ اپنےبھائی کی بیٹی سےکافی عرصہ پہلےطےکیاتھا،والدصاحب کےوفات کےبعدہم اس کی شادی اپنےچچاکی بیٹی سےکراناچاہتےتھےلیکن وہ میرےبھائی کوبالکل پسندنہ تھی، میرے چھوٹے بھائی کودوسری لڑکی پسند تھی،ہم بھائیوں نےاس کوسمجھانےکی بہت کوشش کی اوربتایابھی کہ ایک مرتبہ رشتہ ہوجانےکےبعدلڑکی سےرشتہ توڑنےسےاس کی پوری زندگی خراب ہوجاتی ہے(کیونکہ ہمارےہاں لڑکی سے منگنی کرنےکےبعداگررشتہ ختم کردیاجائےتوخاندان میں کوئی بھی اس لڑکی سےمنگنی نہیں کرتااوراس کی وجہ سےخاندان میں دشمنی پیداہوجاتی ہے) لیکن وہ اپنی بات پرڈٹارہا۔ہم نےتومجبورہوکراس کی بات مان لی لیکن چچاکوراضی کرنا مشکل تھا،چچاکوصورت حال بتائی تواس وقت اس نے کوئی جواب نہیں دیالیکن دوسرےروزاس کے بیٹےہمارے بیٹھک میں آئےاورکہاکہ سناہےکہ خاندان میں دشمنی پیداکرنےکاتم میں بڑاشوق پیداہوگیا، میں نےکہاایسی کوئی بات نہیں ہے،اس نےکہاکہ بھائی کوسمجھاؤکہ ایسی حرکتیں کرنےسےخاندان میں دشمنی پیدا نہ کرے،اوریہ بھی کہا کہ ہماری عزت کوایک مہینے کےاندراندراپنی عزت بنالو(دونوں کی شادی کروادو)،ہم نےایک بارپھرسمجھانےکی کوشش کی اورکہاکہ خاندان کاخیال رکھ اورلڑکی کی زندگی خراب مت کرتواس نےکہاکہ اس سےشادی نہ کراکےشایداس کی زندگی خراب نہ ہو،لیکن شادی کراکےاس کی زندگی یقین کےساتھ خراب ہوگی،ہم نےکہاشادی کرلے،اس کےبعداس کی زندگی خراب ہوتی ہےتوہوجائے۔ہم اس کےمقصدکونہیں سمجھے،ہم سمجھے کہ زیادہ سےزیادہ بیوی کومارےگاوغیرہ لیکن ہمیں کیاپتاتھاوہ خودکشی کرےگا۔ایک مصیبت توہم پرآئی ہی تھی اس کےساتھ ایک اور مصیبت بھی آگئی جب مولوی صاحب نے کہا کہ میں اس کی نمازِجنازہ نہیں پڑھوں گا،پھرہم اس کوقبرستان لےگئےاورایک حافظ نےاس کاجنازہ پڑھا۔اب پوچھنا یہ ہےکہ اس بھائی کا جنازہ پڑھنا صحیح تھایاغلط؟اوراگرصحیح تھاتومولوی صاحب کاجنازہ پڑھنے سے انکارکرناصحیح ہے؟اورکیاوہ مسلمان ہے؟کیونکہ کافرکاجنازہ نہیں پڑھاجاتا۔

o

اسلام میں خود کشی حرام اورکبیرہ گناہ ہےلیکن خودکشی کرنےسےآدمی کافر نہیں ہوتا۔عام لوگوں کےلیےخودکشی کرنےوالےکی نمازِجنازہ پڑھنادرست ہے،البتہ ذی وجاہت اور بااثر لوگوں کواس میں شرکت نہیں کرنی چاہیےتاکہ لوگوں کواس برےفعل کی نحوست اور گھناؤنےپن کااحساس ہو۔اس لیےآپ کےامام صاحب کاجنازہ نہ پڑھانادرست تھا،لیکن انہیں چاہیےتھاکہ کسی غیر معروف سے نمازپڑھوادیتے۔نیزآپ تمام خاندان والوں کو بھی اپنےرویوں پرنظرثانی کرنی چاہیےاوراب جبکہ ان کی وجہ سےاتنابڑاحادثہ ہوچکاہےتواستغفارکرتےہوئےاپنی بےجارسوم اورروایات پرشدت سےعمل کرانےکاسلسلہ ترک کردیناچاہیے۔

حوالہ جات

(من قتل نفسه) ولو (عمدا يغسل ويصلى عليه) به يفتى وإن كان أعظم وزرا من قاتل غيره. ورجح الكمال قول الثاني بما في مسلم «أنه - عليه الصلاة والسلام - أتي برجل قتل نفسه فلم يصل عليه» . (الدر المختار) (قوله به يفتى) لأنه فاسق غير ساع في الأرض بالفساد، وإن كان باغيا على نفسه كسائر فساق المسلمين .زيلعي. (قوله: ورجح الكمال قول الثاني إلخ) أي قول أبي يوسف: إنه يغسل، ولا يصلى عليه .إسماعيل عن خزانة الفتاوى. وفي القهستاني والكفاية وغيرهما عن الإمام السعدي: الأصح عندي أنه لا يصلى عليه لأنه لا توبة له. قال في البحر: فقد اختلف التصحيح، لكن تأيد الثاني بالحديث. اهـ. أقول: قد يقال: لا دلالة في الحديث على ذلك لأنه ليس فيه سوى «أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يصل عليه» فالظاهر أنه امتنع زجرا لغيره عن مثل هذا الفعل كما امتنع عن الصلاة على المديون، ولا يلزم من ذلك عدم صلاة أحد عليه من الصحابة؛ إذ لا مساواة بين صلاته وصلاة غيره. (رد المحتار:3/ 127،دارالمعرفۃ) ومن قتل نفسه عمدا يصلى عليه عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله، وهو الأصح؛ لأنه فاسق غير ساع في الأرض بالفساد، وإن كان باغيا على نفسه كسائر فساق المسلمين، والله أعلم. تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي :1/ 250) من قتل نفسه عمدا اختلف فيه المشايخ .قيل يصلى عليه ، وقيل لا .ومنهم من حكى فيه خلافا بين أبي يوسف وصاحبيه ، فعنده لا يصلى عليه ، وعندهما يصلى عليه لأبي يوسف أنه ظالم بالقتل فيلحق بالباغي .ولهما أن دمه هدر كما لو مات حتف أنفه . وفي صحيح مسلم ما يؤيد قول أبي يوسف عن جابر بن سمرة قال { أتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل قتل نفسه بمشاقص فلم يصل عليه }.(فتح القدير :2/ 108،مکتبۃرشیدیۃ)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔