021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام نے قراءت شروع کردی تومقتدی ثناء نہ پڑھے
..نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

اگر امام بلندآوازسےسورت نہیں پڑھ رہاہےجیسےدوپہر کی نمازہےاورنمازی جماعت میں آکرشامل ہوجائے تونمازی سبحانک اللہم پڑھےگا؟اسی طرح اگر امام رکوع کی حالت میں ہےتوکیا اس وقت بھی پڑھےگا؟کبھی کبھی امام رکوع میں ہوتاہے تورکعت جانے کےڈرسے سبحانک اللہم پوری پڑھ نہیں پاتااور رکوع کرلیتا ہوں توکیا میری نماز صحیح ہوئی یا نہیں؟ o

o

صورت مسئولہ میں امام جب قراءت کررہاہوتو خواہ جہری نماز ہویاسری ،اس دوران جماعت میں شریک ہونےوالانمازی ثنا نہیں پڑھےگا،اسی طرح جب امام رکوع میں ہوتوشریک ہونےوالانمازی ثنانہیں پڑھےگا،بلکہ تکبیرِتحریمہ کہہ کرامام کےساتھ رکوع میں شامل ہوجائےگا۔

حوالہ جات

(إلا إذا) شرع الإمام في القراءة سواء (كان مسبوقا) أو مدركا (و) سواء كان (إمامه يجهر بالقراءة) أو لا (ف) إنه (لا يأتي به) لما في النهر عن الصغرى: أدرك الإمام في القيام يثني ما لم يبدأ بالقراءة، وقيل في المخافتة يثني، (قوله لما في النهر إلخ) تعليل لتحويل الشارح عبارة المصنف، لأن قضية المتن الإتيان بالثناء في المخافتة وإن بدأ الإمام بالقراءة، وهو ضعيف لتعبير الصغرى عنه بقيل. ووجهه أنه إذا امتنع عن القراءة فبالأولى أن يمتنع عن الثناء. (رد المحتارعلي الدر المختار:2/ 488دارالمعرفۃ) ولو وجد الامام في الركوع أو السجود والقعود ينبغى أن يكبر قائماثم يتبعه في الركن الذى هو فيه. (البدائع :1/ 595)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔