021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوتیلی ماں کونکاح ثانی سےروکنااورمہرمیں دیےگئےمکان کاحکم
61577نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

میراتعلق ایک غریب خاندان سےہے۔ہم ایک کرایہ کےمکان میں رہتے تھے ہم تین بہنیں اوردوبھائی ہیں۔میری اورمیری ایک بہن کی شادی ہوچکی ہےاوردوسرےبہن بھائی مجھ سے چھوٹےہیں۔میں نےمجبوری میں ایک ایسےآدمی سےشادی کی جوپہلےسےشادی شدہ تھےاوراس کےبچےبھی ہیں۔نکاح کےوقت میں نے مہر میں دوتولہ سونااورایک مکان دینےکی شرط رکھی انہوں نےتین تولےسونادیااورایک مکان دیاجس میں ابھی رہ رہی ہوں۔ڈیڑھ سال پہلے میرےشوہرکا انتقال ہوگیااورمیں ابھی تک اسی مکان رہ رہی ہوں اورشوہرکےانتقال کے بعدمیرے گھر والےبھی میرے ساتھ رہنےلگے ۔ابھی کچھ عرصہ پہلےرشتہ آیا تومیں نےوالدہ کےکہنےپررشتےکےلیےہاں کردی،جب شوہر کےبیٹےکومعلوم ہواتو انہوں نےکہاکہ تم میرے باپ کی بیوی ہو،تم کسی اورسےشادی نہیں کرسکتی،اگر شادی کرنی ہےتومیرے چچا سےکرو(میری عمرچوبیس سال ہے اوراس کےچچا کی عمرپینتالیس پچاس سال ہے،اس سےشادی کرناشادی نہیں خودکشی ہے)ورنہ خاموشی سےگھر میں زندگی گزارو، گھرکاخرچہ ہم دیں گے، ہماری عزت اورغیرت کےساتھ مت کھیلو ،میرےباپ نےیہ گھر بیوی ہونے کی وجہ سےدیاتھالہذابیوی بن کررہوورنہ گھرسے بےدخل کرکےواپس لےلیں گے۔مفتی صاحب آپ بتائیں کہ دوسری جگہ نکاح کرنےسےیہ گھرمیرانہیں رہےگا؟اور ان کے بیٹے کا دوسری جگہ شادی سےروکناصحیح ہے؟اس گھرکے علاوہ میرےپاس کچھ نہیں،یہی میری ساری دولت ہے۔دوسری بات یہ بتائیں کہ میرے شوہربہت مالدارتھےتوکیا اس کےمال وجائیدادمیں اس گھرکےعلاوہ میراکوئی حصہ نہیں ہے،اگرہےتووہ بھی بتادیں؟ جواب تنقیح:مرحوم نےتین شادیاں کی تھی۔پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہ تھی۔دونوں بیویاں اوردوسری بیوی کی اولاد سب ایک گھرمیں ساتھ رہتےتھے،پھرپہلی بیوی کے انتقال کےبعدمیری بھانجی سےشادی کی لیکن دوسری بیوی کی وجہ سےاس کوالگ گھردےدیا۔ اب دوسری بیوی اپنے بیٹوں کےساتھ شوہرکےدوسرےگھر میں رہ رہی ہے۔

o

سوال میں بیان کردہ معلومات کےمطابق شوہرکاحق ِمہر میں مکان دینےسےمکان بیوی کی ملکیت میں آچکاہے،لہذابیٹےکو مرحوم کی بیوہ کومکان سےبےدخل کرنے اور مکان واپس لینے کا اختیار حاصل نہیں اور دوسری جگہ نکاح کرنے سےروکنا ظلم ہے،لہذابیٹےپرلازم ہےکہ وہ اپنےکیےپرتوبہ واستغفار کرےاورمرحوم کی بیوہ کونکاح کرنےسےنہ روکے۔ سوال میں بیان کردہ تفصیل سےمعلوم ہوتاہےکہ شوہرصاحب اولادہےاوراس کی دوبیویاں حیات ہیں، لہذاآپ کو شوہرکےمال اور جائیدادسےنصف ثمن(6.25%حصہ)ملےگا۔

حوالہ جات

{وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (232)} [البقرة: 232] (والولاية تنفيذ القول على الغير) تثبت بأربع: قرابة، وملك، وولاء، وإمامة (شاء أو أبى) وهي هنا نوعان: ولاية ندب على المكلفة ولو بكرا وولاية إجبار على الصغيرة ولو ثيبا ومعتوهة ومرقوقة...(قوله قرابة) دخل فيها العصبات والأرحام (قوله وملك) أي ملك السيد لعبده أو أمته (قوله وولاء) أي ولاء العتاقة والموالاة كما سيأتي (قوله وإمامة) دخل فيها القاضي المأذون بالتزويج لأنه نائب عن الإمام.( رد المحتارعلي الدر المختار:3/ 55) وروي عن زرارة بن أبي أوفى أنه قال: قضى الخلفاء الراشدون المهديون أنه إذا أرخى الستور وأغلق الباب فلها الصداق كاملا وعليها العدة دخل بها أو لم يدخل بها، وحكى الطحاوي في هذه المسألة إجماع الصحابة من الخلفاء الراشدين وغيرهم؛ ولأن المهر قد وجب بنفس العقد إما في نكاح فيه تسمية فلا شك فيه، وإما في نكاح لا تسمية فيه فلما ذكرنا في مسألة المفوضة إلا أن الوجوب بنفس العقد ثبت موسعا ويتضيق عند المطالبة، والدين المضيق واجب القضاء. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :2/ 292)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔