021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فوت شدہ نمازپڑھنےکاطریقہ
61696نماز کا بیانقضاء نمازوں کا بیان

سوال

میرےتقریباً دوسال کی قضانمازیں مجھ پرباقی ہیں۔ابھی الحمدللہ ہرنمازکےساتھ قضانماز پڑھتا ہوں اور نیت کرتاہوں کہ(فجرنمازکےساتھ) پہلےفجرقضانمازاداکروں،یعنی ہرفرض نمازکےوقت اس وقت کی قضا نماز پڑھنےکاارادہ ہوتاہے،لیکن کبھی ایساہوتاہےکہ اسی دن یعنی فجرکےاذان کےبعد متصل پانچ نمازیں اکھٹی ادا کرتاہوں اورکبھی ہرفرض نمازکےساتھ اسی وقت کی فوت شدہ نماز پڑھتاہوں توکیا یہ طریقہ درست ہے؟ دوسرایہ کہ میں عصرکی نمازسےپہلےچاررکعت نفل کےبجائےقضانمازیں پڑھتاہوں توکیامجھےنوافل کاثواب مل سکتاہے؟

o

قضانمازوں کواکھٹی پڑھنایاہرفرض نمازکےساتھ اسی وقت کی قضانمازاداکرنادونوں درست ہے۔اگر اسباب ظاہرہ کےپیشِ نظرموت سےپہلےقضانمازوں سےسبکدوشی کی توقع ہو،تو نوافل ماثورہ نہ چھوڑیں،لیکن اگرقضانمازیں بہت زیادہ ہیں اورعمرکم نظرآرہی ہےتواصولانوافل پرقضاکوترجیح لازم ہےاور غیرمؤکدہ سنتوں کی جگہ فوت شدہ نمازیں پڑھنازیادہ افضل اورموجب ثواب ہے۔

حوالہ جات

قال العلامہ المرغینانی رحمہ اللہ :ولو فاتته صلوات رتبها في القضاء ،كما وجبت في الأصل؛لأن النبي عليه الصلاة والسلام شغل عن أربع صلوات يوم الخندق ،فقضاهن مرتبا،ثم قال:" صلوا كما رأيتموني أصلي ". إلا أن تزيد الفوائت على ست صلوات ؛ لأن الفوائت قد كثرت ،فيسقط الترتيب فيما بين الفوائت نفسها ،كما سقط بينها وبين الوقتية .وحد الكثرة أن تصير الفوائت ستا؛ لخروج وقت الصلاة السادسة ،وهو المراد بالمذكور في الجامع الصغير، وهو قوله: " وإن فاتته أكثر من صلاة يوم وليلة أجزأته التي بدأبها "؛ لأنه إذا زاد على يوم وليلة تصير ستا. وعن محمد رحمه الله أنه اعتبر دخول وقت السادسة .والأول هو الصحيح؛لأن الكثرة بالدخول في حد التكرار، وذلك في الأول. (الهداية :1/ 73) (قوله وفي الحوائج) أعم مما قبله أي ما يحتاجه لنفسه من جلب نفع ودفع ضره وأما النفل فقال في المضمرات: الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلاة التي رويت فيها الأخبار. اهـ. ط أي كتحية المسجد، والأربع قبل العصر والست بعد المغرب. (رد المحتار:2/ 74،ایچ ـ ایم ـ سعید)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔