021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عیب دار موبائل کی واپسی پر نئے موبائل خریدنے کی شرط لگانا
60571خرید و فروخت کے احکامخریدی ہوئی چیز میں خرابی )عیب( نکلنے کے متعلق احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے صدر میں موبائل مارکیٹ سے ایک موبائل مبلغ 6000 پرخریدا بعد میں اسی موبائل میں عیب نکل آیا جو خصوصیات بائع نے بتائی تھی وہ اس میں نہیں تھی ،مارکیٹ والے نے واپس کرنے کے لیے یہ شرط لگائی کہ دوسرا موبائل لے لے اوروہ اس موبائل سے 3000روپے مہنگا تھا یعنی اس شرط کے بغیر وہ واپس نہیں لے رہا تھا تو میں نے اسی وجہ سے دوسرا موبائل خریدا ،کیا یہ بیع درست ہے یانہیں ؟

o

صوت ِمسئولہ میں موبائل میں اگر واقعۃً وہ خصوصیات نہیں تھی جو بائع نے بتائی تھی تویہ موبائل میں عیب تھاجس کی وجہ سے مشتری کویہ اختیارتھاکہ پوری قیمت پرخریداری کوباقی رکھتے یاواپس کردیتے بشرطیکہ مشتری کو بیع کے وقت اس کا علم تھا اورنہ ہی بعد میں اس پر رضامندی کااظہارکیاتھا نیز جب بائع کو اس عیب کا اعتراف تھا تو اس کےلیے مذکورہ موبائل بلاکسی شرط کےواپس لینا اورپوری قیمت لوٹاناضروری تھا ،لہذا بائع کا موبائل واپسی کےلیے نئے موبائل خریدنے کی شرط لگاناجائز نہیں تھایہ شرط باطل تھی اورہے،لہذا مشتری شرعاً نئے موبائل خریدنے پرمجبورنہ تھا، بائع کے لیے پہلے موبائل کا عیب چھپانا اورپھر جب مشتری نے واپس کرناچاہاتو اس کو نئے موبائل کے خریدنے پر مجبورکرنا جائزطرزِ عمل نہیں تھا۔اس سے وہ گناہگارہوا ، اس پر اللہ کے حضورتوبہ اور استغفار کرنااورخریدارکی حق تلفی کی وجہ سے اس سے معافی مانگناضروری ہے جہاں تک نئے موبائل کی بات ہے یاتو بائع اس کو واپس لے لے یا اس حوالے سے مشتری کوراضی کرلے۔تاہم اگرپہلے ہی بائع اورمشتری مصالحت کی خاطر نئےموبائل کی بیع پر راضی ہوگئے تھے تو پھردوسری بیع صحیح ہوئی ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 47) لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام. تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 31) لا يحل له أن يبيع المعيب حتى يبين عيبه لقوله - عليه السلام - «لا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا وفيه عيب إلا بينه له» رواه ابن ماجه وأحمد بمعناه «ومر - عليه السلام - برجل يبيع طعاما فأدخل يده فيه فإذا هو مبلول فقال من غشنا فليس منا» رواه مسلم وغيره «وكتب - عليه السلام - كتابا بعد ما باع فقال فيه هذا ما اشترى العداء بن خالد بن هودة من محمد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - اشترى منه عبدا أو أمة لا داء ولا غائلة ولا خبثة بيع المسلم للمسلم» رواه ابن ماجه والترمذي وفی العالمگیریہ(4/43) وإذا اشتری مصحفا علی أنہ جامع فإذا فیہ آیتان ساقطتان أو آیۃ ساقطۃٌ قال ہذا عیب یرد بہ. فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 357) (وكل ما أوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب) ؛ لأن التضرر بنقصان المالية، وذلك بانتقاص القيمة والمرجع في معرفته عرف أهله. وفی الھدایۃ(3/23 ) واذاطلع المشتری علی العیب فی المبیع فھوبالخیاروان شاء اخذہ بجمیع الثمن وان شاء ردّہ. تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 31) لو صالح المشتري البائع عن حق الرد بالعيب على مال يجوز وبه قال مالك والشافعي. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 5) (قوله أخذه بكل الثمن أو رده) أطلقه فشمل ما إذا رده فورا أو بعد مدة؛ لأنه على التراخي كما سيذكره المصنف.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔