021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وعدہ بیع کی ایک صورت کا حکم
54414 خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

راقم چنیوٹ میں غلہ منڈی میں زرعی اجناس کی خریدوفروخت اور کمیشن کا کام کرتا ہے۔آج کل مکئی کی آمد ہے۔مل مالکان دن گیارہ بجے مل کے گیٹ پر مکئی کا فی 40 کلو ریٹ بتاتے ہیں کہ دودن تک ہم مل کے گیٹ پر 920 روپے فی چالیس کلو مکئی لیں گےاور مکئی کا معیار بھی بتاتے ہیں۔منڈیوں کے بیوپاری لوگ اپنی آفر لکھواتے ہیں ، مثلایہ کہ ہم ان دو دنوں میں 100 ٹن مکئی بھیجیں گے یا زیادہ،لیکن بیوپاری لوگوں کے پاس ایک من مکئی بھی نہیں ہوتی۔اب یہ تمام بیوپاری مکئی کو منڈی سے خرید کر،مل کے معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں یعنی خشک مکئی، گیلی مکئی،ہلکی مکئی سب کو مکس کر کے مل کے گیٹ پر بھیجتے ہیں۔مل کے چیکر حضرات مکئی کو چیک کر کے بعض ٹرکوں کو معیار کے مطابق بتاتے ہیں، بعض کو کوئی سٹہ(جرمانہ)جیسے ایک کلو فی من لگا کر (40 کلو کو 39 کلو شمارکر کے) لے لیتے ہیں اور بعض کو واپس کر دیتے ہیں۔اس طرح یہ کاروبار ہوتا ہے،یہی کام فلور مل والے گندم کے لئے اور شوگر مل والے گنے کے لئے کرتے ہیں۔ مسئلہ مطلوب یہ ہے کہ بیوپاری حضرات کے پاس جب کوئی مکئی نہیں ہوتی،تو کیا وہ پہلے سے مکئی فروخت کر سکتے ہیں؟؟مل والوں کو بھی یہ علم ہوتا ہے کہ اس بیوپاری کے پاس کوئی مکئی نہیں ہے،اس نے سودا لکھوانے کے بعد ہی خرید کر بھیجنی ہےتو کیا مل والے ایسا سودا کر سکتے ہیں؟؟ تنقیح: سائل نے فون پر یہ بھی بتایا کہ مل والے بہت سے طریقوں سے غریب بیوپاریوں کا استحصال کرتے ہیں، مثلا اگر دو دن بعد مکئی کی قیمت بڑھ جائے تو خوشی خوشی پہلے سے طے شدہ قیمت پرسارا مال لے لیتے ہیں اور اگر قیمت بڑھنے کے بعد کوئی غریب بیوپاری مکئی نہ پہنچائے تو قیمت میں جتنا اضافہ ہوا ہے وہ بھی اس سے وصول کرتےہیں اور اگر قیمت کم ہو جائے تو اس صورت میں معیار کے مطابق ہونے کے باوجود بھی نہیں لیتے اور بیوپاری اپنا مال بیچنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ وہ ٹرانسپورٹ کا کافی خرچہ کر چکے ہوتے ہیں جو مال نہ بکنے پر دو گنا ہو جاتا ہے،لہذا وہ طے شدہ قیمت سے کم پر ہی مال بیچ دیتے ہیں۔

o

بیوپاری حضرات کا آفر لکھواتے وقت یہ کہنا کہ ہم اتنی مکئی بھیج دیں گےاور مل والوں کو اس آفر کو لکھ لینا، اس سے خریدو فروخت کا معاملہ ہو نہیں جاتا،بلکہ یہ خریدوفروخت کامحض ایک وعدہ ہوتا ہےیعنی بیوپاری وعدہ کرتا ہےکہ میں دو دن بعد مکئی فروخت کروں گا اور مل والے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ دو دن بعد اگر بیوپاری ہماری شرائط کے مطابق مکئی لایا تو ہم اس سے مطلوبہ داموں میں خریدیں گے،جبکہ حقیقتا خریدوفروخت اس وقت ہوگی جب بیوپاری مکئی حوالے کرے گا اور مل والا پیسے ادا کرے گا،لہذا اگر آفر لکھواتے وقت بیوپاری کے پاس مکئی نہ ہو اور پھر وہ منڈی سے خرید کر دو دن بعد مل میں پہنچا دے تو اس طرح معاملہ کرنا درست ہے۔البتہ اگر دو دن بعد بیوپاری مکئی نہیں پہنچاتا تو مل والوں کا اس پر جرمانہ لگانا اور قیمت میں جو اضافہ ہوا ہے وہ لینا درست نہیں،اس لئے کہ وعدہ کا ایفاء دیانتہ تو لازم ہوتا ہے قضاء لازم نہیں ہوتا یعنی وعدہ پورا نہ کرنے والے کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ وعدہ پورا کرے،لیکن معاملات میں بعض اوقات شرعی اور سےوعدے کو لازم بھی سمجھا جاتا ہے،کیونکہ بعض اوقات وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے کوئی فریق بہت خرچہ کر لیتا ہے اور وعدہ پورا نہ کرنے کی صورت میں اس کا حقیقی نقصان ہو جاتا ہے، تو ایسی صورتحال میں کسی فریق کے بلاعذر وعدہ خلافی کی وجہ سے دوسرے فریق کا حقیقی نقصان ہو تو وہ دوسرے سے لے سکتا ہے،جیسے بیوپاری صرف اس وعدے کی وجہ سے مکئی لاتا ہے جس پر ٹرانسپورٹ کا بھی کافی خرچہ ہوتا ہے،اب اگر مل والےکسی عذر یا مال میں کسی خرابی وغیرہ نہ ہونے کے باوجود نہ لیں اور بیوپاری کا مال مارکیٹ میں کم ریٹ پر بکے تو جتنا نقصان اس کو اس صورت میں ہوا ہے،صرف اس کے بقدر وہ مل والے سے لے سکتاہے۔اسی طرح اگر مل والا بیوپاری کے وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے کوئی خرچہ کر لے اور بعد میں بیوپاری کے بلاعذرمکئی نہ دینے کی وجہ سے اس کو نقصان ہو جائے، اس صورت میں مل والا بیوپاری سے صرف حقیقی نقصان کے بقدر تاوان لے سکتا ہے۔

حوالہ جات

قال في البحر الرائق: "وفي القنية إنما يحتاج إلى النية إذا لم يكن أهل البلد يستعملون المضارع للحال لا للوعد والاستقبال، فإن كان كذلك كأهل خوارزم لا يحتاج إليها." (ج:5,ص:285, دار الكتاب الإسلامي) وفي مجمع الأنهر: "وما لا تصح إضافته إلى المستقبل عشرة البيع، وإجارته، وفسخه، والقسمة، والشركة، والهبة، والنكاح، والرجعة، والصلح عن مال، والإبراء عن الدين فإن هذه الأشياء تمليكات فلا تجوز إضافتها إلى الزمان كما لا يجوز تعليقها بالشرط لما فيه من معنى القمار." (ج:2,ص:115,دار إحياء التراث العربي) وفي الفتاوى الهندية: وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه فلا ينعقد بيع الكلإ ولو في أرض مملوكة له ولا بيع ما ليس مملوكا له وإن ملكه بعده إلا السلم ، والمغضوب لو باعه الغاضب ثم ضمنه نفذ بيعه." (ج:19,ص:314,المكتبة الشاملة) وفي الفتاوى البزازية: "وأن ذكر البيع بلا شرط ثم ذكر الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ولزم الوفاء وقد يلزم الوعد فيجعل هنا لازماً لحاجة الناس إليه." (ج:5,ص:3, المكتبة الشاملة) وفي الشامية: "قلت: وفي جامع الفصولين أيضا: لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العقد جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لازمة فيجعل لازما لحاجة الناس." (ج:5,ص:84, دارالفكر-بيروت) وفي مجلة مجمع الفقه الإسلامي: "فقرار المجمع يقول: الوعد ملزم للواعد ديانة إلا لعذر، وهو - أي الوعد - ملزم قضاء إذا كان معلقًا على سبب ودخل الموعود في كلفة نتيجة الوعد، وأثر الإلزام يتحدد بصورتين: إما الوفاء بالوعد وتنفيذه.وإما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلًا بسبب عدم الوفاء بالوعد بلا عذر." (ج:12,ص:652,المكتبة الشاملة)
..

n

مجیب

سمیع اللہ داؤد عباسی صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔