021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے بعدبچے کورکھنے کاحق دارکون ہے؟
..نان نفقہ کے مسائلوالدین،اوراولاد کے نفقہ اور سکنی کے احکام

سوال

میرایک بیٹاہے جوتقریباچھ برس کاہونے والاہے،میرے شوہرزبردستی مجھ سے بیٹالے جاسکتےہیں یانہیں؟ جبکہ میرابیٹامیرےشوہرکے برےاخلاق اوربدکلامی کی وجہ سے بغیرماں کے اپنے والدکےساتھ اکیلے رہنابھی نہیں چاہتا۔

o

لڑکا جب تک سات سال کا نہ ہوجائےاسے رکھنے کاحق والدہ کاہے،والدسات سال سے پہلے بچے کواپنے پاس رکھنے اوروالدہ سے جداکرنے کامطالبہ نہیں کرسکتا،سات سال بعداگربچے کووالدکے حوالہ کرنے میں باپ کے بداخلاق ہونے کی وجہ سے بچے کے خراب ہونے کاخدشہ ہوتواس صورت میں سات سال کے بعدبھی بچے کورکھنے کی حقداروالدہ ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 13 / ص 53): ”( والحاضنة ) أما ، أو غيرها ( أحق به ) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب . “ رد المحتار (ج 13 / ص 50): ”قلت : الأصوب التفصيل ، وهو أن الحاضنة إذا كانت تأكل وحدها وابنها معها فلها حق لأن الأجنبي لا سبيل له عليها ولا على ولدها بخلاف ما إذا كانت في عيال ذلك الأجنبي ، أو كانت زوجة له ، وأنت علمت أن سقوط الحضانة بذلك لدفع الضرر عن الصغير ، فينبغي للمفتي أن يكون ذا بصيرة ليراعي الأصلح للولد ، فإنه قد يكون له قريب مبغض له يتمنى موته ويكون زوج أمه مشفقا عليه يعز عليه فراقه فيريد قريبه أخذه منها ليؤذيه ويؤذيها ، أو ليأكل من نفقته أو نحو ذلك ، وقد يكون له زوجة تؤذيه أضعاف ما يؤذيه زوج أمه الأجنبي وقد يكون له أولاد يخشى على البنت منهم الفتنة لسكناها معهم ، فإذا علم المفتي ، أو القاضي شيئا من ذلك لا يحل له نزعه من أمه لأن مدار أمر الحضانة على نفع الولد “
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔