021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقیم مسافر کی اقتداء میں بقیہ رکعتیں کس طرح اداکرے ؟
..نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ میں لاہور کا رہائشی ہوں مجھے کراچی کے لئے بذریعہ ریل سفر کرنا تھا ، حنفی مسلک کے مطابق ساڑھے چار بجے عصر کا وقت داخل ہورہاتھا لیکن ریل آنے کا وقت ہوچکا تھا اس لئے چار دس پر ایک مسافر کی اقتدا میں نماز عصر کی نیت باندھ لی ، اس نے دورکعت کے بعد سلام پھیر دیا میں بقیہ رکعتوں کے لئے کھڑا ہو تیسری میں ہی ریل آگئی اور روانگی کی ہارن بجادی میں نے جلدی جلدی چوتھی رکعت مکمل کی ، میرے ایک دوست نے کہا تمہیں تو بقیہ دورکعتیں لاحق کی طرح قرآت کے بغیر ادا کرنا تھی جبکہ تم نے قرآت کی ہے ، چونکہ تم نے واجب ترک کیا اس لئے یہ نماز واجب الاعادہ ہے ۔ اب سوال یہ کیا لاحق کے لئے خاموش رہنا واجب ؟ اب کیا اس نماز کا اعادہ واجب ہے یا نہیں ؟

o

مقیم اگرچار رکعت والی نماز میں مسافر امام کی اقتداکرے اور شروع سے نماز میں شریک ہو ، تو آخری دورکعتوں کو لاحق کی طرح بغیر قرآت ادا کرےگا ، اس کے ذمہ مقتدیوں کی طرح خاموش رہنا واجب ہے ،البتہ چونکہ مقتدی کے ترک واجب سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا ہے ، اس لئے صورت مسؤلہ میں یہ نماز صحیح ہوگئی اعادہ کی ضرورت نہیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 594) واللاحق من فاتته) الركعات (كلها أو بعضها) لكن (بعد اقتدائه) بعذر كغفلة ورحمة وسبق حدث وصلاة خوف ومقيم ائتم بمسافر، وكذا بلا عذر؛ بأن سبق إمامه في ركوع وسجود فإنه يقضي ركعة، الی قولہ وحكمه كمؤتم فلا يأتي بقراءة ولا سهو ولا يتغير فرضه بنية إقامة، ويبدأ بقضاء ما فاته عكس المسبوق ثم يتابع إمامه إن أمكنه إدراكه وإلا تابعه، ثم صلى ما نام فيه بلا قراءة، قوله من فاتته الركعات إلخ) المراد بالفوات أنه لم يصل جميع صلاته مع الإمام بأن لم يصل معه شيئا منها أو صلى بعضها، فيدخل فيه المقيم المقتدي بمسافر فإنه لم يفته شيء من صلاة الإمام بعد اقتدائه به ولكنه صلى معه بعض صلاة نفسه فيكون لاحقا في باقيها، هذا ما ظهر لي فتدبره فتح القدير (3/ 173) ( وإن صلى المسافر بالمقيمين ركعتين سلم وأتم المقيمون صلاتهم ) لأن المقتدي التزم الموافقة في الركعتين فينفرد في الباقي كالمسبوق ، إلا أنه لا يقرأ في الأصح ؛ لأنه مقتد تحريمة لا فعلا والفرض صار مؤدى فيتركها احتياطا ، بخلاف المسبوق ؛ لأنه أدرك قراءة نافلة فلم يتأد الفرض فكان الإتيان أولى ، ( قوله : في الأصح ) احتراز عما قيل يقرءون ؛ لأنهم منفردون ، ولهذا يجب السجود عليهم إذا سهوا . ( قوله : احتياطا ) فإنه بالنظر إلى الاقتداء : تحريمة حين أدركوا أول صلاة الإمام تكره القراءة تحريما ، وبالنظر إلى عدمه فعلا إذ لم يفتهم مع الإمام ما يقضون وقد أدركوا فرض القراءة تستحب ، وإذا دار الفعل بين وقوعه مستحبا أو محرما لا يجوز فعله ، بخلاف المسبوق فإنه أدرك قراءة نافلة ، ولو فرض أن الإمام لم يكن قرأ في الأوليين فإنها حينئذ تلتحق بهما ويخلو الشفع الثاني كما ذكرنا فلم يدرك قراءة أصلا حكما إذ ذاك فدارت قراءته بين أن تكون مكروهة تحريما أو ركنا تفسد الصلاة بتركه ، فالاحتياط في حقه القراءة ؛ لأن ارتكاب ترك الفرض أشد من ارتكاب المكروه تحريما .
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔