021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کنائی الفاظ سے طلاق کاحکم
..طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرے شوہر پہلی باریہ جملےاداکئے کہ آپ اپنے شوہرکی فرمانبرداری اوراطاعت اس حدتک کرسکتی ہیں کہ آپ ابھی میرےکہنے سے گلی میں جاکربرہنہ ہوکرکھڑی ہوجائیں دوسری صورت میں آپ کے ایسانہ کرنے سے میں آپ کواپنے حق زوجیت سے آزادکرتاہوں،آپ کامجھ پرکوئی حق نہیں آج سے،میں آپ سے شدیدنفرت کرتاہوں، میراآپ پرکوئی حق نہیں ہے،آج سے میرے اورآپ کے راستے جداجداہیں ،تقریباآٹھ روزکے بعدانہوں نے دوبارہ ایسے ہی ملتے جلتے الفاظ دوہرائے اورکہاکہہ میں نے آپ کوہرمعاملے میں آزادکیا،آپ اپنافیصلہ خودلے سکتی ہیں،میری اجازت کی ضرورت نہیں ہے آپ کو۔

o

مذکورہ صورت میں شوہرنے طلاق ہونے کومعلق کیاہےسوال میں ذکرکردہ بات نہ ماننے پر،لہذااگرآپ نے شوہرکی مذکورہ بات کواس وقت نہیں ماناتھاتوآپ پر شوہرکے مذکورہ جملہ کہ میں آپ کواپنے حق زوجیت سے آزاد کرتاہوں سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ،جس کاحکم یہ ہے کہ عدت گذرنے سے پہلے بغیرنکاح کے اورعدت گزرنے کےبعدنئے نکاح کے ساتھ خاوندبیوی سے رجوع کرسکتاہے۔ ”میراآپ پرکوئی حق نہیں،آج سے میرے اورآپ کے راستے جداجداہیں، میں نے آپ کوہرمعاملے میں آزادکیا “یہ تینوں جملے کنایات میں سے ہیں،متعددکنائی الفاظ سے طلاق واقع ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ اگریہ الفاظ طلاق کی نیت سے طلاق صریح کے بعدبولے جائیں تواس سے مزیدایک طلاق بائن واقع ہو تی ہے ،کیونکہ طلاق کنائی کاضابطہ ہے کہ”البائن لایلحق البائن “یعنی طلاق بائن کے بعددوسری طلاق بائن نہیں ہوسکتی ،دوسرے طلاق کنائی کے الفاظ لغوچلے جاتے ہیں ،لہذاصورت مسئولہ میں شوہرنے سوال میں ذکرکردہ جملوں میں سے جس جملے سے بھی طلاق کی نیت کی ہواس سے مزیدایک طلاق واقع ہوجائے گی اورباقی جملے لغوچلے جائیں گے اوراس صورت میں مجموعی طورپردوطلاقیں بائن واقع ہوں گی اوراگران جملوں سے مستقل طلاق کی نیت نہیں تھی ،بلکہ پہلے جملے یعنی میں آپ کواپنے حق زوجیت سے آزاد کرتاہوں کی تاکیدتھی تواس صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہوئی ہے ،مذکورہ بالادونوں صورتوں کا حکم یہ ہے کہ طرفین کی رضامندی سے عدت میں اورعدت گذرنے کے بعدنکاح ہوسکتاہے اوران دونوں صورتوں میں پہلی صورت میں نکاح کے بعدمردکےپاس ایک طلاق کااختیارباقی رہےگا،جبکہ دوسری اورآخری صورت میں صرف دوطلاق کااختیارباقی رہ جائے گا۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 3 / ص 329): ”ويدل على ذلك ما ذكره الرازي عقب قوله في الجواب المار إن المتعارف به إيقاع البائن لا الرجعي، حيث قال ما نصه: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو رهاء كردم لانه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري . وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام بالعربية أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال أيزدبروي أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لانه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك، فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا. “ ” رد المحتار (ج 3 / ص 336): " الصريح يلحق الصريح والبائن قوله: (الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني.فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا۔ “ تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - (ج 7 / ص 15) ” البائن لا يلحق البائن لانتقاء الزوجية . “ الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري (ج 5 / ص 51): ” ( وإذا وصف الطلاق وبضرب من الزيادة والشدة كان بائنا ) ؛ لأن الطلاق يقع بمجرد اللفظ فإذا وصفه بزيادة أفاد معنى ليس في لفظه قوله ( مثل أن يقول أنت طالق بائن أو طالق أشد الطلاق أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو طلاق البدعة أو كالحبل أو ملء البيت ) ، وكذا أخبث الطلاق أو أسوأ الطلاق أو أنت طالق ألبتة “ الهداية في شرح بداية المبتدي (ج 1 / ص 429): "وإذا وصف الطلاق بضرب من الزيادة أو الشدة كان نائبا مثل أن يقول أنت طالق بائن أو البتة" تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (ج 6 / ص 259): " أنت طالق بائن أو ألبتة أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان أو البدعة أو كالجبل أو أشد الطلاق أو كألف أو ملء البيت أو تطليقة شديدة أو طويلة أو عريضة فهي واحدة بائنة إن لم ينو ثلاثا."
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔