021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تاخیرسے شفعہ باطل ہوجاتاہے
..شفعہ کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

اگرکسی شخص نے زمین بیچی اوربیچنے کے وقت کسی نے حقِ شفعہ کا دعوی نہیں کیا اورنہ ہی کسی ایسی چیز مثلاً پانی کے بارےمیں حق شفعہ کا دعوی کیا جوزمین کے اندرچھپاہواتھااورابھی تک نکالانہیں گیاتھا ،مشتری نے زمین خریدنے کے کافی عرصہ بعد جب تعمیرات کی غرض سے کام شروع کیا تو اس زمین کھدائی کے نتیجے میں پانی کے چشمے نکل آئےتو چشمے دیکھ کر شفعہ کرنےوالے لوگوں اس زمین پر شفعہ کا دعوی کیا اوریہ کہا کہ اس زمین کے اصل خریدنے کے حقدارہم ہیں،اب مجھے یہ پوچھناہے کہ کیااتنے عرصہ بعدوہ زمین پرشفعہ کا حق رکھتے ہیں ؟

o

جواب سے پہلے یہ سمجھیں کہ جس شخص کو شفعہ کا حق حاصل ہوتاہے، اس کے لئے لازم ہے کہ جب اسے مکان یا جائیداد کے فروخت کئے جانے کی خبر پہنچےتو فوراً بغیر کسی تأخیر کے یہ اعلان کرے کہ: ”فلاں زمین یامکان فروخت ہوا ہے اور مجھے اس پر حقِ شفعہ حاصل ہے، میں اس حق کو استعمال کروں گا“ اور اپنے اس اعلان کے گواہ بھی بنائے، اس کے بعد وہ بائع کے پاس یا مشتری کے پاس (جس کے قبضے میں جائیداد ہو) یا خود اس فروخت شدہ جائیداد کے پاس جاکر بھی یہی اعلان کرے، تب اس کا شفعہ کا حق برقرار رہے گا، ورنہ اگر اس نے بیع کی خبر سن کر سکوت اختیار کیا اور شفعہ کرنے کا فوری اعلان نہ کیا تو اس سے اس کا حقِ شفعہ ساقط ہوجائےگا۔ ان دو مرتبہ کی شہادتوں کے بعد وہ عدالت سے رُجوع کرے اور وہاں اپنے استحقاق کا ثبوت پیش کرے۔عدالت سے رُجوع کرنےمیں مفتی بہ قول کےمطابق بغیر کسی معقول عذر کے ایک مہینہ تک تاخیر کرنا اوراپنے حق کے حصول سے غفلت اختیا ر کرنا حق چھو ڑنے کے مترا دف ہوتاہے، کیونکہ بلا وجہ اتنی تا خیر بسا اوقا ت مشتری کے لیے ایذاء رسا نی کا با عث ہوتی ہے،لہذا اس قدرتاخیر سےبھی حقِ شفعہ ساقط ہوجاتاہے۔ اب آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرمسئولہ صورت میں شفیع نےعلم کے باوجود طلبِ مواثبت ،طلبِ اشہاد چھوڑا ہو یا ان دونوں طلبوں کے بعدطلبِ خصومت میں مہینہ یا اس سے زیادہ تاخیر کی ہو تو اس کا حق شفعہ ساقط ہوچکاہے، اب وہ شفعہ نہیں کرسکتا۔

حوالہ جات

قال فی الدّر المختار: ویطلبہا الشفیع فی مجلس علمہ من مشتر أو رسولہ أو عدل أو عدد بالبیع وإن امتد المجلس کالمخیرۃ بلفظ یفہم طلبہا کطلبت الشفعۃ أو أطلبہا وہو یسمی طلب المواثبۃ أی المبادرۃ والإشہاد فیہ لیس بلازم بل لمخافۃ الجحود ثم یشہد علی البائع لو العقار فی یدہ أو علی المشتری وإن لم یکن ذا ید لأنہ مالک أو عند العقار فیقول اشتری فلان ہذہ الدار وأنا شفیعہا وقد کنت طلبت الشفعۃ وأطلبہا الآن فاشہدوا علیہ وہو طلب الإشہاد ویسمی طلب التقریر وہذا الطلب لا بد منہ حتی لو تمکن ولو بکتاب أو رسول ولم یشہد بطلت شفعتہ (قال الشامی لکن رأیت فی الخانیۃ انما سمی الثانی طلب الاشھاد لا لان الاشھاد شرطہ فیہ بل لیمکنہ اثبات الطلب عند جحود الخصم او تأمل ثم بعد ھذین الطلبین یطلب عندقاض ویسمّی طلب تملیک وخصوصمۃ وبتاخیرہ مطلقا بعذر وبغیرہ شھراً و اکثر لاتبطل الشفعۃ حتی یسقطھا بلسانہ وبہ یفتی وھو ظاہر قال العلامۃ فخرالدین عثمان بن علی الزیلعیؒ: قال شیخ الاسلام الفتویٰ الیوم علٰی أنہ اذا أخر شھرًا سقطت الشفعۃ لتغیرا احوال الناس فی قصد الاضرار بالغیر۔ (تبیین الحقائق:ج؍۵،ص؍۲۴۴، کتاب الشفعۃ) الفتاوى الهندية (5/ 173) وعن محمد وزفر رحمهما الله تعالى وهو رواية عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - إن أشهد وترك المخاصمة شهرا من غير عذر تبطل شفعته والفتوى على قولهما كذا في محيط السرخسي.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔