021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سالی سے زنا کرنا اورشادی نہ کرنے کی قسم لینا
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک شخص نے اپنی سالی سے بدفعلی کی اورپھر اس کو یہ قسم دی کہ تم دوسری جگہ شادی نہیں کروگی، اب بہنوئی سالی سے یہ کہہ رہاہے کہ تم دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی ،کیاسالی دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے یانہیں ؟

o

شخص مذکورکا سالی سے بدفعلی کرنا اورپھراس سے قسم لینا کہ تم دوسری جگہ شادی نہیں کروگی سخت گناہ اورسراسر خلافِ شرع بات ہے جس سے فوری توبہ کرنا اور آئندہ اس گناہ سے اپنے آپ کو بچاناشخصِ مذکورپر لازم ہے،تاہم مسئولہ صورت میں اگر شخص مذکورکے کہنے پرسالی نے شادی نہ کرنے کی قسم کھالی ہو تو گو ایسا کرلینا درست نہیں تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجرد کی زندگی کو ناپسند فرمایا ہے ،لہذا شادی کرلینا اورشخص مذکورکے خواہشات کے بھینٹ چڑھنے سے اپنے آپ کو بچانا عین منشاءِ شریعت ہے ،لیکن چوں کہ وہ قسم کھاچکی ہے جو منعقد ہوجاتی ہے ، اس لیے اس صورت میں نکاح کے بعد قسم کا کفارہ ادا کردینا چاہئے ، قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلانا یا دس مسکینوں کے کپڑے بناکردینا ہے ، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا ہے ۔ واضح رہے کہ قسم کے کفارے کا مذکورہ بالاحکم بھی تب ہے جب اس لڑکی نے خود قسم کے الفاظ اد کئے ہوں، اگر بہنوئی نے یہ الفاظ کہے کہ تجھے قسم ہے کہ تو دوسری جگہ شادی نہیں کروگی تو اس طرح کے الفاظ سے قسم منعقدنہیں ہوتی اورنہ ہی قسم کا کفارہ واجب ہوتاہے۔

حوالہ جات

عن ابی ہریرۃ قال:قال رسول اللہﷺ اذا خطب الیکم من ترضون دینہ وخلقہ فزوجوہ ان لا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد عریض، رواہ الترمذی۔ (مشکواۃ المصابیح ۲:۲۶۷ کتاب النکاح الفصل الاول) قال رسول اللہﷺ: من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وادبہ فاذا بلغ فلیزوجہ فان بلغ ولم یزوجہ فاصاب اثما فانما اثمہ علی ابیہ ، رواہ البیہقی فی شعب الایمان (مشکواۃ المصابیح ۱:۲۷۱ باب الولی فی النکاح الفصل الثالث) مسند أحمد مخرجا (11/ 506) عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من حلف [ص:507] على يمين، فرأى خيرا منها، فليأت الذي هو خير، وليكفر عن يمينه» وأخرجه البيهقي في "سننه" (10 / 33) في الأيمان، باب من حلف على يمين فرأى خيرًا منها، من طريق قتادة، عن الحسن - في قوله: {وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ} -، قال: لا تعتلّوا بالله، لا يقول (كذا!) أحدكم: إني آليت أن لا أصل رحمًا، ولا أسعى في صلاح، ولا أتصدق من مالي، كفَّرْ عن يمينك، وائت الذي حلفت عليه. قال اللہ تعالی: {لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} [المائدة: 89]
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔