021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موٹر سائیکل میں بیع سلم
..خرید و فروخت کے احکامسلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل

سوال

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں: 1۔ایک کمپنی 32500 روپے محمد حسن سے جمع کرتی ہے اور ایک ماہ بعد ایک موٹر سائیکل اسے دے دیتی ہے،جس کو محمد حسن وصول کرکے وہی پر اسی آدمی کے ہاتھ یا کسی اور آدمی کو فروخت کردیتا ہے،آیا یہ شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟اس کی درج ذیل تین صورتیں ہیں: ا۔جس سے خریدی تھی قبضے کے فورا بعد اسی وقت اس کو ہی فروخت کردی اسی مجلس میں۔ ۲۔ جس آدمی سے خریدی تھی،قبضہ کرکے دوسری مجلس میں دوبارہ اسی کو فروخت کردی۔ ۳۔ جس سے خریدی تھی اس کے علاوہ کسی دوسرے کو قبضے کے بعد فروخت کردی۔ 2۔زید نے تیس ہزار روپے میں ایک موٹر سائیکل خریدی جس سے خریدی ہے،اسی کو وکیل بناکر یہ کہہ کر کہ چالیس ہزار میں فروخت کردینا،ایک ماہ بعد رقم واپس کردینا اور ایک موٹر سائیکل فروخت کرنے پر زید آپ کو بطور وکیل پندرہ سو روپے اجرت دے گا،کیا یہ صحیح ہے؟

o

1۔اگر اس طریقہ کار کو سود سے بچنے کے لیے حیلہ کے طور پر استعمال کیا جائے،یعنی محمد حسن کا اصل مقصد کمپنی یا کسی اور شخص کو قرض دے کر نفع حاصل کرنا ہو،لیکن چونکہ وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے،اس لیے فریقین صریح سود سے بچنے اوردوسرےراستہ سےاس سودکووصول کرنےکے لیے حیلہ کے طور پر یہ طریقہ اختیار کریں تب تو ایسا کرنا ناجائز ہوگا۔ لیکن اگر مذکورہ بالا مقصد نہ ہو،بلکہ ابتداء معاملہ کرتے وقت محمد حسن کا اصل مقصد موٹر سائیکل خریدنا ہو اور بعد میں اتفاقا ایسا کرنے کی نوبت آجائے تو موٹر سائیکل پر قبضہ کرنے کے بعد ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں،چاہے اسی مجلس میں فروخت کرے یا اس کے بعد کسی اور مجلس میں،کیونکہ یہ حقیقت میں سلم کا معاملہ ہے اورنئی موٹر سائیکل میں بیع سلم جائز ہے،بشرطیکہ معاملہ کرتے وقت موٹرسائیکل کا ماڈل،کمپنی،کلر وغیرہ وہ تمام صفات طے کرلی جائیں جن کا خریداری کے وقت لحاظ رکھا جاتا ہے اور وہ خریدار(کسٹمر) کی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔ نیز مذکورہ بالا تفصیل سوال میں ذکر کی گئی ان دو صورتوں سے متعلق ہے جن میں حسن موٹر سائیکل اسی شخص کو دوبارہ واپس فروخت کرے جس سے اس نے خریدی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کرنے میں مطلقا کوئی حرج نہیں،چاہے اسی مجلس میں فروخت کرے یا اس کے بعد کسی اور موقع پر۔ 2۔ایسا کرنا درست ہے،بشرطیکہ خریدار نے موٹرسائیکل پر قبضہ کرلیا ہو،نیز اگلا وکالت کا معاملہ سابقہ معاملے کے ساتھ مشروط نہ ہو،بلکہ پہلا معاملہ پورا ہونے کے بعد جب زید موٹر سائیکل پر قبضہ کرلے،اس کے بعد دوسرا معاملہ کیا جائے۔ اسی طرح پہلی خریداری میں جب تیس ہزار کی موٹر سائیکل زید نے خریدی،اس میں یہ شرط نہ ہو کہ زید بعد میں وکیل کو قیمت واپس کرنے میں ایک ماہ کی مہلت بھی دے گا۔

حوالہ جات

"فقہ البیوع " (1/ 570): "وبما ان السلم یجوز فی العددیات المتقاربۃ،بانہ یجوز فی السیارات و الدراجات والطائرات والثلاجات و المکیفات والادوات المنزلیۃ والکھربائیۃ التی ینضبط نوعھا ووصفہا ومودیلھا ولونھا و نحو ذلک من الاوصاف التی لھا دخل فی رغبۃ المشترین ولاباس بتعیین المصنع او العلامۃ التجاریۃ بشرط ان یکون المسلم فیہ عام الوجود فی محلہ بحکم الغالب عند حلول اجلہ ". "الدر المختار"(5/ 73): "(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول. صورته: باع شيئا بعشرة ولم يقبض الثمن ثم شراه بخمسة لم يجز وإن رخص السعر للربا خلافا للشافعي". قال ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله قبل نقد كل الثمن الأول) قيد به؛ لأن بعده لا فساد، ولا يجوز قبل النقد، وإن بقي درهم. وفي القنية: لو قبض نصف الثمن ثم اشترى النصف بأقل من نصف الثمن لم يجز بحر قلت: وبه يظهر أن إدخال الشارح لفظة كل لا محل له؛ لأنه يفهم أن قبل نقد البعض لا يفسد وهو خلاف الواقع. والحاصل أن نقد كل الثمن شرط لصحة الشراء لا لفساده؛ لأنه يفسد قبل نقد الكل أو البعض. فتأمل". "فقہ البیوع " (1/ 584): "وقدیقع ان رب السلم یوکل المسلم إلیہ ببیع المسلم فیہ نیابة عن رب السلم ،فإن کان ھذا التوکیل مشروطا فی عقدالسلم،فالبیع فاسد؛لأنہ شرط یخالف مقتضی العقد . أما إن لم یکن التوکیل مشروطا فی العقد و قبض رب السلم المسلم فیہ ثم وکلہ بالبیع بدون شرط سابق فإنہ جائز ولکن یجب أن یکون بعد أن یقبض رب السلم علی المسلم فیہ،فإن باعہ المسلم إلیہ قبل قبض رب السلم صار البیع لنفسہ ولوکان باعہ بنیة النیابة عن رب السلم. ولایقال: إنہ بیع فضولی موقوف؛لأن رب السلم لم یملک المسلم فیہ،فإنہ لایملکہ إلا بعد القبض،فصار بیع المسلم الیہ لنفسہ؛ لأنہ ھو المالک".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔