021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جس مدرسہ میں طلبہ نہ ہوں اس کے لیے مہتمم کا چندہ کرنا
..وقف کے مسائلمدارس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زیدایک دینی مدرسہ کا مہتمم ہے اوراس کے مدرسہ میں کوئی رہائشی طالب علم نہیں ہے تو کیا ایسے مدرسہ کےمہتمم کے لیے اس طرح کے مدرسہ کےلیے چندہ جمع کرنااورزکوۃ وصدقات وغیرہ جمع کرناجائزہے یانہیں؟مہتمم چندہ جمع کرکے خود کھاتے ہیں۔

o

اگر لوگ طلبہ پر صرف کرنے کی نیت سے زکوۃ اورصدقاتِ واجبہ مدرسہ کو دیتے ہوں اورمہتمم ان سے غلط بیانی کرتا ہو تو یہ عمل دھوکہ اورحرام ہے، اس سے اجتناب لازم ہے ،البتہ اگرمہتمم کوئی غلط بیانی نہیں کرتا اورخود مستحقِ زکوۃ ہو یا تملیک کرکے بطورِتنخواہ استعمال کرتا ہوتو اس میں مذکورہ بالا خرابی تو نہیں،لیکن زکوۃ وصدقات کی رقم ایسے اندھادھند طریقے سے استعمال کرنا جائز نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ چندمتدین ،تجربہ کارلوگ ملکر مہتمم کے لیے تنخواہ مقررکریں اورپھروہ اس تنخواہ کے بقدروصول کرکے باقی مدرسہ کے مصارف میں خرچ کرے۔

حوالہ جات

وفى الدر المختار (ج: 7 ص: 226 ) ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة كما مر ( لا ) يصرف ( إلى بناء ) نحو ( مسجد و) لا إلى ( كفن ميت وقضاء دينه ) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره............. وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء، وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره، والظاهر: نعم. حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 344) (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني وتقدم تمام الكلام على ذلك أول الزكاة. حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 344) (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيهزيلعي (قوله: ولا إلى كفن ميت) لعدم صحة التمليك منه؛ ألا ترى أنه لو افترسه سبع كان الكفن للمتبرع لا للورثة . فی المحیط البرھانی (۲۱۲/۳): ولا یصرف فی بناء مسجد وقنطرۃ ولا یقضی بھا دین میت ولا یعتق عبدا ولا یکفن میتا۔ والحیلۃ لمن اراد ذلک ان یتصدق بمقدار زکوتہ علی فقیر ثم یأمرہ بعد ذلک بالصرف لھذہ الوجوہ، فیکون لصاحب المال ثواب الصدقۃ وللفقیر ثواب ھذہ القربۃ. وفی صحيح مسلم للنيسابوري (ج 1 / ص 69): عن أبى هريرة. أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال « ما هذا يا صاحب الطعام ». قال أصابته السماء يا رسول الله. قال « أفلا جعلته فوق الطعام كى يراه الناس من غش فليس منى ».
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔