021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع اور فریقین کا باہمی اختلاف
..طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گزارش ہے کہ ہمارے ہاں ایک عدالتی تنسیخِ نکاح کا فیصلہ ہوا ہے۔ بیوی کی طرف سے فسخِ نکاح کا دعویٰ دائر ہوا تھا اور جج نے شقاق کی بناء پر تنسیخِ نکاح کا فیصلہ بصورتِ خلع صادر کیا تھا۔ فیصلہ سے پہلے کے کچھ واقعات اس طرح ہیں کہ عدالت میں درخواست دائر کرنے سے تقریباً 2، 3 ماہ پہلے لڑکی کے والد نے لڑکے سے رابطے کی کوشش کی تو اس نے فون نہیں اٹھایا، اور لڑکی نے اس سے فون پر طلاق کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: یونہی بیٹھی رہو، میں نے طلاق نہیں دینی۔ عدالت میں درخواست دائر کرنے کے بعد لڑکے والوں کی طرف سے جوابِ دعویٰ میں اصرار تھا کہ لڑکی بسنا چاہتی ہے، لیکن اس کا والد منع کررہا ہے، لہٰذا لڑکی عدالت میں آکر بیان دے کہ میں نے اس لڑکے کے ساتھ نہیں رہنا تو جج نے کہا کہ: "اگر لڑکی نے عدالت میں آکر بیان دے دیا تو پھر میں قانون کے مطابق فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گا"، تو لڑکے والوں اور ان کے وکیل نے کہا کہ "ہمیں منظور ہے"۔ پھر لڑکی کو عدالت میں بلوایا گیا تو لڑکی نے آکر بیان دیا کہ "میں نے بالکل نہیں جانا"۔ اس پر جج نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم کسی کو مجبور نہیں کرتے" یہ کہتے ہوئے خلع کا فیصلہ لکھ کر دستخط کردیے، اور لڑکی اور اس کے والد سے بھی دستخط کرائے۔ اس فیصلہ کے وقت لڑکی کا شوہر، شوہر کا والد اور وکیل جج کے پاس موجود تھے، اور جس وقت جج نے اپنا فیصلہ سنایا، شوہر اور اس کے والد نے اس پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے "ٹھیک ہے" کہا، نیز شوہر کی طرف سے ہاتھ اور سر کے اشارے سے فیصلہ تسلیم کرنے کا اظہار بھی ہوا۔ فیصلہ کے بعد لڑکی کے والد نے جج سے پوچھا کہ "ہم فارغ ہیں"؟ تو اس نے کہا کہ: "آپ فارغ ہوگئے"۔ اس کے بعد فریقین عدالت سے واپس آگئے اور وہاں اس پر مزید کوئی بات نہیں ہوئی، البتہ کچھ عرصہ کے بعد لڑکے نے کہا کہ ہم نے تو طلاق نہیں دی، لہٰذا لڑکی والے اس عدالتی فیصلے کے بعد بھی ہمارے پابند ہیں۔ اور ہم نے لڑکی والوں کو تنگ کرنا ہے۔ صورتِ مسئولہ سے متعلق حکمِ شرعی سے مطلع فرمائیں کہ کیا ضرر اور شقاق کی بناء پر یہ فیصلہ شرعاً معتبر ہے؟ آج کل عدالتیں عموماً اسی بناء پر فسخِ نکاح کا فیصلہ صادر کرتی ہیں، نیز فقہِ مالکی میں شقاق کی بناء پر فسخِ نکاح ہوسکتا ہے، اور آپ حضرات جانتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے ہماری عدالتیں کسی خاص فقہ کی پابند نہیں ہیں، تو کیا مذکورہ مجتہد فیہ معاملہ میں عدالتی فیصلہ کو معتبر قرار دے کر طلاقِ بائن واقع سمجھی جائے گی؟ جیساکہ "الفقہ الاسلامی وادلتہ" کی عبارت اور فقہ مالکی کی کتب سے سمجھ آرہا ہے۔ حتمی فیصلہ تو آپ حضرات ہی فرمائیں گے۔ سوال کے ساتھ دعویٰ، جوابِ دعویٰ اور عدالتی فیصلہ ارسالِ خدمت ہے۔

o

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً لڑکے نے اس پر آمادگی ظاہر کردی تھی کہ اگر لڑکی عدالت میں آکر بیان دیدے کہ وہ لڑکے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور جج قانون کے مطابق خلع کا فیصلہ کردے تو اسے منظور ہوگا، پھر جب جج نے فیصلہ سنایا تو شوہر نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے "ٹھیک ہے" کہہ دیا، اس کے علاوہ شوہر نے سر اور ہاتھ کے اشارے سے بھی فیصلۂ خلع کو تسلیم کرنے کا اظہار کردیا تو شرعاً یہ خلع معتبر ہے۔ واضح رہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب شوہر نے جج کے فیصلہ کو رضامندی کے اظہار سے پہلے رد نہ کیا ہو، اگر اس نے ایک بار بھی اسے مسترد کردیا ہو تو پھر اس کے بعد رضامندی کے اظہار سے شرعاً خلع معتبر نہ ہوگا۔ نیز اگر لڑکے نے "ٹھیک ہے" کے الفاظ نہ کہے ہوں بلکہ اس کے والد نے کہے ہوں تو بھی شرعاً یہ خلع معتبر نہ ہوگا اور جب تک شوہر طلاق نہ دے یا شوہر اور بیوی کی باہمی رضامندی سے خلع نہ ہو لڑکی بدستور اسی لڑکے کے نکاح میں رہے گی، اس کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہ ہوگا۔

حوالہ جات

.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔