021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میلے کپڑوں میں نماز پڑھنے کاحکم
..نماز کا بیاننماز کےمفسدات و مکروھات کا بیان

سوال

میری دکان باز ار میں ہے ،جس مسجد میں ہم نماز پڑھتے ہیں وہاں پر گاڑیوں کے مکینک بھی آتے ہیں ، انھوں نے وہی لباس پہنا ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ سارا دن گاڑیوں کا کام کرتے ہیں ، ان کو اس لباس کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ جو ہوتا تو پاک ہے مگر دیکھنے میں بالکل بدنما اور ساتھ تیل وغیرہ لگا ہوتا ہے، ایسے لباس کے ساتھ مسجد میں آکر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

o

نمازی کا لباس پاک ہونےکےساتھ صاف بھی ہونا ضروری ہے ،ایسا میلا اور پراگندہ لباس جس کو پہنکر آدمی کسی اچھی مجلس میں جانے سے شرماتا ہے اس لباس میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ، پھر ایسے لباس میں مسجد آنے سے نہ صرف یہ کہ دوسرے نمازیوں کو تکلیف ہوگی بلکہ یہ آداب مسجد کے بھی خلاف ہے ،اس لئے ایسے حضرات جن کا لباس کام کے دوران میلا ہوجاتا ہے ان کوچاہئےکہ نماز کے وقت صاف لباس استعمال کریں ،خصوصا جماعت میں شرکت کیلئے اس کا اہتمام کریں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640) (و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كم أو ذيل (وعبثه به) أي بثوبه (وبجسده) للنهي إلا لحاجة ولا بأس به خارج صلاة (وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها وإلا لا ﴿قولہ ثیاب البذلہ ﴾ بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر حلية. قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية. اهـ.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔