021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیت الخلاء میں اگر غیرضروری بال پڑے ہوں تو اس میں استنجاء اورغسل کرنے کاحکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانناخن ،مونچھیں اور ،سر کے بال کاٹنے وغیرہ کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نہانےیاتقاضہ کرنے جاتے ہیں تو وہاں غیرضروری بال اِدھراُدھربکھرے پڑے ہوتے ہیں ،یہ دیکھ کرکراہت محسوس ہوتی ہو تو کیا اس حالت میں اس بیت الخلاء میں استنجاءکرنا اورغسل خانے میں نہاناجائز ہے یانہیں ؟فتوی کے ساتھ کچھ تربیتی الفاظ بھی لکھ دیں تاکہ اسے غسل خانوں کے باہرلوگو ں کی اطلاع کے لیے لگادیں۔

o

غسل خانے میں غیرضروری بال پڑے رہنے سےغسل اوراستنجاء کرنا ناجائز تو نہیں ہوجاتا،البتہ چونکہاللہ تعالی نے انسان کو قابلِ تکریم بنایا ہے ؛ اس لیے جسم کے بال اور ناخن کاٹنے کے بعد اِدھر اُدھر ڈالنا مناسب نہیں، لہذا لوگوں کا بیت الخلا یا غسل خانے میں بال وغیرہ ڈال دینا مکروہ ہے ؛ ناخن اور جسم کے کسی بھی حصہ کے بال کاٹنے کے بعد کسی مناسب جگہ دفن کردینا چاہئے یاکسی پاک جگہ جہاں گندگی اور ناپاکی نہ ہو گرا دیناچاہیے تاکہ اس کی بے حرمتی نہ ہو ۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی: ولقد کرمنا بني آدم الآیة (الإسراء، رقم الآیة: ۷۰) فإذا قلم أظفارہ أو جز شعرہ ینبغي أن یدفنہ، فإن رمی بہ فلا بأس، وإن ألقاہ فی الکنیف أو فی المغتسل کرہ؛ لأنہ یورث داء۔ خانیة۔ ویدفن أربعة: الظفر والشعر وخرقة الحیض والدم۔ عتابیة۔ ط (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فی البیع وغیرہ ۹: ۵۸۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند) وکل عضو لا یجوز النظر إلیہ قبل الانفصال لا یجوز بعدہ ولو بعد الموت کشعر عانة وشعر رأسھا وعظم ذراع حرة میتة وساقھا وقلامة ظفر رجلھا دون یدھا مجتبی (الدر المختار مع الرد ، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی النظر والمس ۹: ۵۳۴۵۸۰، ۵۳۵)
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔