021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیر وضوء کے نماز پڑھنے کاحکم
..ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

ایک دیندار شخص کے پاس کنیڈا سے ماڈرن تعلیم یافتہ مہمان آئے، ان حضرات کی جہاں آپس میں دنیاوی باتیں ہوتی رہی وہاں دین کے متعلق بھی تبادلہ خیال ہوتارہا اوردورانِ گفتگو دیندار بھائی ان کو ترغیب وترہیب کے ذریعے دعوت بھی دیتے رہے اورساتھ ساتھ ان کو دینی مسائل بھی بتائے رہے، اسی دوران ماڈرن تعلیم یافتہ مہمان نے رخصت ہونے کی اجازت طلب کی کہ مغرب کی اذان شروع ہوگئی، اب دیندار بھائی جس کے اس قت کپڑے ناپاک تھے سوچا کہ اگر اب میں اس کو مسجد میں نماز پڑھنے کےلیے ساتھ نہ لے کر گیا تو ان پر بڑا برا اثر پڑے گا اوریہ سوچیں گے کہ ابھی تو اسلامی تعلمات کی بڑی ترغیب اوراہمیت بیان کررہے تھے اورخود اسلام کے اہم بنیادی فریضہ کا بھی اہتمام نہیں کرتے، اس طرح وہ دیندار طبقے سے بدظن اورمتنفرہوجائے گا،لہذا وہ دیندار شخص وضوءکیے بغیر ہی مسجد میں جاکر جماعت میں شریک ہوگیا اوردل میں اس عمل کو برا جانتے ہوئے استغفار بھی کرتارہا ،بعدمیں وہ اپنے اس فعل پر بڑا نادم اورشرمندہ بھی ہوا اوراللہ کے دربار میں پکی توبہ کی کہ آئندہ اس فعل سے ہمیشہ کے لیے اجتناب کروں گا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ علماء سے سناہے کہ فقہاء ِکرام نے بے وضوء نماز پڑھنے والے کے متعلق لکھاہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے، آیا مذکورصورت میں بے وضونماز پڑھنے والادائرہ اسلام سے خارج ہوااوراس پر تجدیدِایمان اورتجدیدِنکاح واجب ہے؟ اوراگر خدانخواستہ بے وضوءنماز پڑھنے کے بعد بیوی سے ہمبستری کی ہواورحمل ٹھہرگیاہو تو کیا وہ بچہ ولد الزنا شمار ہوگا؟قرآن اورسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

o

پانی اورمٹی کے موجودگی کے وقت یاد ہوتے ہوئے محض سستی کی وجہ سے یا کسی کو ترغیب دینے کی خاطرجیسے کہ سوال میں مذکورہےبغیر طہارت کے نمازپڑھناجرمِ عظیم ہے جس پر توبہ اوراستغفارکرنا،آئندہ اس سےمکمل طورپراجتناب کرنااورنمازدوبارہ پڑھنالازم ہے،تاہم اس کے کفرہونے اورنہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے،راجح قول یہ ہے کہ یہ کفرنہیں، تاہم پھر بھی احتیاط اسی میں ہے کہ تجدیدِایمان اورنکاح کرلیاجائے ۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار (1/ 81) قلت: وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، وهو ظاهر المذهب كما في الخانية، وفي سير الوهبانية:وفي كفر من صلى بغير طهارة ... مع العمد خلف في الروايات يسطر. وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 81) (قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس وإلى غير القبلة لجواز الأخيرتين حالة العذر بخلاف الأولى فإنه لا يؤتى بها بحال فيكفر. قال الصدر الشهيد: وبه نأخذ ذكره في الخلاصة والذخيرة، وبحث فيه في الحلية بوجهين: أحدهما ما أشار إليه الشارح. ثانيهما أن الجواز بعذر لا يؤثر في عدم الإكفار بلا عذر؛ لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، وحيث انتفت منها تساوت في عدمه، وذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، وإلا كان كل تارك لفرض كافرا، وإنما حكمه لزوم الكفر بجحده بلا شبهة دارئة اهـ ملخصا: أي والاستخفاف في حكم الجحود.(قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة وأن الإكفار رواية النوادر. وفي ظاهر الرواية لا يكون كفرا، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفرا عند الكل. اهـ.أقول: وهذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا ومستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية، وهو بمعنى الاستهزاء والسخرية به، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لا يكون كفرا عند الكل تأمل.(قوله: مع العمد) أي حال كونه مصاحبا للعمد ط.(قوله: خلف) أي اختلاف بين أهل المذهب والمعتمد عدم التفكير كما هو ظاهر المذهب، بل قالوا لو وجد سبعون رواية متفقة على تكفير المؤمن ورواية ولو ضعيفة بعدمه يأخذ المفتي والقاضي بها دون غيرها، والخلاف مخصوص بغير فرع الظهيرية، وأما هو فصلاته واجبة عليه بغير طهارة لأمر الشارع له بذلك . وفی رد المحتار (4/ 230) ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط. وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 247) (قوله والتوبة) أي تجديد الإسلام (قوله وتجديد النكاح) أي احتياطا كما في الفصول العمادية. وزاد فيها قسما ثالثا فقال: وما كان خطأ من الألفاظ ولا يوجب الكفر فقائله يقر على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح ولكن يؤمر بالاستغفار والرجوع عن ذلك، وقوله احتياطا أي يأمره المفتي بالتجديد ليكون وطؤه حلالا باتفاق، وظاهره أنه لا يحكم القاضي بالفرقة بينهما، وتقدم أن المراد بالاختلاف ولو رواية ضعيفة ولو في غير المذهب.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔