021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہمبستری کے آداب
..نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

١۔عرض یہ ہے کہ میں نے ایک کتا ب میں پڑھا تھا کہ ہمبستری کے دوران جانوروں کی طرح ننگا نہیں ہونا چاہئے ۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے جسم کے کون کون سا حصہ دیکھ سکتے ہیں ؟ ۲۔ سہاگ رات کے متعلق جتنے شرعی مسائل ہیں سب بتادیں ۔ ۳۔ بیوی کو برہنہ حالت میں بٹھایا جاسکتا ہے یا نہیں مجھے کوئی مسئلہ بھی معلوم نہیں اگر آپ تمام مسائل کا احاطہ کردیں نوازش ہوگی ۔

o

١،۳ ۔جب میاں بیوی دونوں تنہائی میں ہوں وہاں کوئی دوسرا موجود نہ ہو ،دروازہ بند ہو تو ایک دوسرے کے پورے جسم کو دیکھنا ناجائز نہیں ہے ، البتہ چونکہ تنہائی میں اگر چہ کوئی دوسرا انسان موجود نہ ہولیکن فرشتے موجود ہوتے ہیں ،آدمی کو اس سے بھی حیا کرنا چاہئے اس لئے ہمبستری کے آداب میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ ہمبستری کے وقت بالکل ننگے ہونا خلاف ادب ہے ، اس لئے اپنے اوپر چادر وغیرہ کوئی چیز لیکر پردہ کرلیاجائے ۔

حوالہ جات

مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 206) وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إياكم والتعري فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط وحين يفضي الرجل إلى أهله فاستحيوهم وأكرموهم " . رواه الترمذي مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 206) وعن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك " فقلت : يا رسول الله أفرأيت إن كان الرجل خاليا ؟ قال : " فالله أحق أن يستحيى منه " . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (10/ 61) قال رسول الله أي له احفظ عورتك أي من التكشف أو من الجماع والأول أبلغ إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك أي من الإماء وهذا يدل على أن الملك والنكاح يبيحان النظر إلى السوأتين من الجانبين والحديث مقتبس من قوله تعالى والذين هم لفروجهم حافظون إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين المؤمنون قلت يا رسول الله أفرأيت أي أخبرني إذا كان الرجل خاليا كيف الحكم قال فالله أو ملائكته أحق أن يستحي منه وهذا يدل على وجوب الستر في الخلوة إلا عند الضرورة كما سبق رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجة ۲۔آداب مباشرت کے تمام مسائل جاننے کےلئے اس موضوع پر کسی مستند کتاب کا مطالعہ فرمالیں پھر کوئی ابہام رہ جائے ،تو دارالافتاء سے دریافت کرلیاجائے تو ان شااللہ تعالی جواب لکھاجائے گا ۔
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔