021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح میں وکالت کی مخصوص صورت کا حکم
..نکاح کا بیاننکاح کی وکالت کابیان

سوال

زید نے ہندہ سے فون پر کہا کہ کیاتم مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں تمہارا نکاح اپنے ساتھ کراودوں ؟ ہندہ نے کہا ہاں ؛اب اگر زید دو گواہوں کی موجودگی میں اپنا نکاح ہندہ سے کرتاہے تو یہ وکالت اور نکاح شرعا کیسا ہے؟اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا یاس نہیں ؟

o

نکاح کےبنیادی مقاصدیہ ہیں ، مرد عورت کو پاکیزہ زندگی حاصل ہوجائے ،دونوں کی عفت محفوظ ہو ،حلال طریقہ سےنسل انسانی کا سلسلہ بڑھتا رہے، اوردونوں کی نیت یہ ہو کہ نکاح کے بعد مرتے دم تک ایک دوسرے کے ساتھ نباہ کریں گے صرف وقتی لذت کا حصول مقصد نہ ہو ۔ان مقاصد کے پیش نظر شریعت نےنکاح میں کئی باتوں کا اہتمام کیا ۔مثلا لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں یعنی لڑکا لڑکی کے برابریا اس سےخاندان ،پیشے ،دینداری میں اوپر کے درجہ کا ہو ، نکاح مجلس نکاح میں باقاعدہ اعلان کے ساتھ ہو ،دوگوا ہوں کی موجودگی میں ،سر پرستوں کے مشورہ سے ہو ،مہر مثل یا اس سے زائد رقم کے عوض میں ہو یا اس کی جگہ کسی چیز کے عوض میں ہو ۔ ان میں سے بعض باتیں ایسی ہیں جن کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتااور بعض کے بغیر پائدار نہیں ہوتی لہذا نکاح کے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے ، اس وضاحت کے بعد مسئلہ کا حکم یہ ہے ا گر ایک ہی مجلس میں دو گواہوں کی موجودگی میں اس طرح توکیل ہو جو ضمنا ایجاب کے حکم میں ہے اور قبول بھی اسی مجلس میں ہوجائے تو نکاح کی دیگر شرائط موجود ہونے کی صورت میں یہ نکاح منعقد ہوجائے گا ،ورنہ نہیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 10) وينعقد أيضا (بما) أي بلفظين (وضع أحدهما له) للمضي (والآخر للاستقبال) أو للحال، فالأول الأمر (كزوجني) أو زوجيني نفسك أو كوني امرأتي فإنه ليس بإيجاب بل هو توكيل ضمني (فإذا قال) في المجلس (زوجت) أو قبلت أو بالسمع والطاعة بزازية قام مقام الطرفين وقيل هو إيجاب (قوله: بل هو توكيل ضمني) أي أن قوله زوجني توكيل بالنكاح للمأمور معنى، ولو صرح بالتوكيل وقال وكلتك بأن تزوجي نفسك مني فقالت زوجت صح النكاح فكذا هنا غاية البيان، وأشار بقوله ضمني إلى الجواب عما أورد عليه من أنه لو كان توكيلا لما اقتصر على المجلس، مع أنه يقتصر. وتوضيح الجواب كما أفاده الرحمتي: أن المتضمن بالفتح لا تعتبر شروطه بل شروط المتضمن بالكسر والأمر طلب للنكاح فيشترط فيه شروط النكاح من اتحاد المجلس في ركنيه لا شروط ما في ضمنه من الوكالة
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔