021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پوتے کاحق میراث
61310 میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ میرے دادا گل میرخان کا کل ترکہ 13کنا لاورمرلے 11 زمین ہے ،جناب مذکورہ زمین کے کل ورثہ 5 افراد ہیں ، 1۔بیوہ 2۔ بیٹی 3۔بیٹا تاجر خان 4۔ بیٹا جلندر خان 5۔ ایک پوتا زرین خان جناب یہ تقسیم دادا مرحوم نے اپنی حیات کردیاتھا، مگر اب تقریبا 110 دس سا ل کے بعد مرحوم زرین خان کے بیٹوں نے جوکہ رشتہ میں ہمارے دادا کے پڑپوتے لگتے ہیں ، انہوں نے سوات کورٹ میں یہ کس داخل کیا ہوا ہے کہ ہمارا حصہ کم کیوں ہے ۔ اب مندرجہ بالا تمام ورثا فوت ہوچکے ہیں ، اگر ہم دوبارہ تقسیم کریں اس میں دادی کےترکہ میں پوتے کا حق میراث ہے یا نہیں ؟ دادی صا حبہ کے انتقال کے وقت ان کے تین بیٹے حیات تھے اور اس پوتے زرین خان کا والد پہلے انتقال کرچکے تھے ، مرحوم زرین خان نے اپنی زندگی میں دادی صاحبہ کے انتقال کے بعد حصہ میراث کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ دادا صاحب نے جوحصہ ان کو دیا تھا اسی کو اپنے نا م رجسٹر د کروایا ۔ 1۔اب اگر 13کنال 11 مرلہ زمین مندرجہ بالا ورثہ تقسیم کریں تو کس کا کتنا حصہ بنے گا ؟ 2۔دادی کے ترکہ پوتے کا حق ہے یا نہیں جبکہ پوتے کے والد دادی کی حیا ت میں انتقال کرگیا ، اور کے انتقال کے وقت ان کے تین بچے حیات تھے ۔

o

واضح ہوکہ میراث اس مال کو کہا جاتا ہے جو مرحوم کے انتقال کے کے وقت اس کی ملک میں موجود ہو ، اور میراث کےحقدار صرف وہ ورثہ ہیں جو مرحوم کے انتقال کے وقت زندہ ہوں ۔ 1۔اس وضاحت کے بعدصورت مسئولہ میں اگر مرحوم گل میر خان نےاپنی زندگی میں اس زمین کو تقسیم کرکے مذکورہ افرادکو مالک بنا کردیدیا تھا وہ سب اپنے اپنے حصے کے مالک ہوگئے ،بعدمیں میراث کے طورپر دوبارہ تقسیم نہیں ہوگی ۔اگر مالک بناکر نہیں دیاتھا تویہ زمین باقی ترکہ طرح تقسیم ہوگی ،پھر اس مال میں مرحوم کے پوتےزرین خان کا کوئی حصہ نہ ہوگا ، اس لئے کہ میت کے بیٹے کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں ہوتا ۔ بقیہ ورثہ میں تقسیم اس طرح ہوگی ۔ بیوہ کاحصہ = ٪ 5 . 12 بیٹا ۔ تاجر خان کاحصہ = ٪ 25 بیٹا ۔جلندر خان کاحصہ = ٪ 25 بیٹی کاحصہ = ٪ 5 .21 2۔ مرحومہ کے انتقال کے وقت حقیقی اولا د زندہ موجود ہے اس لئے ترکہ میں پوتے کاحصہ نہ ہوگا ۔

حوالہ جات

.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔