021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منافق وزندیق کا مسلمانوں کے ساتھ خاص عہدے حاصل کرنا
61450 ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

محترم ومکرم مفتی صاحب! ایک شخص جوکہ شریعتِ مطہرہ اور آئینِ پاکستان دونوں کی رو سے غیر مسلم ہے مگر اپنے آپ کو مسلم ظاہر کرتا ہے۔ مزید بر آں ایسی مراعات اور عہدے جو مسلمانوں کے ساتھ خاص ہیں وہ حاصل کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: اس شخص کا کیا حکم ہے؟

o

جو شخص شریعتِ مطہرہ کی رو سے کافر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے ایسا شخص شریعت کی اصطلاح میں "منافق" کہلاتا ہے۔ کفر کو چھپانے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں: (الف) پہلی صورت یہ ہے کہ اس نے جو کفر چھپایا ہو اس کا کفر ہونا کھلا اور واضح ہو، مثلاً کوئی یہودی یا عیسائی شخص اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے۔ ایسا شخص عام منافق ہے۔ (ب) دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے جو کفر چھپایا ہو وہ ایسی نوعیت کا ہو جس کا کفر ہونا عام لوگوں کے سامنے واضح نہ ہو، بالفاظِ دیگر وہ اپنے کفر کو اسلام کے لباس میں پیش کرتا ہو، قرآن وحدیث کی کسی نص میں شریعت کی تصریحات کے خلاف کوئی ایسی باطل تاویل کرتا ہو جو اس نص کے اجماعی مفہوم کو بدل دیتی ہو اور وہ اپنے ان باطل عقائد ونظریات کو اسلام کے مطابق کہتا ہو۔ یہ وہ منافق ہے جو شریعت کی اصطلاح میں "زندیق" کہلاتا ہے۔ یہ عام کافر اور عام منافق سے زیادہ سخت اور خطرناک ہے۔ "الحاد" اور "زندقہ" (قرآن وحدیث کی کسی نص میں شریعت کی تصریحات کے خلاف کوئی ایسی باطل تاویل کرنا جو اس نص کے اجماعی مفہوم کو بدل دے) کو اگر چھپایا نہ جائے تو بھی یہ منافقت ہے، اور عام منافقت سے زیادہ خطرناک ہے، وجہ یہ ہے کہ کفر کی یہ صورت اسلام کے دعویٰ اور شعائرِ اسلام کی ادائیگی کے ساتھ ہوتی ہے، یعنی اس صورت میں کفر پر اسلام کا لیبل لگالیا جاتا ہے، اس لیے اس میں اکثر لوگوں کو بہت مغالطہ پیش آتا ہے۔ پھر اس کو چھپانے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی وجہ سے اس میں مزید شدت پیدا ہوگی۔ مذکورہ دونوں قسم کے لوگوں کا وہ عہدے اور مراعات حاصل کرنا جو مسلمانوں کے ساتھ خاص ہیں، ہرگز جائز نہیں۔ ایسا کرنا بیک وقت شریعت اور ملکی قانون دونوں کی سخت خلاف ورزی ہے۔ نیز ان کا کسی بھی عہدے پر پہنچنا اسلام، پاکستان اور مسلمانوں کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ ان مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں وہ اسلام، پاکستان اور مسلمانوں کو کوئی بھی گزند پہنچاسکیں۔ اس لیے ایسے لوگوں کی ہر حرکت پر کڑی نظر رکھنا ایک اسلامی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (8) يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (9) } [البقرة: 8 - 9] {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ } [المنافقون: 1] {إِنَّ الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي آيَاتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا أَفَمَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ خَيْرٌ أَمْ مَنْ يَأْتِي آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ } [فصلت: 40] تفسير ابن كثير (1/ 177): عن ابن عباس: { وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ } يعني: المنافقين من الأوس والخزرج ومن كان على أمرهم. وكذا فسَّرها بالمنافقين أبو العالية، والحسن، وقتادة، والسدي. ولهذا نبَّه الله سبحانه على صفات المنافقين لئلا يغتر بظاهر أمرهم المؤمنون، فيقع بذلك فساد عريض من عدم الاحتراز منهم، ومن اعتقاد إيمانهم، وهم كفار في نفس الأمر، وهذا من المحذورات الكبار، أن يظن بأهل الفجور خَيْر. تفسير ابن كثير (8/ 125): يقول تعالى مخبرا عن المنافقين: إنهم إنما يتفوهون بالإسلام إذا جاءوا النبي صلى الله عليه وسلم فأما في باطن الأمر فليسوا كذلك، بل على الضدّ من ذلك؛ ولهذا قال تعالى: { إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ } أي: إذا حَضَروا عندك واجهوك بذلك، وأظهروا لك ذلك، وليسوا كما يقولون: ولهذا اعترض بجملة مخبرة أنه رسول الله، فقال: { وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ } ثم قال: { وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ } أي: فيما أخبروا به، وإن كان مطابقًا للخارج؛ لأنهم لم يكونوا يعتقدون صحة ما يقولون ولا صدقه؛ ولهذا كذبهم بالنسبة إلى اعتقادهم. تفسير ابن كثير (1/ 180): منها ما قاله بعضهم: أنه إنما لم يقتلهم لأنه كان يخاف من شرهم مع وجوده عليه السلام بين أظهرهم يتلو عليهم آيات الله مبينات، فأما بعده فيقتلون إذا أظهروا النفاق وعلمه المسلمون، قال مالك:"المنافق في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم هو الزنديق اليوم". قلت: وقد اختلف العلماء في قتل الزنديق إذا أظهر الكفر هل يستتاب أم لا؟ أو يفرق بين أن يكون داعية أم لا؟ أو يتكرر منه ارتداده أم لا؟ أو يكون إسلامه ورجوعه من تلقاء نفسه أو بعد أن ظهر عليه؟ على أقوال موضع بسطها وتقريرها وعزوها كتاب الأحكام. المسوّیٰ فی شرح الموطأ للشاہ ولی اللہ الدھلویؒ (2/268): باب حکم الخوارج والقدریة وأشباهھم المخالف للدین الحق إن لم یعترف به ولم یذعن لہ لا ظاھراً ولا باطناً فھو الکافر، وإن اعترف بلسانه، وقلبُه علی الکفر فهو المنافق، وإن اعترف به ظاهراً وباطناً لکنه یفسر بعض ما ثبت من الدین ضرورةً بخلاف مافسره الصحابة والتابعون وأجمعت علیه الأمة فهو الزندیق کما إذا اعترف بأن القرآن حق، وما فیه من ذکر الجنة والنار حق، لکن المراد بالجنة الابتهاج الذی یحصل بسبب الملکات المحمودة، والمراد بالنار هی الندامة التی تحصل بسبب الملکات المذمومة ولیس فی الخارج جنة ولا نار فهو الزندیق. شرح المقاصد في علم الكلام (2/ 268): الكافر اسم لمن لا إيمان له فإن أظهر الإيمان خص باسم "المنافق"…. وإن كان مع اعترافه بنبوة النبي صلى الله عليه وسلم وإظهاره شعائر الإسلام یبطن عقائد هي كفر بالاتفاق خص باسم "الزنديق". البحر الرائق (5/ 136): وأما من يبطن الكفر -والعياذ بالله تعالى- ويظهر الإسلام فهو المنافق. فتح الباري للحافظ ابن حجرؒ (13/ 74): النفاق إظهار الإيمان وإخفاء الكفر، ووجود ذلك ممكن في كل عصر.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔