021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لڑکی والوں کی طرف سے دعوت کاحکم
..نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

لڑکی والوں کارخصتی کے وقت عزیز واقارب اور دوست احباب مدعو کرکے کھاناکھلانے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ جبکہ لڑکے والوں کی طرف سے اس کا مطالبہ بھی نہیں اور بارات کااہتمام بھی نہیں ۔

o

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رخصتی کاکوئی خاص طریقہ نہیں تھا اور نہ ہی بارات اور لوگوں کے اجتماع کا کوئی اہتمام تھا ، جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی والدہ محترمہ نے رخصت کیا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کےگھر روانہ فرمایا البتہ اگر پردے کا اہتمام ہو اور مردوں کے ساتھ اختلاط وغیرہ مفاسد نہ ہوں تو رخصتی کے وقت قریبی رشتہ دار خواتین کے گھر میں جمع ہونے کی گنجائش ہے ، اور ان کے لئے بقدر ضرورت کھانے کاانتظام کرنا بھی درست ہے ،لیکن اس کھانے کو صرف مہمان نوازی کی حثیت دی جائے ،اس کو مسنون دعوت نہ سمجھاجائے ، کیونکہ رخصتی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے کھانے کا انتظام کرنا شریعت میں ثابت نہیں ہے۔

حوالہ جات

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (29/ 364، بترقيم الشاملة آليا) ( عائشة ) رضي الله عنها قالت تزوجني النبي فأتتني أمي فأدخلتني الدار فلم يرعني إلا رسول الله ضحى جامع الأحاديث لجلال الدين السيوطي (33/ 92) أتيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقعدت بين يديه فقلت : يا رسول الله قد عرفت قدمى فى الإسلام ومناصحتى وإنى وإنى ، قال : وما ذاك يا على قلت تزوجنى فاطمة قال : وعندك شىء قلت : فرسى وبدنى قال : أعنى درعى قال : أما فرسك فلا بد لك منها ، وأما درعك فبعها ، فبعتها بأربعمائة وثمانين فأتيته بها فوضعتها فى حجره ، فقبض منها قبضة فقال : يا بلال ابغنا بها طيبا ، وأمرهم أن يجزوها ، فجعل لهم سرير شرط بالشرط ووسادة من أدم حشوها ليف وملء البيت كثيبا يعنى رملا وقال لى : إذا أتتك فلا تحدث شيئا حتى آتيك ، فجاءت مع أم أيمن حتى قعدت فى جانب البيت وأنا فى جانب وجاء رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال : ههنا أخى فقالت أم أيمن أخوك أو أخوك وقد زوجته ابنتك قال : نعم ، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 9) وهل يكره الزفاف المختار لا إذا لم يشتمل على مفسدة دينية. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 9) (قوله: وهل يكره الزفاف) هو بالكسر ككتاب إهداء المرأة إلى زوجها قاموس والمراد به هنا اجتماع النساء لذلك؛ لأنه لازم له عرفا أفاده الرحمتي (قوله: المختار لا إلخ) هذا في الفتح مستدلا له بما مر من حديث الترمذي،
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔