021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکاطلاق سے منکرہوجانا
61557طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میرے شوہرنے مجھے طلاق دیدی ہےکچھ گھریلوجھگڑےکےباعث،پہلےتومیرے شوہر نے دودفعہ طلاق دی اورکہاکہ میں تجھے طلاق دیتاہوں،پھرمیرے شوہردوسرے کمرےمیں چلےگئےاورکچھ دیرتک گالم گلوچ کرتے رہے۔میں اپنےبیٹےعبدالرحمن سےغصہ کی حالت میں کہنے لگی کہ تمہارے والدنےدوطلاقیں دیدی ہیں ،اب اپنے والدسےایک دفعہ اورطلاق کہلواکرمیری جان چھڑاو۔اس کے بعدمیرے شوہردوبارہ کمرے میں داخل ہوئے اورتین دفعہ کہاکہ میں تمہیں طلاق دیتاہوں،لیکن مجھے اس کے الفاظ یادنہیں کہ کن الفاظ کے ساتھ انہوں نے طلاق دی ،میرے بیٹے کاکہناہے کہ والدصاحب نے طلاق کے الفاظ استعمال کئے تھے اورمیری بیٹی کاکہناہے کہ وہ امی سے مخاطب ہوکرطلاق کے الفاظ استعمال نہیں کررہےتھے،بلکہ بھائی سے مخاطب ہوکر کہہ رہےتھے کہ میں تمہاری ماں کوایسے طلاق دیتاہوں،جبکہ میرے شوہرکاکہناہے کہ انہوں نے طلاق کے الفاظ صرف دودفعہ میں استعمال کئےتھے،تیسری مرتبہ میں طلاق کے جگہ علاق کالفظ استعمال کیاہے۔ میرے شوہرکاکہناہے کہ دوطلاق دینے کےبعد تم بہت غصہ میں تھی اورباربار بیٹے کوبول رہی تھی کہ تیسری طلاق بھی دلاؤ تومیں نے بہت سوچ سمجھ کربالکل ٹھنڈے دماغ سے طلاق کی جگہ لفظ علاق استعمال کیاتاکہ میراغصہ ٹھنڈاہوجائے۔ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کوجواب واضح فرمائیں۔

o

صور ت مسؤولہ میں دوطلاقیں واقع ہوئی ہیں،البتہ تیسری طلاق کے ہونے میں تفصیل یہ ہےکہ اگر بیٹااوربیٹی عاقل بالغ ہیں اوروہ طلاق کے الفاظ کہنے کی خبردیتےہیں اورآپ کو ان کی بات شوہرکے الفاظ طلاق کہنےکایقین یاظن غالب ہےتواس صورت میں دیانة تیسری طلاق واقع ہوچکی ہے،آپ کے لئے اس مردکے ساتھ رہناجائزنہیں،اوراگرآپ کےبیٹا بیٹی نابالغ ہیں یاان کی بات پر یقین یاظن غالب حاصل نہیں ہوتا تواس صورت میں مجموعی طورپردوطلاقیں واقع ہوئی ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 12 / ص 427): "أخبرها ثقة أن زوجها الغائب مات ، أو طلقها ثلاثا ، أو أتاها منه كتاب على يد ثقة بالطلاق . إن أكبر رأيها أنه حق فلا بأس أن تعتد وتتزوج." رد المحتار (ج 3 / ص 335): " أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهر خلاف مدعاه."
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔