021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مبیع تولے بغیر وزن کی بنیاد پر بیع کرنا
..خرید و فروخت کے احکامزمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل

سوال

ہمارے ہاں پنجاب میں گندم کا بھوسا بیچنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ بوسے کا ڈھیر لگا کرمٹی سے لپائی کر دی جاتی ہے ۔اس کے بعد اس کو وزن کے اعتبار سے بیچا جاتا ہے ۔وزن کرنے کے دو طریقے ہیں ایک تو ترازو لگا کر باقاعدہ تولنے کا ہے لیکن یہ ذرا مشکل ہے اس لیے کم استعمال ہوتا ہے۔دوسرا یہ کہ جتنے من گندم حاصل ہوئی تھی اس سے حاصل ہونے والے بھوسےکو بھی اتنے من ہی شمار کیا جاتا ہے مثلاً سو من گندم ہوئی تو بھوسہ بھی سو من ہی شمار ہوگا حقیقت میں چاہے کم ہو یا زیادہ۔اس کے بعد فی من کی قیمت طے کر کے سو من کی قیمت اداکر دی جاتی ہے۔بعض لوگ گندم کی مقدار زیادہ بتا کر خریدار کو دھوکہ بھی دیتے ہیں۔ کیا بھوسہ بیچنے کا دوسرا طریقہ شرعاًدرست ہے ؟

o

اگر کسی وزن کی جانے والی چیز کو اندازے سے خریدا جائے تو وزن کرنا شرعاً ضروری نہیں رہتا۔ مذکورہ صورت میں اگرچہ گندم کا وزن ذکر کیا جاتا ہے۔لیکن اس کا اصل مقصد بھوسے کا درست اندازہ لگانا ہوتا ہے،حقیقت میں یہ معاملہ اندازے سے ہی ہو رہا ہوتا ہے نہ کہ وزن کی بنیاد پر اس لیے وزن کرنا ضروری نہیں۔ سارا ڈھیر کم ہو یا زیادہ خریدار کا ہو جاتا ہے۔ البتہ وزن بتانے میں غلط بیانی جھوٹ اور دھوکہ ہےجو کسی صورت میں جائز نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 149) عن جابر - رضي الله تعالى عنه - «أنه - صلى الله عليه وسلم - نهى عن بيع الطعام حتى يجري فيه الصاعان صاع البائع وصاع المشتري»۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولا خلاف في أن النص محمول على ما إذا وقع البيع مكايلة فلو اشتراه مجازفة له التصرف فيه قبل الكيل تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 81) ثم اعلم أن الأموال ثلاثة أقسام مقدرات كالكيلي والوزني وعدديات ومذروعات ففي القسم الأول إن كان اشتراه مجازفة وقبضه جاز تصرفه قبل الكيل والوزن؛ لأن الكل مبيع فيكون بائعا ملك نفسه فجاز وهذا معنى قوله بخلاف ما إذا باعه مجازفة صحيح مسلم (1/ 99) أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔