021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خودکشی کرنے والے کے لیے ایصالِ ثواب
..جنازے کےمسائلایصال ثواب کے احکام

سوال

کیا خودکشی کرنے والا شخص کافر کی طرح ہمیشہ جہنم میں رہے گا؟ کیا اس کے لیے ایصالِ ثواب کرنا درست ہے؟

o

خودکشی کرنا گناہِ کبیرہ ہے، احادیث میں خودکشی کرنے پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔ تاہم خودکشی کرنے والا کافر کی طرح ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا، بلکہ دوسرے گناہ گار مومنین کی طرح اپنے گناہ کی سزا پاکر جہنم سے نکل کر جنت میں جائے گا۔ اس لیے خود کشی کرنے والے کے لیے ایصالِ ثواب کرنا درست ہے۔ (باستفادةٍ من احسن الفتاویٰ:4/206)

حوالہ جات

القرآن الکریم: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا } [النساء: 48] صحيح الإمام مسلم ؒ - عبد الباقي (1/ 103) حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة وأبو سعيد الأشج قالا حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالداً مخلداً فيها أبداً، ومن شرب سما فقتل نفسه فهو يتحساه في نار جهنم خالداً مخلداً فيها أبداً، ومن تردى من جبل فقتل نفسه فهو يتردى في نار جهنم خالداً مخلداً فيها أبداً. شرح النوويؒ على صحیح الإمام مسلمؒ (2/ 125) قوله صلى الله عليه و سلم "فهو فى نار جهنم خالداً مخلداً فيها أبداً"، فقيل: فيه أقوال: أحدها أنه محمول على من فعل ذلك مستحلا مع علمه بالتحريم فهذا كافر وهذه عقوبته، والثانى أن المراد بالخلود طول المدة والاقامة المتطاولة لا حقيقة الدوام كما يقال خلد الله ملك السلطان، والثالث أن هذا جزاؤه ولكن تكرم سبحانه وتعالى فأخبر أنه لا يخلد فى النار من مات مسلما. فتح الملہم بشرح صحیح الإمام مسلمؒ(2/111): قوله :(خالداً مخلداً فيها أبداً) إلخ: وقد تمسك بہ المعتزلة ممن قال بتخلید أصحاب المعاصی فی النار ، وأجاب أھل السنة عن ذلك بأجوبة: منھا: توھیم ھذہ الزیادة ، قال الترمذی بعد أن أخرجہ: رواہ محمد بن عجلان، عن سعید المقبری، عن أبی ھریرة، فلم یذکر: "خالداً مخلداً" وکذا رواہ أبو الزناد، عن الأعرج، عن أبی ھریرة، (یشیر إلی روایة الباب) قال: وھو أصح؛ لأن الروایات قد صحت أن أھل التوحید یعذبون، ثم یخرجون منھا ولایخلدون. وأجاب غیرہ بحمل ذلك علی من استحلہ؛ فإنہ یصیر باستحلالہ کافراً، والکافر مخلد بلا ریب. وقیل: ورد مورد الزجر والتغلیظ، وحقیقتہ غیر مرادۃ. وقیل: المعنی أن ھذا جزاءہ، لکن قد تکرم اللہ علی الموحدین فأخرجھم من النار بتوحیدھم. وقیل: التقدیر: مخلداً فیھا إلی أن یشاء اللہ. وقیل: المراد بالخلود طول المدة لا حقیقة الدوام، کأنہ یقول: یخلد مدةً معینةً، وھذا کما یقال: خلد اللہ ملك السلطان، وقریب منہ أن یقال: إن کونہ متوجئاً بحدیدتہ، أوشارباً سمہ، أومتردیاً فی جھنم: دائم مؤبد، ما دام ذاتہ موجودۃ فیھا، فالدوام والتأبید بحسب الصفات المذکورة وموطنہ المخصوص، فکأنہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن ھذہ الصفات والھیئات التی کان علیھا وقت قتلہ نفسہ لا تفارقہ فی ذلك الموطن أبداً، واللہ سبحانہ وتعالیٰ أعلم.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔