021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرضِ فاسداور بیع فاسد کی ایک صورت )کمپنی سے رقم( قرض) ،بیج اورکھاد اس شرط سے خریدناکہ پیداوار اسی کوبیچناہے(کا حکم۔
..خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

زمین کے مالک ، کمپنی والے سے "نقد رقم، بیج اور کھاد" وغیرہ لیتے ہیں، اور کمپنی کی طرف سے یہ شرط ہوتی ہے کہ حاصل شدہ پیداوار اس کمپنی کے علاوہ کسی اور کو نہیں دے سکتے، ہمارے علاقے میں یہ طریقہ عام ہے، اور زمینداروں کی تجارت اسی طرز پر ہوتی ہے۔ مذکورہ صورت جائز ہے یا ناجائز؟ (تنقیح: نقد رقم بطورِ قرض دی جاتی ہے، جبکہ کھاد اور بیج وغیرہ ادھار پر فروخت کئے جاتے ہیں۔)

o

صورتِ مسئولہ میں کمپنی نقد رقم زمینداروں کو بطورِ قرض دے کر اس رقم کی واپس وصولی کے علاوہ ایک فائدہ یہ حاصل کر رہی ہے کہ زمیندار اس قرض کی بنا پر پیداوار اسی کمپنی کو فروخت کرنے کا پابند ہے،لہذا یہ قرض پر نفع ہے جو شرعاً سود ہونے کی بنا پر ناجائز ہے، کمپنی پر یہ لازم ہے کہ وہ یا تو قرض ہی نہ دے یا اس قسم کی شرط کے بغیر دے، نیز اس شرط کو پورا کرنا زمیندار پر شرعاً لازم نہیں۔ اسی طرح کھاد اور بیج وغیرہ کی ادھار خریدو فروخت میں یہ شرط (کہ زمیندار اپنی پیداوار اسی کمپنی کو فروخت کرے گا) ایک شرطِ فاسد ہے، جس سے خریدوفروخت کا عقد فاسد ہوجاتا ہے۔اس فاسد طریقے سے خریدو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے اجتناب واجب ہے۔ البتہ فصل کے پکنےاور پیداوار کے حصول سے پہلے زمینداراوں کی نقد رقم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے شریعت نے "عقدِ سَلَم" کو جائز قراردیا ہے، اس عقد کے مطابق کمپنی نےزمینداروں سے جو پیداوار خریدنی ہو اس کی کوالٹی، مقدار، ادائیگی کا مقام اور تاریخ اورقیمت طے کر کے،پیداوار کے حصول سے پہلے ہی خرید کر مکمل قیمت زمینداروں کو اسی مجلسِ عقد میں ادا کر دے، عقد ِ سلم کی نسبت کسی زمیندار کی فصل کی طرف نہیں کی جائے گی، بلکہ عقد مطلقاً کیا جائے گا کہ "زمیندار نے اتنی مقدار میں مثلاً گندم کمپنی کو فروخت کی"، بعد میں چاہے وہ اپنی فصل کی پیداوار ادا کر دے، نیز اس میں باہمی رضامندی سے مارکیٹ ریٹ سے کم ریٹ بھی طے کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

فی السنن الكبرى للبيهقي (5/ 573، دارالکتب العلمیۃ): 10933: "عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا ۔" فی الاختيار لتعليل المختار (2/ 25، دارالکتب العلمیۃ): "والجملة في ذلك أن البيع بالشرط ثلاثة أنواع: نوع: البيع والشرط جائزان ۔۔۔۔۔ ونوع كلاهما فاسدان، وهو كل شرط لا يقتضيه العقد ولا يلائمه، وفيه منفعة لأحد المتعاقدين۔" فی الدر المختار (5/ 249، دارالفکر): "(وما) يصح و (لا يبطل بالشرط الفاسد) لعدم المعاوضة المالية سبعة وعشرون ما عده المصنف تبعا للعيني وزدت ثمانية (القرض والهبة والصدقة والنكاح۔۔۔۔ الخ"۔ فقط
..

n

مجیب

عمران مجید صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔