021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نابالغ بچے کو زکوۃ دینا/چیک کے ذریعے زکوۃ کی ادائیگی کا حکم
61719 زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ان مسائل کے بارے میں: 1) زکوۃ کی مد سے مستحق نابالغ بچے کو 32500 روپے نقد یا چیک دیا جائے، اور اس بچے کو کہا جائے کہ یہ سکول کے کلرک کو اپنے سالانہ فیس کی مد میں دیدے تو اس طریقے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی؟ 2) زکوۃ کی مد سے مستحق والدین یا سرپرست کو 32500 روپے نقد یا چیک دیا جائے اور وہ اپنی مرضی سے اس رقم یا چیک کو سکول کے کلرک کو بچے کی سالانہ فیس کی مد میں دیدیں تو اس طریقے سے زکوۃ ادا ہوجائے گی؟ 3) زکوۃ کی مد سے مستحق نابالغ بچے کے لیے سکول کا یونیفام، جوتے، سٹیشنری اور دستکاری کا سامان خرید کر دیا جائے تو اس طریق سے زکوۃ ادا ہوجائے گی؟ 4) زکوۃ کی مد سے مستحق نابالغ یا بالغ بچے یا بچی کے لیے سکول کا یونیفام، جوتے، سٹیشنری اور دستکاری کا سامان خرید کر اگر بچے یا ان کے والدین کے حوالے کرلیا جائے تو اس طریق سے زکوۃ ادا ہوجائے گی؟

o

ان چاروں سوالات کا جواب جاننے سے قبل بطورِ تمہید چند باتیں ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے: • نابالغ بچے کے مستحقِ زکوۃ ہونے یا نہ ہونے میں جس طرح خود بچے کے صاحبِ نصاب ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار ہوتا ہے، اسی طرح اس کے والد کے صاحبِ نصاب ہونے یا نہ ہونے کا بھی اعتبار ہوتا ہے۔ اس لیے مالدار شخص کے نابالغ بچے کو زکوۃ دینا جائز نہیں، اگرچہ بچہ خود صاحبِ نصاب نہ ہو۔ البتہ اگر والد مستحقِ زکوۃ ہو اور بچہ خود بھی صاحبِ نصاب نہ ہو تو پھر اسے زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ • بچہ اگر سمجھدار ہو تو خود اسے زکوۃ دی جاسکتی ہے، لیکن اتنا چھوٹا بچہ جس کو رقم اور سامان وغیرہ قبضہ کرنے کی سمجھ نہ ہو، اس کو دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ اس کے والد یا سرپرست کو زکوۃ دینا لازم ہوگا۔ • چیک سے زکوۃ اس وقت ادا ہوگی جب مستحق طالبِ علم یا اس کا سرپرست اس کو کیش کراکے بینک سے پیسے وصول کرے، یا فیس میں چیک سکول کلرک کو دیدے اور وہ بینک سے رقم وصول کرکے اس کی فیس کے طور پر سکول میں جمع کرادے۔ اس سے پہلے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ مذکورہ بالا تفصیل اور شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے سوال میں ذکر کردہ چاروں طریقوں سے زکوۃ ادا کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار (2/ 347): ( و ) لا إلى ( غني ) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان …. ( و ) لا إلى ( طفله ) بخلاف ولده الكبير وأبيه وامرأته الفقراء وطفل الغنية فيجوز لانتفاء المانع. رد المحتار (2/ 349): قوله ( قوله ولا إلى طفله ) أي الغني فيصرف إلى البالغ ولو ذكرا صحيحا، قهستاني، فأفاد أن المراد بالطفل غير البالغ ذكرا كان أو أنثى في عيال أبيه أو لا على الأصح لما أنه يعد غنيا بغناه، نهر . قوله ( بخلاف ولده الكبير ) أي البالغ كما مر ولو زمنا قبل فرض نفقته إجماعا وبعده عند محمد خلافا للثاني، وعلى هذا بقية الأقارب، وفي بنت الغني ذات الزوج خلاف، والأصح الجواز وهو قولهما ورواية عن الثاني، نهر . قوله ( وطفل الغنية ) أي ولو لم يكن له أب ، بحر عن القنية، قوله ( لانتفاء المانع ) علة للجميع والمانع أن الطفل يعد غنيا بغنى أبيه بخلاف الكبير؛ فإنه لا يعد غنيا بغنى أبيه، ولا الأب بغنى ابنه، ولا الزوجة بغنى زوجها، ولا الطفل بغنى أمه، ح عن البحر. الفتاوى الهندية (1/ 190): إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون كذا في الخلاصة، أو من كان في عياله من الأقارب أو الأجانب الذين يعولونه والملتقط يقبض للقيط، ولو دفع الزكاة إلى مجنون أو صغير لا يعقل فدفع إلى أبويه أو وصيه قالوا: لا يجوز كما لو وضع على دكان ثم قبضها فقير لا يجوز، ولو قبض الصغير وهو مراهق جاز وكذا لو كان يعقل القبض بأن كان لا يرمي ولا يخدع عنه. رد المحتار (2/ 344): قوله ( تمليكاً ) … وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما، ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط، قهستاني، وتقدم تمام الكلام على ذلك أول الزكاة. تكملةفتح الملهم (1 /515 ) : فالصحيح :أن الشيك المصرفي سند يدل علي أن الذي وقع عليه قد وكل حامله لقبض دينه من البنك و مقاصة دينه ، فليس ذلك من الأثمان في شيء، فلا يعتبر القبض عليه قبضاً علي مبلغه، حتي ينقده البنك ، ولايتأدي بأدائه الزكوة حتي ينقدہ الفقير ، …. ويجوز لموقعه أن يعزل حامله عن الوكالة قبل أن يبلغ به الي البنك.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔