021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنا
..طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

سوال: مسئلہ یہ ہے کہ آٹھ سال پہلے جب میں نفسیاتی مریض تھا۔ ہم ملازمت کی جگہ سے گاوٴں آئے ۔میں نے اپنی سالی کے گھر میں اپنی بیوی کو کہا کہ اگر تم اس وقت تک اسٹیشن نہ پہنچی تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہے اور میری بیوی نہ آئی۔ اور پھر میں ملازمت کی جگہ چلا گیا۔ چند دن بعد میں نے اپنی پھو پھو کو فون کیا )جو میری بیوی کی ممانی ہے( کہ میری بیوی سے کہو کہ اس وقت تک اگر میری بیوی اٹک اسٹیشن نہ آئی تو میری طرف سے اسے طلاق ہے ۔میری بیوی پھر بھی نہ آئی۔ میری چودہ سال کی بیٹی بھی ہے جو میری بیوی کے پاس ہے ۔میرا علاج جاری ہے اور اب میں پہلے سے بہتر ہوں۔ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے فتوی کی صورت میں رہنمائی فرما دیں۔

o

اگر طلاق کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کیا جا ئے تو اس شرط کے پائے جانے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ طلاق (ایک یا دو) اگر صریح الفاظ سے دی جائے تو ایسی طلاق کو رجعی طلاق کہتے ہیں ۔ایسی طلاق کے بعد عدت کے اندر اندر شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے اور عدت گزر جانے کے بعد طرفین کی رضامندی سے نکاح درست ہوتا ہے۔اگر دوسری طلاق عدت کے اندر اندر دی گئی ہو تو دونوں واقع ہو جاتی ہیں اور اگر ایک طلاق دی پھر دوسری طلاق اتنی مدت کے بعد دی کہ اس دوران عدت گزر گئی تو صرف پہلی طلاق واقع ہو گی دوسری لغو ہو جائے گی۔ مذکورہ صورت میں آپ نے دو مرتبہ مختلف اوقات میں اپنی بیوی کو صریح الفاظ سےاس کے نہ آنے پرمشروط طلاق دی ،پہلی مرتبہ جب آپکی بیوی نہیں آئی تو ایک طلاق واقع ہو گئی دوسری مرتبہ عدت کے اندر(جیسا کہ سوال میں چند دن کا ذکر ہے) آپکا یہ کہنا کہ اگر نہ آئی تو اسے طلاق ہے یہ کہنے سے دوسری طلاق بھی مشروط ہوگئی۔چونکہ آپکی بیوی مقررہ وقت پر نہیں پہنچی لہذا دوسری طلاق بھی واقع ہو گئی۔ چونکہ آخری طلاق واقع ہونے کے بعد تقریباً آٹھ سال گزر گئے ہیں غالب گمان ہے کہ عدت گزر گئی ہو گی۔اب شرعی حکم یہ ہے کہ اگر آپ دوبارہ اسی خاتون کو گھر لانا چاہتے ہیں تو باہمی رضا مندی سےنکاح کر کے لا سکتے ہیں۔ آئند اس معاملے میں حد درجے محتاط رہیں کیونکہ اب آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 109) أما الصريح الرجعي فهو أن يكون الطلاق بعد الدخول حقيقة غير مقرون بعوض ولا بعدد الثلاث لا نصا ولا إشارة ولا موصوفا بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف ولا مشبه بعدد أو وصف يدل عليها تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 188) وشرطه وهو الأهلية والمحل بأن يكون بالغا عاقلا والمرأة في النكاح أو في العدة واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔