021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اس عورت کو چھوڑ تا ہوں کہنے کاحکم
..طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ایک شخص جو دبئی میں رہائش پذیر تھے اپنی بیوی کو پہلے دوطلاق دے چکے ہیں ،بعد میں رجوع کرکے دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گذار رہے تھے ، اس واقعہ کو دوسال کا عرصہ گذر چکا ہے ،اب گذشتہ شب وہ بچوں کے ساتھ کمرے میں موجود بعد میں خاتون دوسرے کمرے میں تھی شوہر نے زور زور سے یہ الفاظ ادا کئے ۔ میں ہوش وحواس میں اپنا شرعی حق استعمال کرتے ہوئے اس عورت کوچھوڑتا ہوں دودفعہ بولا ۔تیسری دفعہ بولا چھوڑ دونگا ۔ سوال یہ ہے کہ پہلے دو دفعہ طلاق کے بعد اب ان الفاظ کے استعمال سے ان کا نکاح ختم ہوگیا یا اب بھی برقرار ہے ان کے لئے شرعی حکم کیا ہے ؟

o

بقول سائل اس خاتون کو دوسال قبل طلاقیں ہوچکی ہیں بعد میں شوہر نے رجوع کرلیا اس سے اگر چہ عورت حلال ہوئی تھی لیکن طلاقیں برقرار ہیں ، اب کے دفعہ جب شوہر نے کہا کہ میں شرعی حق استعمال کرتے ہوئے اس عورت کو چھوڑتا ہوں اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی اب یہ خاتون تین طلاق مغلظہ کے ساتھ اپنے شوہر پر حرام ہوگئی ہے، اب دونوں کے لئے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گذار نا بھی جائز نہیں ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر آپس میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ہے ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 299) فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔