021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متسبب کے ضامن بننے یا نہ بننے سے متعلق ایک مسئلہ
..غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! میں محمد بلال سعودی عرب میں چپل، ٹوپی اور مسواک کا کام کرتا تھا۔ سامان کراچی سے بھیجتے تھے۔ سعودی عرب میں محمد بلال، محمد انس آگریہ اور عبد الرشید تینوں ایک دکان میں شریک تھے۔ ہم تینوں اپنا سامان کنٹینر کے ذریعے بھیج رہے تھے کہ میرے ماموں زاد محمد وسیم میرے پاس آگئے اور مجھ سے کہا کہ تم اس کنٹینر میں میری تسبیح بھی بھیج دینا۔ جتنا کرایہ ہوگا وہ ہم سب اپنے اپنے سامان کے بقدر برداشت کریں گے۔ میں نے اپنے باقی دو پارٹنر محمد انس اور عبد الرشید کو بھی اس بارے میں بتایا۔ انہوں نے اجازت دے دی، چنانچہ ہم تینوں کا مال اور محمد وسیم کا مال کنٹینر میں سعودی عرب روانہ ہوا۔ مال جب جدہ پورٹ پر پہنچا تو ہمارا پورا کنٹینر ضبط کرلیا گیا۔ تا حال سامان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ سامان ہم نے جس کمپنی کے واسطے سے سعودی عرب بھجوایا تھا اس کے مالک میرے پارٹنر محمد انس کے والد حاجی یونس اور میرے ایک پارٹنر عبد الرشید ہیں۔ حاجی یونس نے مجھے بتایا تھا کہ چپلوں کے کنٹینر مشکوک ہوتے ہیں یعنی لوگ اس میں غیر قانونی چیزیں منشیات وغیرہ بھیجتے ہیں، اگر کوئی غیر قانونی چیز پکڑی گئی تو سامان ضبط ہوسکتا ہے۔ حاجی یونس کی یہ بات میں نے وسیم بھائی کو بتادی تھی۔ جب ہم چپل خریدنے لگے تو ہم نے دو قسم کی چپل خریدی۔ ایک قسم چپل دو پٹی والی تھیں۔ یہ ہم نے آرڈر پر بنوائیں جو مختلف ڈیزائن کی تھیں، لیکن ایک دو ڈیزائن کے سوا کسی ڈیزائن میں IROP یعنی اسلامک ریپبلک آف پاکستان لکھا ہوا نہیں تھا۔ یہ لکھائی ڈائی میں لکھی ہوتی ہے اور ڈائی چونکہ ایک ڈیزائن کی ایک ہی بار بنتی ہے۔ اس لیے آرڈر دینے سے پہلے ہم نے سعودی کلیئر ایجنٹ سے معلومات لی کہ تمام چپلوں پر IROP کی لکھائی ضروری ہے یا نہیں؟ اگر ضروری ہے تو ہم تمام ڈیزائن تبدیل کروالیتے ہیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ چپلوں پر ضروری نہیں، البتہ تم جس پیکنگ میں یہ سامان روانہ کریں گے اس پر Made in Pakistan ضرور لکھنا۔ اس بنیاد پر ہم نے ان چپلوں کا آرڈر دے دیا۔ دوسری قسم چپل عربی چپل تھیں، یہ چپل ہم نے (محمد بلال اور عبد الرشید نے انس کی اجازت سے) مارکیٹ سے تیار اٹھائی اور ہم نے اس کی لکھائی کی طرف توجہ ہی نہیں دی کہ اس پر IROP لکھا ہوا ہے یا نہیں؟ کیونکہ کلیئر ایجنٹ نے ہمیں بتایا تھا کہ چپلوں پر یہ لکھائی ضروری نہیں ہے۔ پیکنگ پر ضروری ہے۔ اور کلیئر ایجنٹ کی بات مارکیٹ میں معتبر ہوتی ہے، کوئی بھی مال روانہ کرنے کی ترتیب ایجنٹ ہی گائیڈ کرتا ہے۔ مال روانہ کرنے کے بعد جب جدہ پورٹ پر پہنچا تو پورا کنٹینر بشمول محمد وسیم کے مال کے ضبط کرلیا گیا۔ سامان ضبط کرنے کی وجہ انس نے ایجنٹ کے حوالے سے ہمیں یہ بتائی کہ بعض چپلوں پر Made in Italy لکھا ہوا نکلا ہے جس کی وجہ سے پورا کنٹینر ضبط کرلیا گیا۔ ہم نے انس سے یہ کہا کہ ایجنٹ ہمیں کوئی واضح ثبوت دے تاکہ ہم اس کے مطابق کوئی کاروائی کرسکیں۔ لیکن ہمیں کوئی واضح ثبوت نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد ہم نے ایجنٹ سے رابطہ کی کوشش شروع کی، لیکن اس سے ہماری بات نہ ہوسکی اور اس کے بندے کوئی جواب نہیں دے رہے تھے، اور ہم نے کفیل کے ذریعے بھی ایجنٹ سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے بھی کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ یہاں پر ایک بات یہ بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ محمد انس کے معاملات ایجنٹ اور کفیل سے درست نہیں تھے جس کی وجہ سے ہمیں وہ لوگ صحیح جواب نہیں دے رہے تھے۔ اب محمد وسیم کہہ رہا ہے کہ میں نے تم (محمد بلال) سے سامان بھیجنے کی بات کی تھی، لہٰذا کنٹینر میں میرا 1400000 کا سامان ضبط ہوا ہے اس کا ضمان تم مجھے دوگے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا محمد وسیم کے سامان کا ضمان ہم پر لازم ہے یا نہیں؟ اگر لازم ہے تو آیا صرف مجھ (محمد بلال) پر یا اس ضمان میں میرے دو پارٹنر محمد انس اور عبد الرشید بھی میرے ساتھ شریک ہوں گے، وسیم کا سامان میں نے اپنے دونوں پارٹنر کی اجازت سے اپنے کنٹینر میں بھجوایا تھا۔ اس بارے میں شریعت کا حکم کیا ہے؟ تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ ایجنٹ نے ہمیں بتایا تھا کہ چپل پر یا تو IROP لکھا ہوا ہو یا چپل پر کچھ لکھا ہوا نہ ہو، چپل خالی ہوں، لیکن کاٹن پر Made in Pakistan لازمی لکھنا۔

o

جواب سے پہلے بطورِ تمہید دو فقہی قواعد ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے: (1) پہلا قاعدہ یہ ہے کہ: "مُسَبِّب کے ساتھ جب مباشر جمع ہو تو فعل کی نسبت مباشر کی طرف ہوگی، مُسَبِّب کی طرف نہیں ہوگی"۔ (2)دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ: "کسی دوسرے کے نقصان کا سبب بننے والا نے اگر "تعدی" سے کام لیا ہو (یعنی کوئی ایسا کام کیا ہو جس کے کرنے کا اس کو حق نہیں تھا، اور اس کے نتیجے میں دوسرے کا نقصان ہوا ہو) تو وہ ضامن ہوگا"۔ اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر سوالنامہ میں ذکر کردہ تمام تفصیلات درست ہیں تو اگر: 1۔۔۔ سعودی حکومت کا قانون یہ ہو کہ اس قسم کی خلافِ قانون چیز نکلنے کی صورت میں صرف خلافِ قانون چیز ہی ضبط کی جاتی ہو، پورا کنٹینر ضبط نہ کیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں جدہ پورٹ پر جس نے پورا کنٹینر ضبط کیا ہے وہ غاصب اور مباشر ہیں، لہٰذا محمد وسیم کے سامان کے ضائع ہونے کی نسبت اس کی طرف ہوگی اور آپ ضامن نہیں ہوں گے۔ 2۔۔۔ لیکن اگر سعودی حکومت کے قانون کے مطابق ایسی صورت میں پورا کنٹینر ضبط کیا جاتا ہو تو پھر آپ تینوں محمد وسیم کے سامان کے ضامن ہوں گے؛ کیونکہ اس صورت میں آپ کے سامان میں خلافِ قانون چپل (ایسے چپل جن پر Made in Italy لکھا ہوا تھا) نکلنے کی وجہ سے اس کا سامان ضبط ہوا ہے، لہٰذا آپ تینوں پارٹنرز محمد وسیم کا سامان ضبط ہونے کا "سبب" بنے ہیں، اور اس سبب بننے میں آپ نے "تعدی" سے کام لیا ہے؛ کیونکہ جب ایجنٹ نے آپ کو بتایا کہ چپل پر یا تو IROP لکھا ہوا ہو یا چپل خالی ہوں لیکن کاٹن پر Made in Pakistan لازمی لکھا ہوا ہو تو اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ چپل پر کسی اور ملک کی لکھائی نہیں ہونی چاہیے، چپل یا تو خالی ہوں یا ان پر Made in Pakistan لکھا ہوا ہو۔ ایجنٹ کی اس ہدایت کے باوجود بازار سے تیار چپل (جن پر Made in Italy لکھا ہوا نکلا ہے)اٹھانا اور اس کی لکھا ئی کی طرف توجہ نہ دینا آپ کی طرف سے غفلت اور "تعدی" سمجھی جائے گی۔ لہٰذا اس کے نتیجے میں محمد وسیم کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ضمان آپ پر لازم ہوگا۔ اور سوالنامہ کے مطابق آپ اور عبد الرشید نے یہ عربی چپل محمد انس کی اجازت سے خریدی تھیں اس لیے محمد وسیم کا نقصان آپ تینوں پارٹنرز برابر، برابر برداشت کریں گے۔ البتہ یہ بات ثابت کرنا محمد وسیم کے ذمہ ہے کہ نقصان Made in Italy لکھا ہوا ہونے کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔ اگر اس بات کا ثبوت شرعی دلیل سے نہ ہوسکے تو محض شک کی بنیاد پر اس کے لیے آپ سے ضمان کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ اگر محمد وسیم یہ بات ثابت نہ کرسکے، لیکن آپ لوگ اس بات کا اقرار کریں کہ کنٹینر بعض چپلوں پر Made in Italy لکھا ہوا ہونے کی وجہ سے ضبط ہوا ہے تو بھی آپ پر ضمان دینا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

مجمع الضمانات (1/ 405): إذا اجتمع المباشر والمسبب أضيف الحكم إلى المباشر فلا ضمان على حافر البئر تعدياً بما تلف بإلقاء غيره. مجمع الضمانات (1/ 454): إذا اجتمع المباشر والمسبب أضيف الحكم إلى المباشر فلا ضمان على من دل سارقاً على مال إنسان فسرقه هذه في القاعدة الأخيرة من الأشباه. المبسوط للسرخسي (4/ 342): المتسبب إذا كان متعدياً في تسببه كان ضامناً، وإذا لم يكن متعدياً لا يكون ضامناً. مجلة الأحکام العدلیة(ص: 179): مادة 922: لو أتلف أحد مال الآخر أونقص قیمتہ یعنی لو کان سبباً مفضیاً لتلف مال أونقصان قیمتہ یکون ضامناً، مثلاً إذا تمسك أحد بثیاب آخر وحال مجاذبتھما سقط مما علیہ شیء وتلف أو تعیب یکون المتمسك ضامناً، وکذا لو سد أحد ماء أرض لآخر أو ماء روضتہ ویبست مزروعاتہ ومغروساتہ وتلفت، أو أفاض الماء زیادةً وغرقت المزروعات وتلفت یکون ضامناً، وکذا لو فتح أحد باب اصطبل لآخر وفرت حیواناتہ وضاعت أو فتح باب قفصہ وفر الطیر الذی کان فیہ یکون ضامناً. مادة 924: يشترط التعدي في كون التسبب موجباً للضمان على ما ذكر آنفاً، يعني ضمان المتسبب في الضرر مشروط بعمله فعلاً مفضياً إلى ذلك الضرر بغير حق، مثلاً لو حفر أحد في الطريق العام بئراً بلا إذن أولي الأمر ووقعت فيه دابة لآخر وتلفت يضمن، وأما لو وقعت الدابة في بئر كان قد حفره في ملكه وتلفت لا يضمن. درر الحكام شرح مجلة الأحكام (2/613): والمراد بفعلہ ھو فعلہ الواقع بالتعدی، ویکون سبباً مفضیاً لتلفہ أونقصان قیمتہ. فعلیہ إذا أتلف أحد المال یضمن بدلہ کاملاً، وفی حال نقصان القیمة یضمن أحیاناً القیمة کلھا، وأحیاناً أخریٰ قیمة النقصان…. الخ درر الحكام شرح مجلة الأحكام (2/:(617-616): یشترط شیئان: التعمد والتعدی لأن یکون التسبب موجباً للضمان علی ما ذکر آنفاً فی المادتین (912 و 923)، یعنی ضمان المتسبب فی الضرر الناشیئ عن تسببہ مشروط بعملہ فعلاً مفضیاً إلی ذلك الضرر عمداً وبغیر حق، أی إذا کان قد استعملہ عمداً وتعدیاً کان ضامناً. مثلاً: لو حفر أحد بئراً فی الطریق العام من دون إذن ولی الأمر أی من دون الحضرة السلطانیة فسقط فیھا حیوان لآخر أووضع فی تلك الطریق حجراً وتلف فیہ حیوان عثر بہ کان ضامناً؛ لأن ذلك الشخص لیس لہ حق فی التصرف فی الطریق العام وحفر بئر فیھا، فکما أن فی الحفر المذکور تعدیاً فیعد تعمداً أیضاً. أما لو حفر أحد بئراً فی ملکہ أو فی مکان لہ حق الحفر فیہ وسقط فیھا حیوان لآخر وتلف لا یضمن؛ لأنہ لما کان لکل أن یتصرف فی ملکہ کما یشاء بمقتضی المادۃ (1192) فیکون الحفر المذکور بحق…….. کذلك لو طارت شرارة بینما کان أحد یحرق العشب فی مزرعتہ إلی مزرعة جارہ فحرقت مزروعاتھا، فإن کانت النار بعیدةً عن مزرعة جارہ بحیث لا تصل الشرارة إلیھا عادةً فلا یلزم الضمان، أما إذا کانت قریبةً بحیث تصل إلی مزرعة الجار یکون ضامناً؛ لأنہ وإن کان للإنسان أن یوقد النار فی ملکہ إلا أنہ یشترط فی ذلك السلامة (البھجة)، وعلیہ إذا کانت قریبةً بھذا المقدار فیکون تجاوز النار إلی مزرعة الغیر معلوماً ویکون واقد النار قد قصد إحراق زرع الغیر. أما إذا کانت أرض جارہ قریبة من أرضہ بحیث کان الزرعان ملتفین أو قریبین من الالتفاف علی وجہ یعم أن النار تصل إلی زرع جارہ فیضمن واقد النار زرع الجار (الخانیة)………………. الخ
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔