021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ادھارخریدوفروخت کرنا
..خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک بندہ کو کاروبار کے واسطے رقم قرض دی۔اس کے بعد میں نے ان سے کہا کہ چونکہ میں نے آپ کو پیسے دیے ہیں ،اس کے بدلے آپ میرے گھر والوں کو سودا دیتے رہو،میں مہینہ کے آخر میں آپ کو آپ کا حساب دوں گا،لیکن اس سودا کے پیسے میری دی ہوئی قرض رقم سے نہیں کاٹنا،کیا میرے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

o

آپ کا اس طرح مشروط کرکے کہنا درست نہ تھا۔اب حکم یہ ہے کہ اگر مذکورہ دکاندار دیگر گاہکوں کے ساتھ بسہولت اس طرح ادھار کا معاملہ کرتا ہو تو آپ کے لیے بھی ادھار معاملہ جائز ہے،لیکن اگر وہ دیگر گاہکوں کے ساتھ اس طرح کا معاملہ نہیں کرتا اور خاص قرض کی وجہ سے آپ کے ساتھ معاملہ کرنے پر تیار ہوا ہے تو اس صورت میں آپ کے لیے مذکورہ معاملہ جائز نہیں ،کیونکہ اس صورت میں آپ اپنی دی ہوئی قرض رقم كے بدلےاضافی فائده حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اگر قیمت میں بھی بازاری نرخ سے رعایت ہو تو یہ بھی سود کے حکم میں ہوگا۔

حوالہ جات

قال الإمام فخر الدین الزیلعی رحمہ اللہ تعالی:" قال: (وصح بثمن حال وبأجل معلوم) معناه إذا بيع بخلاف جنسه ،ولم يجمعهما قدر ؛لقوله تعالى:"وأحل الله البيع" من غير فصل.وعنه عليه السلام : "أنه اشترى من يهودي إلى أجل ورهنه درعه." (تبیین الحقائق:4/5،المطبعة الكبرى الأميرية - القاهرة) وقال الإمام برھان الدین المرغینانی رحمہ اللہ تعالی:" قال: "ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما"؛ لإطلاق قوله تعالى: "وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا." وعنه عليه الصلاة والسلام :"أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم،ورهنه درعه." (الھدایۃ:3/24،دار إحیاء التراث العربی) وقال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:"ولا يجوز قرض جر نفعا". (البحر الرائق:6/133،دار الکتاب الإسلامی)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔