021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسقاط حمل سے عدت کا ختم ہونا
..طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے بیوی کو طلاق دی جوکہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی،اس کے بعد اس عورت نے دواکے ذریعہ حمل گرادیا۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اسقاط حمل سے عدت ختم ہوجاتی ہے یا نہیں؟

o

حمل جب چار مہینے یا اس سے زیادہ کا ہو تو اس کوگرانا سخت گناہ اور ناجائز ہے۔اس پراللہ رب العزت کےحضور سچی توبہ اور استغفارکرنا چاہیے،تاہم اس سےعورت کی عدت ختم ہوگئی ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:"(وسقط) مثلث السين: أي مسقوط (ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو أصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما(ولد) حكما..... وتنقضي به العدة." وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:"(قوله أي مسقوط) الذي في البحر التعبير بالساقط،وهو الحق لفظا ومعنى؛.....وأما معنى فلأن المقصود سقوط الولد ،سواء سقط بنفسه،أو أسقطه غيره." (الدر المختار مع رد المحتار:1/302، دار الفکر،بیروت) وقال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی:"وإذا أسقطت سقطا استبان بعض خلقه،انقضت به العدة؛ لأنه ولد." (البحر الرائق:4/147،دارالکتاب الإسلامی) وقال العلامۃابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:" وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل؛إذ المحرم لو كسر بيض الصيد،ضمن؛ لأنه أصل الصيد ،فلما كان يؤاخذ بالجزاء،فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا،إذا سقط بغير عذرها". (رد المحتار:3/176،دار الفکر)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔