021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کزن سے نکاح
61837نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

سوال:کسی ایک گھر میں دو بھائی ہیں،دونوں شادی شدہ تھے،بڑے بھائی کا بیٹا نہ ہونے کی صورت میں دوسری شادی کی،اللہ تعالی نے اس کو ایک بیٹا دیا،اتفاقا بڑے بھائے انتقال ہوگیا،مرحوم کی بیوی سے دوسرے بھائی نے نکاح کیا اور مرحوم کا بیٹا بھی اپنی کفالت میں لے لیا،اب بیٹا بالغ ہوچکا ہے اور جس نے کفالت میں لیا ہے وہ اپنی پہلی والی بیوی کی بیٹی سے اس کا نکاح کرنا چاہتا ہے تو کیا ان دونوں کا آپس میں نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

o

مذکورہ صورت میں ان دونوں کا آپس میں نکاح ہوسکتا ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (3/ 3) : "ليس لنا عبادة شرعت من عهد آدم إلى الآن ثم تستمر في الجنة إلا النكاح والإيمان. (هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي. (قوله: من امرأة إلخ) من ابتدائية والأولى أن يقول بامرأة والمراد بها المحققة أنوثتها بقرينة الاحتراز بها عن بالخنثى، وهذا بيان لمحلية العقد قال في البحر بعد نقله عن الفتح: إن محليته الأنثى والأولى أن يقال: إن محليته أنثى محققة من بنات آدم ليست من المحرمات وفي العناية محله امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي فخرج الذكر للذكر والخنثى مطلقا والجنية للإنسي، وما كان من النساء محرما على التأبيد كالمحارم. اهـ".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔