021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیجیٹل تصویر کا حکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

سوال:حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن سب سے سخت سزا تصویر بنانے والے کو دی جائے گی،اس سے کون سی تصویر مراد ہے؟

o

جمہور فقہاء اور محدثین کے نزدیک اس سےپائیدارطریقےپر کاغذ اور کپڑےوغیرہ کسی چیز پر بنی ہوئی تصویر مراد ہے،چاہے وہ کسی بھی مقصد کے لیے بنائی گئی ہو)البتہ ضرورت کے لیے آدھے دھڑ کی تصویر،تصویر ہونے کے باوجود ضرورت کے موقع پر جائز قرار دی گئی ہے(جبکہ ڈیجیٹل تصویر کے اس روایت کا مصداق ہونے یا نہ ہونے میں علماء کی تین آراء ہیں: ۱۔یہ ناجائز تصویر کے حکم میں داخل نہیں ،بلکہ پانی یا آئینہ میں دکھائی دینے والے عکس کی مانند ہے،لہذا جس چیز کا عکس دیکھنا جائز ہے اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا بھی جائز ہےاور جس چیز کا عکس دیکھنا جائز نہیں اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا بھی جائز نہیں۔ ۲۔اس کا بھی وہی حکم ہے جو عام پرنٹ شدہ تصویر کا ہے ،لہذا صرف ضرورت کے وقت جائز ہے ۔ ۳۔ ڈیجیٹل تصویر بھی اگرچہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے تصویر ہی ہے،البتہ اس کے تصویر ہونے یا نہ ہونے میں چونکہ ایک سے زیادہ فقہی آراء موجود ہیں،اس لیے صرف شرعی ضرورت جیساکہ جہاد اور دین کے خلاف پروپیگنڈوں سے دفاع اور صحیح دینی معلومات کی فراہمی کی خاطر یا اس کے علاوہ کسی واقعی اورمعتبردینی یادنیوی مصلحت کی خاطر ایسی چیزوں اور مناظر کی تصویر اور ویڈیو بنانے کی گنجائش ہےجن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلا عریانیت،موسیقی یا غیرمحرم کی تصاویر وغیرہ نہ ہوں۔ ایسی صورت حال میں عوام کے لئے یہ حکم ہےکہ عام مسائل میں جن مفتیان کرام کے علم وتقوی پر اعتما د کرتے ہیں اس مسئلے میں بھی انہی کی رائے پر عمل کریں اور اس طرح کے مختلف فیہ مسائل کو آپس میں اختلاف و انتشار کی بنیاد بنانے سے گریز کریں،البتہ احتیاط بہر حال دوسری رائے پر عمل کرنے میں ہے،جبکہ ہمارے نزدیک تیسری رائے راجح ہے۔

حوالہ جات

"المدونة "(1/ 182): "قال ابن القاسم: وسألت مالكا عن التماثيل وتكون في الأسرة والقباب والمنار وما أشبهها؟ قال: هذا مكروه وقال لأن هذه خلقت خلقا، قال: وما كان من الثياب والبسط والوسائد فإن هذا يمتهن، قال: وقد كان أبو سلمة بن عبد الرحمن يقول ما كان يمتهن فلا بأس به وأرجو أن يكون خفيفا ومن تركه غير محرم له فهو أحب إلي". "حاشية الصاوي على الشرح الصغير " (2/ 501): "والحاصل أن تصاوير الحيوانات تحرم إجماعا إن كانت كاملة لها ظل مما يطول استمراره، بخلاف ناقص عضو لا يعيش به لو كان حيوانا، وبخلاف ما لا ظل له كنقش في ورق أو جدار. وفيما لا يطول استمراره خلاف". "الذخيرة للقرافي "(13/ 285): "والمحرم من ذلك بإجماع ماله ظل قائم على صفة ما يحيى من الحيوان وما سوى ذلك من الرسوم في الحيطان والرقوم في الستور التي تنشر أو البسط التي تفرش أو الوسائد التي يرتفق بها مكروهة وليس بحرام في صحيح الأقوال لتعارض الآثار والتعارض شبهة".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔