021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عذاب قبر سے متعلق قرآنی آیات
..جنازے کےمسائلمردوں اور قبر کے حالات کا بیان

سوال

سوال:عذاب قبر سے متعلق آیات قرآن مجید کے کس پارے میں ہیں؟

o

عذاب قبر کا عقیدہ اسلام کے اہم عقائد میں سے ہے،جو قرآن مجیدکی کئی آیات اور احادیثِ متواترہ سے قطعی طور پر ثابت ہے،امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری کی کتاب الجنائز کے باب "ما جاء في عذاب القبر (عذاب قبر کا بیان)" میں عذاب قبر کے اثبات پر درج ذیل آیات سے استدلال فرمایا ہے: 1-{وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ} [الأنعام: 93] ترجمہ اور اگر تم وہ وقت دیکھو تو بڑا ہولناک منظر نظر آئے جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے کہہ رہے ہوں گے اپنی جانیں نکالو،آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا،اس لیے کہ تم جھوٹی باتیں اللہ کے ذمے لگاتے تھے اور اس لیے کہ تم اس کی نشانیوں کے خلاف تکبر کا رویہ اختیار کرتے تھے۔ 2-{ وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ } [التوبة: 101] ترجمہ: اور تمہارے ارد گرد جو دیہاتی ہیں ان میں بھی منافق لوگ موجود ہیں اور مدینہ کے باشندوں میں بھی،یہ لوگ منافقت میں اتنے ماہر ہوگئے ہیں کہ تم انہیں نہیں جانتے،انہیں ہم جانتے ہیں،ان کو ہم دو مرتبہ سزا دیں گے،پھر ان کو ایک زبردست عذاب کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ تفسیر ابن کثیر میں امام ابن کثیر رحمة اللہ علیہ دو بار کے عذاب سے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ ، قتادہ رضی اللہ اور ابن جریج رحمة اللہ اور محمد بن اسحٰق رحمة اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ پہلا عذاب دنیا کا عذاب اور دوسرا قبر کا عذاب ہوگا۔ 3-{فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ (45) النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ } [غافر: 45، 46] ترجمہ: نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں نے جو برے برے منصوبے بنا رکھے تھے،اللہ نے اس )مرد مؤمن( کو ان سب سے محفوظ رکھا اور فرعون کے لوگوں کو بدترین عذاب نے آگھیرا،آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح و شام پیش کیا جاتا ہے اور جس دن قیامت آجائے گی)اس دن حکم ہوگا کہ(فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔ تفسیر ابن کثیر میں امام ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے اس آیت کی تشریح کے ذیل میں "عذابِ قبر" سے متعلق کئی مستنداحادیث کاذکرکرنےسےپہلےلکھاہے: "وهذه الآية أصل كبير في استدلال أهل السنة على عذاب البرزخ في القبور" یعنی یہ آیت اہل سنت کے اس مذہب کی بہت بڑی دلیل ہے کہ عالم برزخ میں یعنی قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔ 4-{ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ } [إبراهيم: 27] ترجمہ :جو لوگ ایمان لائے ہیں اللہ ان کو اس مضبوط بات پر دنیا کی زندگی میں بھی جماؤ عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اور ظالم لوگوں کو اللہ بھٹکادیتا ہے اور اللہ )اپنی حکمت کے مطابق( جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں، وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو یہ اللہ کے اس فرمان کی تعبیر ہے جو سورۂ ابراھیم میں ہے کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ٹھیک بات یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے۔ شعبہ نے یہی حدیث بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ مذکورہ آیت) يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ (عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

حوالہ جات

"صحيح البخاري "(2/ 98): "عن البراء بن عازب رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إذا أقعد المؤمن في قبره أتي، ثم شهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فذلك قوله: {يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت} [إبراهيم: 27] " حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة بهذا - وزاد - {يثبت الله الذين آمنوا} [إبراهيم: 27] نزلت في عذاب القبر".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔