021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیجیٹل تصویر کا حکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

سوال:علماء سے سنا ہے کہ بت پرستی کی ابتداء تصویر سے ہوئی تھی،لہذا اسلام نے تصویر بنانے پر پابندی لگادی اور ایک حدیث کی رو سے ہر مصور جہنم میں جائے گا،آج کل کے دور میں دیکھا جائے تو امت ڈیجیٹل تصویر بنانے کے شوق میں بہت آگے جاچکی ہے،بڑے بڑے دیندار،بلکہ بعض علماء بھی اس میں مبتلا دیکھے گئے ہیں،کسی سے موبائل کے ذریعے تصویر بنانے کی بات کرو تو وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ علماء بھی تو تصویر بناتے ہیں اور ٹی وی پہ آتے ہیں،بعض لوگ یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ بہت سے علماء کے نزدیک ڈیجیٹل تصویر جائز ہے،بندہ کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جب واضح طور پر نظر آرہا ہےکہ ڈیجیٹل تصویر کے فتنے کی وجہ سے بہت سے شرفاء اور دیندار لوگوں نے بھی وال پیپر پر عورتوں کی تصاویر لگائی ہوئی ہوتی ہیں،تو علماء پھر کیوں ڈیجیٹل تصویر کو جائز کہہ رہے ہیں؟برائے مہربانی اس مسئلے کی وضاحت مندرجہ ذیل نکات کے تحت تحریر فرمادیں 1۔جو علماء ڈیجیٹل تصویر کے حق میں فتوی دیتے ہیں وہ کن دلائل کی بنیاد پر ایسا کہتے ہیں،جبکہ اس کے نتیجے میں امت کی گمراہی واضح ہے؟ 2۔انڈیا کے ایک بڑے عالم کا بیان سنا،جس میں انہوں نے فرمایا کہ جن لوگوں کی جیبوں میں کیمرے والا موبائل ہوتا ہے ان کی تو نماز بھی نہیں ہوتی،کیا ایسا ہی ہے؟ 3۔اگر ڈیجیٹل تصویر جائز ہے تو موبائل میں لڑکیوں کی یا فحش تصویریں رکھنے کو کیسے ناجائز کہاجاسکتا ہے؟نیز نوجوان نسل کو کیسے قائل کیا جائے کہ ایسی تصویریں رکھنا جائز نہیں،کیونکہ اس کے جواب میں وہ یہ کہتے ہیں کہ علماء بھی تو ایسی تصویریں بنواتے ہیں؟ 4۔کیا ویڈیوز بھی ڈیجیٹل تصویروں کے حکم میں ہی آتی ہیں؟اگر آتی ہیں تو جن علماء کے ویڈیو بیانات ٹی وی پہ آتے ہیں،یا کسی اور ذریعے سے شیئر ہوتے ہیں،کیا انہیں دیکھنا یا اپنے پاس رکھنا جائز ہے؟

o

اصل سوالات کے جوابات سے پہلے آپ یہ بات ذہن نشین فرمالیں کہ کپڑے اور کاغذ پر بنی ہوئی تصویر یعنی ایسی تصویر جو سایہ دار نہ ہو قطعی یا اجماعی طور پر حرام نہیں،اگرچہ جمہور فقہاء کا مذہب اس کے عدم جواز ہی کا ہے،لیکن بعض معتبر فقہاء اور محدثین،بلکہ تابعین رحمہم اللہ اس کے جواز کے بھی قائل ہیں،جن میں مدینہ منورہ کے مشہور فقہاء سبعہ میں سے قاسم بن محمد رحمہ اللہ بھی شامل ہیں: "المدونة "(1/ 182): "قال ابن القاسم: وسألت مالكا عن التماثيل وتكون في الأسرة والقباب والمنار وما أشبهها؟ قال: هذا مكروه وقال لأن هذه خلقت خلقا، قال: وما كان من الثياب والبسط والوسائد فإن هذا يمتهن، قال: وقد كان أبو سلمة بن عبد الرحمن يقول ما كان يمتهن فلا بأس به وأرجو أن يكون خفيفا ومن تركه غير محرم له فهو أحب إلي". "حاشية الصاوي على الشرح الصغير " (2/ 501): "والحاصل أن تصاوير الحيوانات تحرم إجماعا إن كانت كاملة لها ظل مما يطول استمراره، بخلاف ناقص عضو لا يعيش به لو كان حيوانا، وبخلاف ما لا ظل له كنقش في ورق أو جدار. وفيما لا يطول استمراره خلاف". "الذخيرة للقرافي "(13/ 285): "والمحرم من ذلك بإجماع ماله ظل قائم على صفة ما يحيى من الحيوان وما سوى ذلك من الرسوم في الحيطان والرقوم في الستور التي تنشر أو البسط التي تفرش أو الوسائد التي يرتفق بها مكروهة وليس بحرام في صحيح الأقوال لتعارض الآثار والتعارض شبهة". لہذا یہ عام اجتہادی مسائل کے طرح ایک اجتہادی مسئلہ ہی ہے،اس کو قطعی قرار دینا اس کی شرعی حیثیت بدلنے کے مترادف ہے اور مجتہد فیہ مسائل میں کسی ایک جانب کو بر حق اور دوسری رائے کو باطل قرار دینا اور فریق مخالف کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا شرعا اور اخلاقا درست نہیں۔ اس کے بعد ہاتھ کی تصویر کے علاوہ کیمرہ سے بنائی گئی تصویر میں ایک دوسرا علمی اختلاف موجود ہے کہ یہ شکل کی ایجاد ہے،یا پہلے سے موجود شعاعوں کو مرتکز کرکے یکجا جمع کرنے کی صورت ہے،پھر اس کے بعد ڈیجیٹل تصویر میں ایک اور جہت سے بھی علمی اختلاف ہے کہ چونکہ اس کو کسی مادی چیز پر استقرار)ٹک جانے کی کیفیت(حاصل نہیں ہے تو یہ ہاتھ سے بنی ہوئی تصویر کے حکم میں ہوگی یا شیشے کے عکس کے حکم میں؟ لہذا جب ڈیجیٹل تصویر کے حوالے سے تین درجات میں علمی و فقہی اختلاف موجود ہے،اس کے بعد اس کوقطعی حرام تصویر میں شامل کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔ نیز دیجیٹل تصویر کو جائز قرار دینے میں اگرچہ کچھ مفاسد نے جنم لیا ہے،لیکن موجودہ دور میں اس کے استعمال کو ترک کرنے میں بھی دینی اور دنیوی حرج لازم آتا ہے،کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب نہ صرف عالمی،بلکہ ملکی ذرائع ابلاغ بھی مساجدومدارس،دین اور اہل دین کے خلاف پروپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے،یورپ کی الحاد و تحریف سے پھرپور منڈیوں سے درآمد شدہ تجدد پسند اسکالرز اور ان کے ہمنوا ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر جس طرح اپنے زہریلے افکار و نظریات کا پرچارکررہے ہیں اور دینی شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں،ایسے حالات میں ان باطل پرستوں کے پروپیگنڈوں اور ان کی ریشہ دوانیوں کی بیخ کنی کے لیے وہی ہتھیار اور وسائل زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں جنہیں مخالفین کی جانب سے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس تمہید کے بعد اب آپ اپنے اصل سوالات کے جوابات ترتیب وار ملاحظہ فرمائیں: 1،4۔ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں علمائے کرام کی تین آراء ہیں: ۱۔یہ ناجائز تصویر کے حکم میں داخل نہیں ،بلکہ پانی یا آئینہ میں دکھائی دینے والے عکس کی مانند ہے،لہذا جس چیز کا عکس دیکھنا جائز ہے اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا بھی جائز ہےاور جس چیز کا عکس دیکھنا جائز نہیں اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا بھی جائز نہیں۔ ۲۔اس کا بھی وہی حکم ہے جو عام پرنٹ شدہ تصویر کا ہے ،لہذا صرف ضرورت کے وقت جائز ہے ۔ ۳۔ ڈیجیٹل تصویر بھی اگرچہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے تصویر ہی ہے،البتہ اس کے تصویر ہونے یا نہ ہونے میں چونکہ ایک سے زیادہ فقہی آراء موجود ہیں،اس لیے صرف شرعی ضرورت جیساکہ جہاد اور دین کے خلاف پروپیگنڈوں سے دفاع اور صحیح دینی معلومات کی فراہمی کی خاطر یا اس کے علاوہ کسی واقعی اورمعتبردینی یادنیوی مصلحت کی خاطر ایسی چیزوں اور مناظر کی تصویر اور ویڈیو بنانے کی گنجائش ہےجن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلا عریانیت،موسیقی یا غیرمحرم کی تصاویر وغیرہ نہ ہوں۔ ایسی صورت حال میں عوام کے لئے یہ حکم ہےکہ عام مسائل میں جن مفتیان کرام کے علم وتقوی پر اعتما د کرتے ہیں اس مسئلے میں بھی انہی کی رائے پر عمل کریں اور اس طرح کے مختلف فیہ مسائل کو آپس میں اختلاف و انتشار کی بنیاد بنانے سے گریز کریں،البتہ احتیاط بہر حال دوسری رائے پر عمل کرنے میں ہے،جبکہ ہمارے نزدیک تیسری رائے راجح ہے۔ 2۔یہ بات درست نہیں،جب نماز کی صحت کی دیگر شرائط کا اہتمام کیا گیا ہو تو اس کی وجہ سے نماز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ 3۔جو علماء ڈیجیٹل تصویر کے جواز کے قائل ہیں،ان کے نزدیک بھی صرف ان چیزوں کی تصاویر یا ویڈیوز بنانا جائز ہے جن کا خارج میں دیکھنا جائز ہے اور نامحرم لڑکیوں کی تصاویر کا خارج میں دیکھنا بھی جائز نہیں،خاص طور پر جب وہ فحش اور عریان بھی ہو تو ان کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے اور ان کا دیکھنا مزیدسنگین گناہ ہے،لہذا ڈیجیٹل تصویر کے جواز سے فحش اور عریان تصاویر کا جوازکسی بھی طرح لازم نہیں آتا۔

حوالہ جات

"التفسير المنير للزحيلي" (18/ 213): "قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصارِهِمْ أي قل يا محمد لعبادنا المؤمنين: كفّوا أبصاركم عما حرم الله عليكم، فلا تنظروا إلا إلى ما أباح لكم النظر إليه. والتعبير بالمؤمنين: إشارة إلى أن من شأن المؤمنين أن يسارعوا إلى امتثال الأوامر..... فإن وقع البصر على محرّم من غير قصد، وجب إغضاء الطرف وصرف النظر عنه سريعالما رواه مسلم في صحيحة وأحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن جرير بن عبد الله البجلي رضي الله عنه قال: «سألت النبي صلّى الله عليه وسلم عن نظرالفجأة، فأمرني أن أصرف بصري» . روى أبو داود عن بريدة قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلم لعلي: «يا علي لا تتبع النظرة النظرة، فإن لك الأولى، وليس لك الآخرة» . وفي صحيح البخاري عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلم: «إياكم والجلوس على الطرقات، قالوا: يا رسول الله، لا بدّ لنا من مجالسنا نتحدث فيها، فقال رسول الله صلّى الله عليه وسلم: إن أبيتم فأعطوا الطريق حقّه، قالوا: وما حقّ الطريق يا رسول الله؟ قال: غضّ البصر، وكفّ الأذى، وردّ السلام، والأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر» . وسبب الأمر بغض البصر هو سدّ الذرائع إلى الفساد، ومنع الوصول إلى الإثم والذنب، فإن النظر بريد الزنى، وقال بعض السلف: النظر سهم سمّ إلى القلب، ولذلك جمع الله في الآية بين الأمر بحفظ الفروج، والأمر بحفظ الأبصار التي هي بواعث إلى المحظور الأصلي وهو الزنى".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔