021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی کے موقع پرلڑکی والو کی طرف سے دعوت کا حکم
..نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ہمارے معاشرے بہت بے چینی اوراوربے حیائی پھیلی ہوئی ہےاورہر طبقہ سے متعلق افراد پریشان اور بے بس نظر آتے ہیں افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم مسلمانوں پر جب بھی کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو وہ اس کو یہود اورنصاری کی شازش کہہ کر اپنا دامن بچاتے ہیں حالانکہ حقیقت میں خرابی ہمارے اندرہوتی ہے جس کا فائد دشمنانِ اسلام اٹھاکرہمیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنتوں میں سے ایک سنت نکاح کی ہے ،یہ سنت عزت مآب گھرانے بلکہ عزت مآب معاشرے کا ضامن ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے تو زندگی کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا مگرنکاح کے معاملے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول اورعمل سے سادگی کو اپنا شعار بنایا،اپنی بیٹی فاطمہ سےلیکرصحابہ کرام کی بیٹیوں تک کی شادیاں سادگی کے ساتھ فرمائی، حالانکہ بعض صحابہ ان میں مالدار بھی تھے۔ ہمارے علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں اورعوام کا عمومی قاعدہ یہ ہے کہ وہ عالم کے قول سے زیادہ اس کے عمل کو اپناتے ہیں ،اب تکلیف دہ مقام یہ ہے کہ نکاح کے بعد رخصتی کی دعوت ہمارا طریقہ بن گیاہے اوررخصتی کہیں بھی سنت کے مطابق ہوتی نظرنہیں آتی عوام ہو یا خواص، علماءہوں یا صلحاء ،مفتیان کرام ہوں یاکوئی سب ہی ان دعوتوں میں شریک ہوتے ہیں، لڑکی والے چاہےکسی بھی حالت میں ہوں وہ اس کا اہتمام کرتے ہیں اورتمام تر وقت ،پیسہ اور صلاحیتیں ضائع کرکے رخصتی کرتے ہیں اورنہ جانے کتنی کتنی دعوتیں کر تے ہیں، جواب میں لڑکے والے ولیمہ دیتے ہیں گو کہ ولیمہ مسنون ہے مگر آج کل ہونے والی د عوت ِولیمہ بھی اسراف اورمنکرات سے بھری ہوئی ہوتی ہے، تمام تر منکرات ان علماءکے سامنے ہوتے ہیں اوروہ نہ منع کرتے ہیں اورنہ ہی ان چیزوں کا حصہ بننے سے گریزکرتے ہیں، ہمارے علماء اورمشائخ دونوں دعوتوں میں شریک نظر آتے ہیں ،اب وہ لوگ جوان چیزوں کی وجہ سے مالی اوراخلاقی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں وہ امید کی آخری کرن یعنی علماء حق سے بھی مایوس ہوجاتےہیں اور نتیجتاً نکاح کےثمرات ظاہر نہیں ہوتے زوجین اوران کے والدین بچوں کی شادیوں کے بعد سکون کا سانس نہیں لے پاتے ،شادی عزت کی حفاظت کے بجاے تجارت بن کررہ گئی ہے، اگرکوئی بندہ خدا ان ہو شربا خرچوں والی شادیوں کے خلاف آواز اٹھاتابھی ہے تو اسے حدیث ِرسول سناکر خاموش کروادیاجاتاہے کہ جب کوئی مسلمان تمہیں دعوت دے تو قبول کرو،محترم جود عوت میزبان کو کنگال اورمقروض کرکے رکھ دے ،جو اس کو ہاتھ پھیلانے پر مجبورکردے ، اس کی عزت نفس کومجروح کردے بھلاوہ بھی کوئی د عوت ہوتی ہے؟ میری انتہائی پرخلوص گزارش ہے کہ علماء کرام اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں صرف اپنے نہیں بلکہ دوست ،احباب کو بھی اس بات کا پابند کریں کہ وہ ایسے نکاح نہ پڑھائیں کہ جس میں دعوت یا منکرات کا احتمال ہو۔

o

لڑکی والوں کی طرف سے مہمانوں کو کھانا کھلانا نہ ولیمہ کےحکم میں ہے اورنہ ہی کوئی سنت یا مستحب عمل، لہذا اسےولیمہ یا مستحب سمجھنا درست نہیں ،نیز مستحب سمجھے بغیررسم کے دباؤکے تحت کھلانا بھی درست نہیں، البتہ اگر کوئی ریا ونمودسے بچتےہوئے، اس کو ولیمہ یا سنت اورمستحب یا رسم کے تحت لازم سمجھےبغیراعتدال کے ساتھ شادی میں شرکت کرنے والے مہمانوں کو کھلادے تو فی نفسہ یہ ایک مباح امر ہوگا،جس میں کوئی قباحت نہیں، لیکن آج کل شادی کے موقع پر جو دعوتیں ہوتی ہیں ان میں تکلفات اوراسراف زیادہ ہوتاہے جوکہ مزاجِِ شریعت کے خلاف ہے،لہذا اس میں اعتدال پیداکیاجائے ورنہ یہ سلسلہ بالکل ختم ہی کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ لڑکی کی شادی میں شریک مہمانوں کو کھاناکھلانا اس لیے جائز ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ یہ بذاتِ خود مسنون یا مستحب عمل نہیں نیز یہ ولیمہ مسنونہ بھی نہیں، اسی وجہ سے صحابہ کے زمانہ میں اس کا عام رواج نہیں تھا، لیکن آخر یہ مہمان جوباقاعدہ شادی میں شریک ہیں ،کھانا کہاں سے کھائیں گے؟نبی کریم ﷺ نے مہمان کے اکرام کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ بعض حضرات حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کے نکاح کے واقعہ سے بھی اس کے جواز پر استدلال کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کو نکاح کرانے کا فرمایاتھا اورخالد بن سعید نکاح کے وکیل تھے نکاح کے بعد اسی مجلس میں نجاشی نے حاضرین کو کھانا بھی کھلایا تھا۔جیسے کہ مستدرک حاکم کی درج ذیل روایت میں درج ہے۔ المستدرك على الصحيحين للحاكم (4/ 22) ثم أرادوا أن يقوموا، فقال: اجلسوا فإن سنة الأنبياء عليهم الصلاة والسلام إذا تزوجوا أن يؤكل الطعام على التزويج فدعا بطعام فأكلوا، ثم تفرقوا. اس پر مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ نے لکھاہے : ولیس ذلک بولیمۃ بل ھو طعام التزویج ویلحق بہ ماتعارفہ المسلموں من نثرالتمرونحوہ فی مجلس النکاح (اعلاء السنن ۱۱/۱۲) یہ تومسئولہ مسئلے کا اصل حکم تھا، تاہم چونکہ موجودہ زمانہ میں اس میں بہت اسراف ہوتاہے اوربعض معاشروں میں تو اس کو ایک درجے میں لازم سمجھا جاتا ہے حتی کہ اس کےلیے اپنے پاس پیسے نہ ہوں تو قرض بھی لیا جاتا ہے اورمقصد صرف ناک کی حفاظت اورلوگوں کے طعنوں سے بچناہوتاہے، ایسی صورتِ حال میں اس عوت ترک کرنا ہی بہتر اورمزاج شریعت سے ہم آہنگ ہے دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ علماء کو اپنی تقریر،تحریر اورعمل سے لوگوں کو اس سے روکنا چاہیے اور حکمت کے ساتھ اس کی تبلیغ کرناچاہئے ۔

حوالہ جات

.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔