021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
انڈوں کے ذریعہ ہارجیت کاکھیل
..نماز کا بیاننماز کےمتفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام کہ ہمارے گاؤں میں ایک میلہ لگتا ہے ، جس میں انڈا بازی ہوتی ہے ،انڈا بازی کامطلب ؛ کہ دو لڑکے اپنا اپنا انڈا لیکر آتے ہیں پھر آپس میں یہ طئے کرتے ہیں کہ کس کا انڈا نیچے ہوگا اورکس کا اوپر ہوگا۔یہ طئے کرلینے کے بعد وہ انڈے ایک دوسرے پر مارے جاتے ہیں ، پس جس کا انڈا ٹوٹ گیا وہ ہار جاتا ہے ، دوسرا دونوں انڈے لے جاتا ہے ، جس میں ایک اسکا ہوتا ہے دوسرا ہارنے والے کا ، یہ بات بھی واضح رہے کہ جن انڈوں سے ہار جیت کا کھیل ہوتاہے وہ ابلے ہوئے ہوتے ہیں ، یہ رسم کوئٹہ کے تقریبا تمام علاقوں میں جاری ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ انڈا بازی کا کھیل شرعا جائز ہے یانہیں ؟

o

سوال میں مذکور طریقہ پر انڈابازی کاکھیل کھیلنا جوا قمار ، وقت کا ضیا ع اور دیگر مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے ، ایسے ناجائز کھیل سے اجتناب کر نا ہر مسلمان پر لازم ہے ، علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ عوام اور بچوں کو اس طرح کے ناجائز کھیلوں سے بچائیں ، والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے اور بچوں کے اعمال کا جائزہ لیں اور اس طرح کے ناجائز کھیلوں سےخود بھی پرہیز کریں اور بچوں کوبھی بچانے کی فکر یں ۔ قولہ تعالی ؛

حوالہ جات

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ (91) وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ } [المائدة: 90 - 92] حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ؛ شطرنج بھی قمار میں داخل ہے ، تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ہر وہ چیز جوقمار میں داخل ہے وہ میسر ہی کے حکم میں ہے یہاں تک بچے جو اخروٹ وغیرہ سے کھیلتے ہیں وہ بھی قمار میں داخل ہے ۔ اور حضرت راشد بن سعد اور حمزہ بن حبیب کا قول بھی یہی ہے کہ بچے جو لکڑیوں سے یااخروٹ اور انڈوں سے ہار جیت کاکھیل کھیلتے ہیں وہ بھی قمار ہے ۔ تفسير ابن كثير ت سلامة (3/ 178) وَقَدْ وَرَدَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ: الشَطْرَنج مِنَ الْمَيْسِرِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيس بْنِ مَرْحُومٍ، عَنْ حَاتِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، بِهِ. وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ (1) حَدَّثَنَا وَكِيع، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْث، عَنْ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ وَطَاوُسٍ -قَالَ سُفْيَانُ: أَوِ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ-قَالُوا: كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْقِمَارِ فَهُوَ مِنَ الْمَيْسِرِ، حَتَّى لَعِبِ الصِّبْيَانِ بِالْجَوْزِ. رُوي عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ وَحَمْزَةَ بْنِ حَبِيبٍ (2) وَقَالَا حَتَّى الْكَعَابِ، وَالْجَوْزِ، وَالْبَيْضِ الَّتِي (3) تَلْعَبُ بِهَا الصِّبْيَانُ، وَقَالَ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: الْمَيْسِرُ هُوَ الْقِمَارُ. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 402) (إن شرط المال) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا (قوله من جانب واحد) أو من ثالث بأن يقول أحدهما لصاحبه إن سبقتني أعطيتك كذا، وإن سبقتك لا آخذ منك شيئا أو يقول الأمير لفارسين أو راميين من سبق منكما فله كذا، وإن سبق فلا شيء له اختيار وغرر الأفكار (قوله من الجانبين) بأن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا زيلعي وكذا إن قال إن سبق إبلك أو سهمك إلخ تتارخانية (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔