021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوران نماز غیر نمازی سے آیت سجدہ سننے کا حکم
..نماز کا بیانسجدہ تلاوت کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نمازی کے قریب تلاوت کررہا تھا،اس نے آیت سجدہ پڑھی جس کو نمازی نے بھی سن لی،تو کیا وہ سجدہ تلاوت نماز میں کرے یا نماز کے بعد؟

o

اس صورت میں سجدہ تلاوت تو واجب ہے لیکن ایسے سجدہ کا نماز میں ادا کرنا جائز نہیں،لہذا نماز سے فارغ ہوکر ادا کرنا ہوگا۔

حوالہ جات

قال ملک العلماء الکاسانی رحمہ اللہ تعالی:" وبخلاف ما إذا سمع المصلي ممن ليس معه في الصلاة حيث يسجد خارج الصلاة؛ لأن السجدة وجبت عليہ، وليست من أفعال الصلاة؛ لأن تلك التلاوة ليست من أفعال الصلاة؛ لعدم الشركة بينه وبين التالي في الصلاة، والوجوب عليه بسبب سماعه، والسماع ليس من أفعال الصلاة ،وإذا لم يكن من أفعال الصلاة، أمكن أداؤها خارج الصلاة،فيؤدى." (بدائع الصنائع:1/188،دار الکتب العلمیۃ) وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی:"( ولو سمع المصلي) السجدة (من غيره لم يسجد فيها)؛لانها غير صلاتية (بل) يسجد (بعدها)؛لسماعها من غير محجور (ولو سجد فيها لم تجزه)؛لانها ناقص للنهي، فلا يتأدى بها الكامل (وأعاده) أي السجود لما مر." (الدر المختار:2/121)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔