021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگر فلاں دن فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا گیا تو ٹھیک ورنہ اس دن کے بعد اگر اس لڑکی سے نکاح کروں تو مجھ پر تین طلاق۔
62047/57طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اِس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی نے یہ کہا کہ اگر فلاں دن فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا گیا تو ٹھیک ورنہ اس دن کے بعد اگر اس لڑکی سے نکاح کروں تو مجھ پر تین طلاق۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر اِس متعینہ دن میں نکاح نہ ہو سکے تو بعد میں اس لڑکی سے نکاح کی کوئی صورت بن سکتی ہے یا نہیں؟رہنمائی فرمائیں!

o

متعینہ دن نکاح نہ ہونے کے بعد صرف اِس صورت میں نکاح ہوسکتا ہےکہ کوئی شخص جوآپ کے اس حال سے واقف ہو وہ بغیر آپ کے کہے ازخود اس لڑکی کا نکاح آپ سے کردے،یعنی وہ آپ کی طرف سے آپ کے لیے ایجاب یا قبول کرلے،مثلا:لڑکی کے والد سے کہے کہ آپ اپنی فلاں لڑکی کا نکاح فلاں یعنی آپ سے کردیں ،میں ان کی طرف سے قبول کرتا ہوں۔اگر دو مسلمان گواہوں کے سامنے یہ ایجاب و قبول ہوجائے اور پھر وہ شخص آپ سے آکر کہے کہ میں نے فلاں لڑکی کو آپ کے لیے نکاح میں قبول کرلیا ہے،آپ انگوٹھی یا کچھ نقد دیجیے تاکہ بطورمہر معجل آپ کی طرف سے اس کودے دوں۔ آپ زبان سے کچھ نہ کہیں،خاموش رہیں اور انگوٹھی یا کچھ نقد دیدیں۔وہ شخص اس لڑکی کے پاس پہنچا دے کہ یہ تمہارے شوہر نے دیا ہے،بس اس طرح نکاح ہوجائے گا اور کوئی طلاق نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

قال العلامة الحصكفي رحمه الله:(شرطه الملك،كقوله لمنكوحته) أو معتدته:(إن ذهبت فأنت طالق) (أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك، لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق). (الدر المختار مع رد المحتار :3/ 344) وقال رحمه الله أیضا:(حلف: لا يتزوج، فزوجه فضولي، فأجاز بالقول حنث، وبالفعل) ومنه الكتابة خلافا لابن سماعة (لا) يحنث ،به يفتى .خانية. قال العلامة الشامي رحمه الله:قوله: )حنث): هذا هو المختار،كما في التبيين، وعليه أكثر المشايخ ،والفتوى عليه، كما في الخانية .وبه اندفع ما في جامع الفصولين من أن الأصح عدمہ.بحر. قوله:(وبالفعل) كبعث المهر أو بعضه بشرط أن يصل إليها، وقيل :الوصول ليس بشرط ، نهر .وكتقبيلها بشهوة وجماعها، لكن يكره تحريما ؛لقرب نفوذ العقد من المحرم، بحر.قلت: فلو بعث المهر أولا لم يكره التقبيل والجماع ؛لحصول الإجازة قبله. (الدر المختار:3/ 846) قال العلامة الزيلعي رحمه الله:(حلف لا يتزوج،فزوجه فضولي،وأجاز بالقول، حنث) ؛لأن الإجازة اللاحقة كالوكالة له السابقة ،كأنه وكله في الابتداء، ولهذا يثبت للفضولي حكم الوكيل ،وللمجيز حكم الموكل .قال رحمه الله: (وبالفعل لا) أي لو أجاز بالفعل لا يحنث .وقيل يحنث؛ لما أن الإجازة اللاحقة كالوكالة السابقة. وعن محمد رحمه الله: أنه لا يحنث بهما ؛لأن الإجازة ليست بإنشاء العقد حقيقة، وإنما ينفذ بالرضا بحكم العقد ،وبه كان يفتي بعض المشايخ، والمختار الأول ؛لأن المحلوف عليه هو التزوج، وهو عبارة عن العقد، والعقد يختص بالقول، ولا يكون بالفعل. وإنما ينفذ عليه ببعض الأفعال،كالوطء وإيفاء المهر ونحو ذلك ؛لدلالته على الرضا بالعقد ،لا لأنه عقد. (تبيين الحقائق :3/ 162)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔