| 83963 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
( 1 )میرا رشتہ میری پھُوپھی کی بیٹی فاطمہ سے طے تھا ۔پھُوپھی کو میں موٹرسائیکل پر بٹھاکر ڈاکٹر کے پاس لے گیا ، سہارے کے لئے میرے کندھے پر دوہرے کپڑےکے اوپراس نے ہاتھ رکھےہوئے تھے ، میں نے وہ کپڑا دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے مفتی اور ایک دوسرے مفتی صاحب کو دکھایا تھا،دونوں نے یہی جواب دیا کہ اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی اور پھُوپھی کی بیٹی فاطمہ سے نکاح جائز ہے ،بلکہ دارالعلوم دیوبند کے مفتیانِ کرام نے مجھے یہاں تک فرمایا کہ اگرشہوت سے بھی اس طرح کے دوہرےکپڑےکے اوپر سے چھوا جائے تو بھی حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی ۔ پھر بھی میں نے پھُوپھی سے بعد میں پوچھا، ان کے بقول ان میں شہوت نہیں تھی، اور میرا غالب گمان بھی یہی ہے کہ میرے اندر اس وقت شہوت نہیں تھی ،وقت اور حالات سے بھی یہی لگتا ہے۔کیونکہ راستہ میں کافی بھیڑ تھی ،جس کی وجہ سے میرا پورا دھیان راستہ اور موٹرسائیکل چلانے پر تھا ۔یہ اصل اور حقیقی صورت ہے جو میرے ساتھ پیش آئی ،کیا اس اصل اور حقیقی صورت حال کے مطابق حرمتِ مصاہرت ثابت ہوئی ؟
(2) ہم سے بعد میں یہ مسئلہ پوچھنے میں دو طرح غلط بیانی ہوئی: پہلی یہ کہ میں نے یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے ایک دارالافتاء کو سوال لکھا ،جس میں شہوت کےساتھ چھونے کا غلط اقرار کیا ،حالانکہ مجھے پہلے بھی شہوت ہونے یا نہ ہونے کا بالکل یقین نہیں تھا اور نہ اب ہے، محض شک و شبہ تھا۔ اس بات پر میں اللہ کی قسم کھا تا ہوں ۔ بس مسئلہ پوچھنے میں غلط اقرار کر بیٹھا۔
دوسری غلط بیانی یہ ہوئی کہ ایک دن میں نے دارلعلوم دیوبند کا ایک فتوی پڑھا کہ کوئی شخص اگر بیوی کے سامنے مذاق میں یہ بولے کہ میں نے تمہاری ماں کے ساتھ زنا کیا ،تو اُس سے قضاءًحرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے ۔یہ فتوی پڑھنے کے بعد یہ مسئلہ جاننے کی غرض سے ہم نے ایک دارالافتاء کو یہ سوال لکھ کر بھیجا :"حامد کی ساس کسی کام میں مشغول تھی اور حامد وہیں پر تھا ، غلطی سے ساس کا ہاتھ حامدکے کندھے پر لگ گیا۔حامد نے بیوی سے مذاق میں کہا کہ میں نے تیری ماں کو شہوت سےچھوا ،حالانکہ ہاتھ موٹے کپڑے پر سے لگا تھا ،مفتی بہ قول کے مطابق اس کپڑے پر سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ حامد کو شہوت کا یقین نہیں، غالب گمان کے مطابق بھی اس وقت شہوت نہیں تھی اور حامد کی ساس کےبقول اس میں بھی شہوت نہیں تھی ۔دارالعلوم دیو بند کا فتوی ہے کہ اس طرح سے بیوی کے سامنے ساس سے زنا کے غلط اِقرار سے قضاءً حرمتِ مصاہرت ہوجاتی ہے۔"
یہ سوال دارالافتاء کو بھیجا تھا ، جو صورت حال مجھے اصل میں پیش آئی تھی اس کے بارے میں مسئلہ پوچھنے کی غرض سے اسی طرزپر ہم نےسوال لکھا،بس فرق اتنا تھا کہ نہ تومیری ابھی شادی ہوئی ہے ، نہ ہی میری بیوی اور ساس ہے ، نہ ہی میں نے ہونے والی بیوی کے سامنے مذاق میں ایسا بولا ہے، اور نہ ہی میں نے ہونے والی ساس کو شہوت سے چھوا۔ہونے والی ساس کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے وقت دہرےکپڑےکے اُوپر سے کندھے پر ہاتھ رکھنے کا واقعہ تو پیش آیا تھا جو کہ نمبر 1 میں اوپر لکھ چکا ہوں، اوراپنےنام کی جگہ حامدکا نام لکھ کر سوال کیا تھا۔ مسئلہ جاننے کی غرض سے فرضی ، بے مقصد اور غلط بیانی والا سوال تو لکھ دیا،لیکن جب احساس ہوا تواب بے چین ہوں ۔لہذا یہ پوچھنا ہے کہ حقیقی صورت حال کے مطابق میرا نکاح فاطمہ سے جائز ہے یا نہیں ؟ہونے والی بیوی کو غلط بیانی کا پتا ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق پڑےگا یا نہیں؟ جس طرح طلاق کے مسئلہ میں گواہ بنائے بغیر جھوٹی طلاق کی خبر دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے،کیا اس کے برخلاف اس مسئلہ میں مجھےگواہی سے ثابت کرنا ہوگا ؟حالانکہ اس بات کی گواہ تو فاطمہ خود ہے، وہ بھی ساتھ گئی تھی اور اس نےیہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ اُس کی ماں کا ہاتھ دہرے کپڑے کے اوپر تھا۔
دارالعلوم دیوبند کی عبارت اور حوالہ:
(سوال)اگر کوئی بیوی سے مذاقا کہے کہ میں نے تیری ماں سے زنا کیاہے ، گواہ بھی موجود تھے، حالانکہ حقیقت میں زنا نہیں کیا ،تو کیا حرمت مصاحرت ہوگی؟
(جواب) مذاقاً بھی اگر کوئی اپنی بیوی کے سامنے ساس سے زنا کا اقرار کرے تو قضاءً حرمتِ مصاہرت کا ثبوت ہوجائے گا۔ درمختار میں خلاصہ سے منقول ہے:وفی الخلاصة قیل لہ ما فعلت بأم امرأتک فقال: جامعتہا تثبت الحرمة؛ ولا یصدق أنہ کذب ولو ہازلا.( الدر المختار) وفی ردالمحتار: (قولہ: ولا یصدق أنہ کذب إلخ) أی عند القاضی، أما بینہ وبین اللہ تعالی إن کان کاذبا فیما أقر لم تثبت الحرمة.( رد المحتار علی الدر المختار:4/ ،ط:زکریا دیوبند)
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسؤلہ میں حرمتِ مصاہر ت ثابت نہیں ہوئی ،لہذا پھوپھی کی بیٹی سےنکاح کرنا جائز ہے،کیونکہ شہوت کےبغیر ٍصرف چھونے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ۔ فقہاء کرام کے نزدیک شہوت کےساتھ چھونے کا مطلب یہ ہےکہ دونوں کےدرمیان کوئی موٹا کپڑا حائل نہ ہو ، عورت کی عمر اتنی ہو کہ جس کی طر ف دل میں میلان پیدا ہو، اور اس کو چھونے سے عضومخصوص میں انتشار پیدا ہو یا انتشار میں اضافہ ہو ۔صورت مسئولہ میں آپ اور آپ کی پھوپھی میں سے کسی ایک نے بھی دوسرے کو شہوت کےساتھ نہیں چھوا ،اوراگر شہوت کےساتھ چھوا بھی ہوتو موٹا کپڑا حائل ہونے کی وجہ سے اس کا اعتبار نہیں ۔مزید یہ کہ موٹا کپڑا حائل ہونے کی وجہ سےشہوت کےساتھ چھونے کا جھوٹا اقرار بھی غیر معتبر ہے۔
واضح رہےکہ دارالعلوم دیوبند کا فتوی ساس کےساتھ زنا کا جھوٹا اعتراف کرنےسے متعلق ہےاورزنا میں شہوت کا ہونا یقینی ہے، اس لیے زنا کا جھوٹااقرار کرنے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجا تی ہے ،جبکہ ہاتھ سے چھونے کےدوران شہوت کا ہونا یقینی نہیں ،لہذا جب تک مذکورہ بالا شرائط کےمطابق شہوت کےساتھ چھونا ثابت نہ ہو، اس وقت تک حرمت مصاہر ت ثابت نہیں ہوگی ۔ صورت مسؤلہ میں مذکورہ بالا شرائط کے مطابق شہوت کےساتھ چھونا ثابت نہیں،اس لیےشہوت کےساتھ چھونے کاجھوٹا اقرار کرنے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 63):
وكما ثبتت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمسّ والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا إذا كان المحل مشتهاه، ولا تثبت هذه الحرمة بالنظر إلى سائر الأعضاء وإن كان عن شهوة وحدالشهوة: أن تنتشر آلته إليه بالنظر إلى الفرج أو المس إذا لم يكن منتشراً قبل هذا، وإذا كان منتشراً فإن كان يزداد قوة و..... بالنظر والمسّ كان ذلك عن شهوة وما (لا) فلا، وهذا إذا كان شاباً قادراً على الجماع.... المسّ إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقاً لا يجد حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة، وإن انتشرت آلته إليهابذلك، وإن كان رقيقاً بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت حرمة المصاهرة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 35):
(قبل أم امرأته) في أي موضع كان على الصحيح جوهرة (حرمت) عليه (امرأته ما لم يظهر عدم الشهوة) ولو على الفم كما فهمه في الذخيرة (وفي المس لا) تحرم (ما لم تعلم الشهوة) لأن الأصل في التقبيل الشهوة، بخلاف المس (والمعانقة كالتقبيل) وكذا القرص والعض بشهوة، ولو لأجنبية وتكفي الشهوة من أحدهما.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 38):
وفي الخلاصة قيل له ما فعلت بأم امرأتك فقال: جامعتها تثبت الحرمة؛ ولا يصدق أنه كذب ولو هازلا.(وتقبل الشهادة على الإقرار باللمس والتقبيل عن شهوة وكذا) تقبل (على نفس اللمس والتقبيل) والنظر إلى ذكره أو فرجها (عن شهوة في المختار) تجنيس لأن الشهوة مما يوقف عليها في الجملة بانتشار أو آثار.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
10 /محرم/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


