021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچے کے کان میں اذان دینےوالے کوہدیہ دینے کا حکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانہدیہ اور مہمان نوازی کے مسائل

سوال

بچے کے کان میں اذان دینے کے بعد گھر والے بطورِ شرینی(ہدیہ) کے کچھ دیتے ہیں۔کیا اس کا لینا جائزہے یا نہیں؟

o

جائز ہے،کیونکہ یہ ان کی طرف سے ہدیہ ہے اور ہدیہ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي :بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيہ،(وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي،كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور: يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة ،نهاية مندوبة ،وقبولها سنة. قال صلى الله عليه وسلم :«تهادوا تحابوا» . (الدر المختار مع رد المحتار :5/ 687)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔